لاہوری بسنت کی کٹی ہوئی پتنگ


adnan Kakar

محض چند سال پہلے کی بات ہے لیکن صدیوں پرانی لگتی ہے کہ ایک نسل گزر گئی ہے۔ جنوری کے چڑھتے ہی دن گنے جانے لگتے تھے۔ ایسی تیاریاں ہوتی تھیں جو عید پر بھی نہیں کی جاتی تھیں کہ عید پر تو محض بکرا کاٹنے یا پھر عیدی سے عیاشی کرنے کی موج ہوتی تھی، اور باقی سارا دن سو کر ہی گزرتا تھا مگر یہ تو پورے دو دن کی عیاشی تھی جس کے آگے عید ماند پڑ جاتی تھی۔

پیسے جمع کئے جاتے تھے۔ دوستوں رشتے داروں سے مل کر پلاننگ کی جاتی تھی۔ کسی کے ذمے ایسی ڈور کی تیاری ہوتی تھی جو محلے میں شرمندہ نہ ہونے دے، تو کوئی اندرون شہر کے سب سے زیادہ ماہر پتنگ ساز سے پتنگیں لانے کا پابند کیا جاتا تھا۔

فروری کے دوسرے اتوار کو بسنت ہوتی تھی اور لاہور کے لئے جہاز کی سیٹ ملنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ سارے ملک سے ہی کیا، ساری دنیا سے لاہوریے اور بسنت کے عاشق داتا کی نگری کا رخ کرتے تھے۔ لگتا تھا کہ لاہور بنا ہی اس مقصد کے لئے ہے کہ یہاں سال میں ایک مرتبہ بسنت منائی جائے، اور باقی سارا سال اس کے سرور میں گزارا جائے۔

پھر ہفتے کی سہ پہر سے ہی سارا لاہور چھت پر چڑھ جاتا تھا اور ساری رات پتنگ بازی ہوتی تھی۔ لیکن اصل میلہ تو اتوار کی صبح کو لگتا تھا۔ صبح سویرے ہی گڈیاں (پتنگیں) ہوا میں بلند ہوتی تھیں۔ ایک دو پیچ لگتے تھے۔ اور یہ تعین کیا جاتا تھا کہ اس بسنت پر کون کون سی چھت حریفوں کی ہے جو کہ پیچ لڑانا جانتے ہیں اور مکمل تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔ ایک ایک چھت سے کئی کئی پتنگیں بلند ہوتی تھیں۔ جنگی ڈیوٹی دینے کے لئے چھوٹوں بڑوں کے گروہ بنائے جاتے تھے۔ کچھ کے ذمے پتنگ اڑانا ہوتا تھا۔ کچھ ماہرین ڈور کا پنا پکڑنے پر معمور ہوتے تھے جو کہ اس پتنگ باز کو عین پیچ میں ڈور کی سپلائی نہ رکنے کی ضمانت دیتے تھے۔ چند افراد کو ٹین کے ڈبے پکڑا دیے جاتے تھے تاکہ غنیم کی گڈی )پتنگ( کٹ جانے کی صورت میں وہ پورے علاقے کو اس معرکہ حق و باطل میں اپنی فتح عظیم سے آگاہ کر دیں۔ ایک ٹیم کی ذمہ داری پکیں جھپکائے بغیر آسمان کو گھورنا ہے جہاں بہت بلندی پر کوئی کٹی پتنگ نظر آئے تو وہ اس کی ڈور تلاش کر کے اسے پکڑ سکیں۔ جو کٹی پتنگیں اٹک اٹک کر جا رہی ہیں، ان کے ساتھ لمبی ڈور ہے جو نیچے چھتوں کو چھوتی ہوئی جا رہی ہے۔ جو پتنگیں تیزی سے ہوا کے دوش پر جا رہی ہیں، ان کے ساتھ بہت تھوڑی سی ڈور ہے۔ وہ کسی چھت پر گریں گی یا محلے کے basantaبچوں کے ہاتھ لگیں گی، ان پر نگاہ رکھنا بیکار ہے۔

لیکن اصل ہنگامہ تو اتوار کو نو دس بجے سے شروع ہو کر بعد از مغرب تک چلتا تھا۔ صبح سویرے ہی گڈی چڑھتی تھی۔ ارد گرد نظر دوڑائی جاتی تھی کہ آج کے دن کون کون حریف ہے۔ چھوٹے چھوٹے ‘ہاتھ پھیرنے’ والے بچوں کے ‘شرلوں’ سے دور رہا جاتا تھا جو کہ چار آنے کے شرلے سے اچانک شب خون مار کر تیس روپے کا گڈا کاٹ دیتے تھے اور پھر اسے ‘چمیڑ’ (لپیٹ) کر اپنے قبضے میں کر لیتے تھے۔ ایک معزز حریف نظر آتا تھا۔ اس سے پیچ لڑایا جاتا تھا۔ ‘او او، اوپر سے پیچ ڈال، ورنہ پیچ بچانا مشکل ہو جائے گا۔ کھینچ کھینچ۔ ڈور پوری چھوڑ دے۔ ڈور میں رکاوٹ نہ آئے ورنہ بے عزتی ہو جائے گی۔ ڈور جانے میں تاخیر ہوئی تو ایک ہلکا سا تناؤ ہی ہماری پتنگ کٹوا دے گا۔ اوئے ہوئے۔ کٹ گئی’۔ حریف کی چھت سے ٹین ڈبوں اور ‘بو کاٹا’ اور ‘اوئے بکری’ کے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے۔ یہ شریر لوگ بگل بھی لائے ہوئے ہیں اور بجا بجا کر کل عالم پر اپنی فتح اور ہماری شکست کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہماری کٹی ہوئی پتنگ اب دور ایک تارا بنی ہوئی ہے۔ پتنگ باز اب نہایت تیزی سے ڈور کھینچ رہا ہے۔ جن چھتوں پر چھٹے ہوئے پتنگ باز ہیں، ادھر ڈور کے لوٹے جانے کا امکان نہیں ہے، بلکہ وہ کھینچی ہوئی ڈور کو خراب ہونے سے بچائیں گے بھی۔ لیکن جہاں ایک آدھا ننھا قزاق موجود ہے، وہ ڈور پکڑ لے گا۔ لو دور ایک چھت پر ایک ننھے قزاق نے ڈور پکڑ لی۔ پتنگ باز نہایت تجربہ کار ہے۔ بچپن میں وہ بھی قزاق رہ چکا ہے۔ اس نے آہستگی سے ڈور کو ڈھیل دی اور پھر یکلخت کھینچ لی۔ قزاق نے گھبرا کر ڈور چھوڑ دی ہے اور basantcاپنے ہاتھ کو گھور رہا ہے جس پر ‘چیرا’ لگ چکا ہے۔ ایک ننھی سی سرخ لکیر، جو اسے کئی دن تک بسنت کی یاد دلاتی رہے گی۔

نیچے گلی میں بچے اپنے خاص اس مقصد کے لئے بنائے گئے ڈنڈے پکڑ کر اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ڈنڈے کے ایک سرے پر خار دار سا جھاڑ ہے جو ڈور کو الجھا لے گا۔ ایک اور کٹی ہوئی پتنگ جس کے ساتھ بہت کم ڈور ہے، نیچے جا رہی ہے۔ بچے اس کے گرنے کی جگہ کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ سب ایک طرف دوڑے۔ پتنگ نے عین آخری لمحے پر پلٹا کھایا اور ایک دوسری طرف جا گری۔ ایک چھوٹے سے بچے نے اپنے لمبے سے ڈنڈے سے اسے لپیٹ لیا۔ اس کا چہرہ اس عظیم کامیابی پر دمک اٹھا ہے۔ لیکن دوسرے بچے اس پر جھپٹے اور پتنگ کے پرزے پرزے ہو گئے۔ اس بچے کو بسورنے کی مہلت بھی نہ ملی کہ کچھ دور ہی ایک نئی پتنگ نیچے گرتی نظر آ رہی تھی۔ سب اس طرف بھاگے۔

دوسری طرف ہماری چھت سے ہماری دوسری ٹیم کا بڑا گڈا حریفوں سے بدلہ لینے کو اس کی طرف بڑھ چکا ہے۔ دوبارہ خاموشی چھا چکی ہے اور دونوں چھتوں پر سب ہی اس معرکے کو انہماک سے دیکھ رہے ہیں۔ اچانک شور بلند ہوا ‘ڈور پڑ رہی ہے، ڈور پڑ رہی ہے، پکڑو’۔ چھت پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ سب تلاش کر رہے ہیں۔ ‘یہ ہے یہ ہے’۔ آواز آتی ہے اور ہوا میں جھاڑ بندھے ڈنڈے لہرا کر ڈور قابو کی جاتی ہے۔ پتنگ کو قابو کر کے اتارا ہی جا رہا ہوتا ہے کہ ایک ‘پری’ اس پر جھپٹتی ہے۔ ‘پنا باندھو پنا باندھو۔ پیچ پڑ گیا ہے’۔ ایمرجنسی ڈیکلئیر ہوتی ہے اور فوراً ڈور کا ایک پنا باندھا جاتا ہے تاکہ پیچ لگایا جا سکے۔ ڈور کے الٹے سیدھے بل میچ کرنے کا بھی وقت نہیں ملا ہے۔ بس جو باندھ دی ہے، اسی سے پیچ لگایا جائے گا، چاہے ساری ڈور ‘وٹل’ (ڈھیلی) ہو کر basantbناکارہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔

اتنی دیر میں غیب سے قیمے والے نان آ گئے ہیں۔ حالانکہ شہر بھر کے تندوروں پر بے تحاشا ہجوم ہے اور قیمے والا نان لانا کار محال ہے لیکن جانبازوں کی ایک ٹیم نے یہ ناممکن کام بھی ممکن کر دکھایا ہے۔ کچھ دیر کے لئے پتنگ بازی رکی ہے، اور قیمے والے نانوں سے انصاف کیا جا رہا ہے۔ گھر بھر کے بچے بوڑھے عورتیں مرد چھت پر موجود ہیں۔ ان میں سے چند پتنگ اڑا رہے ہیں اور باقی ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔

قیمے والے نان کھانے کے بعد تازہ دم ہو کر پھر میدان سج جاتا ہے۔ شام گئے پتنگوں کا تمام سٹاک ختم ہونے پر پھر لوٹی ہوئی پتنگیں ری سائیکل کی جاتی ہیں۔ سورج تھک کر غروب ہو جاتا ہے لیکن لوگ نہیں تھکتے ہیں۔ اگلے دن پیر کو گڈیاں لوٹنے والوں کا دن ہوتا ہے جو ہفتے اور اتوار کو لوٹی ہوئی گڈیوں سے اپنی بسنت مناتے ہیں۔

اس وقت تک نجی چینل بھی نشریات شروع کر چکے تھے۔ وہ بھی میدان میں کودنے لگے اور بسنت کمرشل ایونٹ بن گیا۔ دوسری طرف ایک متحرک بیوروکریٹ کامران لاشاری لاہور کو نصیب ہوا۔ اس کے دور تک لاہور کا سب سے اہم عوامی میلہ ہارس اینڈ کیٹل شو، بمع صنعتی نمائش کے، فوت ہو چکا تھا۔ کامران لاشاری نے کمرشل سیکٹر سے سرمایہ کاری کروا کر لاہور کے بسنت میلے کو اتنا کامیاب کر دیا کہ دنیا بھر میں اس کا چرچا ہوا۔ لاہور کا روشن و رنگین آسمان دیکھ کر سرحد پار امرتسر میں بھی بسنت منائی جانے لگی۔ لیکن پھر ایسا ہوا کہ بسنت پر ٹین ڈبوں کے شور کی بجائے ہوائی فائرنگ کی جانے basantdلگی۔ پتنگ کٹنا شدید بے عزتی بن گیا۔

بھلے وقتوں میں کوئی بہت ہی ‘روندی’ مارنا چاہتا تھا، یعنی بے ایمانی کرنا چاہتا تھا، تو ‘تندی’ (نائلون کی موٹی ڈور) سے گڈی اڑاتا تھا۔ لیکن اب کیمیکل کی بنی ہوئی ڈور آ گئی۔ کوٹے ہوئے شیشے کے چورے کے ساتھ لوہے کے ذرات بھی ڈور کا حصہ بننے لگے۔ اور گردنیں کٹنے لگیں۔ بھلے وقتوں میں لاہوری نوجوان چھتوں سے گر کر، یا آسمان کی طرف دیکھ کر سڑک پر دوڑتے ہوئے ہی حادثات کا شکار ہوتے تھے۔ لیکن اب یہ کیمیکل ڈوریں آنے کے بعد راہ چلتوں کے گلے کٹنے لگے۔

ڈور سے گلا کٹے تو بندے کو درد یا تکلیف کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ کسی گڑبڑ کی پہلی علامت سینے پر ایک گرم گرم سے سیال کا احساس ہوتا ہے۔ پھر جب سینے پر لگایا جانے والا ہاتھ سرخ خون میں لتھڑ کا نگاہوں کے سامنے آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ گردن کٹ چکی ہے۔ تین چار سال اس طرح گردنیں کٹتی رہیں۔ بڑے بڑوں کی بھی اور ننھے منے بچوں کی بھی۔

اس صورت حال میں حکومت نے اپنی نااہلی کی سزا عوام کو دے دی۔ لاہور کا یہ سب سے اہم تہوار پابندی کا شکار ہو گیا۔ بجائے اس کے کہ کیمیکل ڈور کی تیاری اور خرید و فروخت کو ناممکن بنایا جاتا، بجائے اس کے کہ ڈور سازی کی صنعت کو گلی محلے سے نکال کر فیکٹری میں لے جایا جاتا اور صرف 12744041_679744282163695_3869271798217403617_nمستند فیکٹری کی تیار کردہ محفوظ ڈور کو مارکیٹ میں لایا جاتا، بسنت پر ہی پابندی لگا دی گئی۔

بسنت پر پابندی کا مطالبہ ہر سال ہی مولانا حضرات کی طرف سے کیا جاتا تھا اور اس کی نشاندہی کی جاتی تھی کہ یہ ہندوانہ رسم ہے یا اصراف کی وجہ سے منع ہے وغیرہ۔ حالانکہ اصراف کے پہلو اسلامی مذہبی تہواروں میں بھی نظر آتے ہیں اور شادی بیاہ میں بھی، اگر اسی بنیاد پر پابندی لگائی جائے تو غضب ہی نہ ہو جائے گا۔ لیکن بہرحال یہ مطالبے عوام کی طرف سے ہمیشہ مسترد کئے جاتے تھے۔ لاہوری بسنت کی جس پتنگ کو انتہا پسند نہ کاٹ سکے، اسے ہمارا لبرل پاکستان بنانے کی دعویدار ن لیگ نے کاٹ دیا۔

اب ہماری موجودہ نوجوان نسل کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ لاہور کا سب سے زیادہ جوش و جذبے والا میلہ کون سا ہوا کرتا تھا۔ لیکن دل تو بچہ ہے جی۔ نوجوانوں سے بسنت روٹھ گئی تو ان کو ویلنٹائن ڈے کی صورت میں ہلہ گلہ کرنے کا ایک اور دن مل گیا۔ اور اب ہم شکوہ کناں ہیں کہ غیر ملکی کلچر کیوں ہمارے ملک میں چھاتا جا رہا ہے۔

جب آپ اپنے کلچر کو قتل کر دیں گے تو اس کی خاک سے کچھ نہ کچھ تو اٹھے گا ہی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “لاہوری بسنت کی کٹی ہوئی پتنگ

  • 22-02-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    گلا کٹنے کے واقعات تو کم ہوتے تھے جن کی زمین آبادی کے نزدیک هوتی ہین ان کی ٹانگوں کے زخم همیسہ هرے رہتے تھے اور بیس روپے کی پتنگ کی خاطر کسان کی فصل کو پچاس بچے استری کرتے تھے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *