سب میرے ایک لیکچر کی مار ہے


zeeshan hashim  روزنامہ خبریں لاہور اٹھارہ فروی 2016ء کو انجینئر فرید اختر کا اشتہار ہے: ”بنام اہل علم اور صاحب اقتدار ، نیوٹن کا قانون برائے کشش ثقل اور حال ہی میں ہونے والی کشش ثقل کی لہروں پر تحقیق مکمل طور پر غلط ہے – زمین کی کشش ثقل ہوتی ہی نہیں – حقائق کچھ اور ہیں۔ یہ صرف ایک لیکچر سے ثابت ہو سکتا ہے -“

ہماری یہ ہر دم انکار پہ مائل نفسیات جس کا اظہار اس اشتہار سے ہوتا ہے محض سائنس و ٹیکنا لوجی تک محدود نہیں بلکہ ہم جدید علوم کے ہر شعبہ کو غیر تعمیری شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں – سائنس کا کوئی بھی بنیادی اصول ہمارے کسی نیم حکیم دانشور کی محض ایک تحریر کی مار ہے – چاند پر پہنچنے کی حیرت انگیز سائنسی کامیابی ہو یا آئین سٹائن کے نظریات ، ایک طرف ہمارا روایتی دانشورانہ کلچر انکار کی لگام تھامے ہوئے ہے تو دوسری طرف ایک گروہ ہر سائنسی دریافت و انکشاف کو اسلامائز کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے – مذہبی مابعدالطبیعات کو آئین سٹائن یا دوسرے سائنسدانوں کی تحقیقات سے ثابت کرنے کی غیر معقول و غیر سائنسی کوششیں ہمارے لکیر کے فقیر طلبا کو ایک طرف سائنسی منہاج سے متعلق اندھیرے میں رکھتی ہیں تو دوسری طرف خواہ مخواہ کا احساس تفاخر بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ یہ سب تو صدیوں پہلے بیان کر دیا گیا تھا جس کا انکشاف یہ بے وقوف مغربی لوگ اب کر رہے ہیں –

 یہ تخریب کار شک کی نفسیات ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی سائنسی منہاج یا طرز فکر کے فروغ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے – جب تک آپ معلوم حقائق کا کھلے دل سے جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک آگے کیسے بڑھ سکیں گے۔ جب تک طالب علم کے اندر سائنسی طرز فکر پیدا نہیں ہو گی اس وقت تک سائنسی انکشافات کا سفر شروع ہونے والا نہیں۔ مغرب نے جب تک ڈیکارٹ، بیکن اور گلیلیو کے ذریعے اپنے فلسفیانہ نفسیاتی مسائل حل نہیں کئے ، وہ آگے نہیں بڑھ سکے تھے – سائنسی طرز فکر ماں ہے جو ایجادات، دریافتوں اور اختراعات کی صورت میں اپنے بچے پیدا کرتی ہے اور اقوام مغرب میں سائنس کے تمام شعبے بشمول سوشل سائنس اسی مخصوص طرز فکر کے سبب ساتھ ساتھ چلے ہیں۔

sketch سوشل سائنسز کا معاملہ ہی دیکھ لیں – ہم اس علم میں ہنوز ابتدائی درجے پر ہیں – سماجی علوم کی ہر تحقیق کو ہم لمحوں میں جھٹلا دیتے ہیں۔ اسے مغرب کی سازش سمجھتے ہیں۔ اس نفسیات کا شکار محض رجعت پسند اذہان نہیں جو ہر سائنسی انکشاف کو دیوانے کی بڑ سجھتے ہیں بلکہ ہمارے ترقی پسند اذہان بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ہم میں تنقید کا مادہ خطرناک حد تک بہت زیادہ ہے جو صرف تنقید براے تنقید کی بدترین حالت میں ہے۔ تنقید براے تعمیر کا اول درجہ کسی فکر میں خامیوں اور خوبیوں کا بے باک تجزیہ ہے – آغاز تنقید فکر سے ہوتا ہے اور تطہیر فکر سے ہوتے ہوئے تعمیر فکر کی منزل تک پہنچا جاتا ہے۔ ایک سچا دانشور وہ ہے جس کا عزم موجود ذخیرہ علم کا محض تنقیدی جائزہ لینا نہیں بلکہ اس میں تخلیقی و پیداواری حصہ ڈالنا بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسی دانشوارانہ ثقافت ہمارے ہاں عنقا ہے –

کشش ثقل کا نظریہ ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے۔

جمہوریت کا پورا سیاسی نظام ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے۔

سیکولرازم کا نظریہ ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے۔

آزاد منڈی (فری مارکیٹ) کا پورا معاشی نظام ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے –

فرد و سماج کا موضوع بھی ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے۔

پورا تاریخی ارتقا ہمارے ایک لیکچر کی مار ہے۔

ڈارون اور اس کے بعد کی جنیٹک بیالوجی بھی ایک لیکچر کی مار ہے۔

مذہب اور اس کا مقدمہ بھی محض ایک لیکچر کی مار ہے –

مارکس ہو یا ایڈم سمتھ یا پھر جان سٹارٹ مل، یہ سب ایک اخباری مضمون کی مار ہیں –

قیام پاکستان اور اس میں قائد اعظم اور اقبال کا کردار محض ایک فیس بکی پوسٹ کی مار ہے-

ڈیکارٹ سے لے کر بیکن اور گلیلیو تک یہ سب ایک کتاب کی مار ہیں –

ہم دنیا بھر کے علوم پر ایک چٹکی میں تبصرہ کر سکتے ہیں اور ان مسائل کا حل بھی ہماری ایک چٹکی میں ہے۔ ہم صرف حالت انکار میں ہی نہیں بلکہ حالت نزاع میں بھی ہیں۔ خود سے لڑ رہے ہیں – ہم ایک مستقل امید میں ہیں کہ اس بار اصلی والا ہیرو جنم لے پائے گا مگر بے یقینی خوف دکھ اور نااہلی کے ایسے سائے ہیں کہ چھٹ ہی نہیں رہے – جس در سے آس لگائے بیٹھے ہیں، صدیاں بیت گئیں مگر وہ دروازہ کبھی کھلا نہیں- کیونکہ ہم شک، تحقیق اور تنقید کا اسم اعظم سیکھنے سے انکاری ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

6 thoughts on “سب میرے ایک لیکچر کی مار ہے

  • 22-02-2016 at 8:33 pm
    Permalink

    آپ کا یہ نالہ بلبل نما آرٹیکل میرے ایک مرکب سے لفظ کی مار ہے
    “دیسی لبرل ” ☺

  • 22-02-2016 at 8:38 pm
    Permalink

    فرید اختر جیسے برزجمہروں کا پندار بھی بس ایک پھونک کی مار ہے۔

  • 23-02-2016 at 9:40 am
    Permalink

    جھوٹ کو سچ ثابت کرنا مولوی کے ایک لیکچر کی مار ہے۔

  • 23-02-2016 at 1:05 pm
    Permalink

    There isnt any such add in “Khabrain” 18th February on page 4 or any pther page. Mr Zeeshan has composed a very good blog but didn’t took a few minutes to confirm the authenticity.

    Regards,

  • 23-02-2016 at 2:02 pm
    Permalink

    خدا کے بندے اتنا بڑا بلاگ لکھ ڈالا 18 فروری کا خبریں کھول کر دیکھ تو لیا ہوتا اس میں ایسا کوئی اشتہار نہیں ہے

    • 23-02-2016 at 5:25 pm
      Permalink

      but what ever he write that is true in our culture

Comments are closed.