بولان سے جمنا تک (پہلا حصہ)


usman Qaziیہ سن دو ہزار چار کی روداد ہے، مگر اس کے مندرجات کی تازگی اس بات کی غماز ہے کہ اس خطے کو قیام امن، ترقی اور ہم آہنگی کی راہ پر ابھی بہت سفر کرنا باقی ہے. بیتے دنوں کی یاد اور آنے والے شب و روز کی روشن امید کی نشانی کے طور پر “ہم سب ” کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے.

اس مرتبہ آب و دانے کی گردش ہمیں ہندوستان کی جانب لے گئی۔ تقریب سفر ہمارے ادارے LEAD کے زیر اہتمام بھوپال میں ہونے والی ایک کانفرنس تھی جس کا موضوع نجی تجارتی اداروں کی سماجی ذمہ داری تھا۔ بھارتی سفارت خانے کے دوستوں کی ’کمال‘ مہربانی کے سبب ہمیں اور ہماری بیگم کو چار شہروں دہلی، آگرہ، جے پور اور بھوپال کا ایسا ویزا مل گیا کہ جس میں پولیس تھانوں کے اندراج سے ہمیں مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی اسلحہ ساز اداروں کی ریشہ دوانیوں اور ان اداروں کے مقامی دلالوں کی مفاد پرستیوں نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک عجیب شیطانی چکر میں ڈال رکھا ہے جس کے نتیجے میں یورپی، افریقی، امریکی اور اکثر ایشیائی ممالک کے باشندے قانونی و غیر قانونی طور پر سرحد کے دونوں جانب بلاروک ٹوک، جا بجا دندناتے پھرتے ہیں مگر پاکستان کے لوگوں کے لیے بھارت میں اور ہندوستانیوں کے لیے ہمارے وطن میں انتہائی ظالمانہ اور غیر منطقی پابندیوں کا خصوصی انتظام ہے۔ ماضی قریب کے چند مثبت اقدامات کے نتیجے میں البتہ ذرا سی گنجائش پیدا ہوئی ہے کہ پاکستانی یہ جان پائیں کہ بال ٹھاکرے، لال کشن ایڈوانی اور نریندر مودی جیسے فرقہ پرست ہندوستان عوامی امنگو ں کے ترجمان نہیں ہیں اور ہندوستانی بھی سمجھ سکیں کہ ایک اوسط پاکستانی تیسرے درجے کی بھارتی فلموں کے آتنگ وادی یا نام نہاد القاعدہ کے وحشیوں سے کوسوں دور ہے۔ اگرچہ امن کی بحالی کا یہ عمل نوزائیدہ ہے اور ناپائیدار مگر خوش آئند بھی۔ بقول فیض

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر
کچھ کچھ سحر کے رنگ پر افشاں ہوئے تو ہیں

IN03_AIRPORT_TERMIN_138389f30 جولائی کی شام کو ہم انڈین ایئر لائن کی پرواز سے عازم دہلی ہوئے۔ ہمارے صحافی دوست محمد شہزاد بھی اتفاق سے ہمراہ تھے اور ان کی دوست نیرا ٹھاکر اسی جہاز میں فضائی میزبان کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ چالیس منٹ کی مختصر پرواز میں عملے نے انتہائی چابک دستی سے مہمانوں کو پرتکلف کھانا کھلایا۔ ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے ہمارے گزشتہ جنوبی ایشیائی تجربے کے برخلاف آن کی آن میں ہم سے چند غیر ضروری تفاصیل پر مبنی فارم بھروا کر فارغ کر دیا۔ عام تاثر تو یہی ہے کہ بھارت پہنچتے ہی ہر پاکستانی کے پیچھے ایک عدد”را“ کا جاسوس لگا دیا جاتا ہے جو ہر جگہ اس کا پیچھا کرتا ہے مگر ہمیں تو کسی نے نظر بھر کر بھی نہ دیکھا اور ہم اپنا سامان ٹرالی پر دھکیلتے ہوئے آرام سے باہر گئے ۔ باہر کے حصے میں دہلی کے صوبائی محکمہ سیاحت کے دفاتر بنے ہوئے ہیں۔ نکلتے ہی ان کے اہلکاروں نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا سواگت کیا۔ بلامعاوضہ دہلی کا سیاحتی نقشہ ہمارے حوالے کیا اور بتایا کہ دہلی کی ٹریفک پولیس نے سیاحوں کی سہولت کے لیے ٹیکسی سروس کو منضبط کر رکھا ہے چنانچہ ٹریفک پولیس کے کاﺅنٹر پر نہایت خوش خلقی سے ہمارا ٹیکسی کا ٹکٹ بنا اور چھوٹی سوزوکی وین کی ٹیکسی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔

اسلام آباد میں ہمارے دوست مرلی دھر ریڈی بھارت کے نہایت معیاری اور روشن فکر اخبار ’دی ہندو‘ کے نمائندہ ہیں۔ ان کی بیگم اپرنا شری واستو ان دنوں اتفاق سے دہلی میں تھیں۔ جہاز سے ہی ہم نے بی بی نیرا ٹھاکر کے موبائل فون پر ان سے رابطہ کر لیا تھا۔ ان کی وساطت سے دہلی کے جنوبی حصے میں ایک گیسٹ ہاﺅس میں ہماری بکنگ تھی۔ رات ہو چکی تھی چنانچہ گیسٹ ہاﺅس میں سامان رکھ کر ہم خواب غفلت میں کھو گئے مگر آدھی رات کے قریب ساتھ کے کمروں سے بوتلیں ٹوٹنے اور اس کے بعد کسی شرابی دل جلے کے کسی لایعنی بات پر آہ و زاری کرنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔احتجاج کرنے کو گردن باہر نکالی تو کچھ مشکوک حلیے والے مردوزن ادھر ادھر لڑھکتے دکھائی Autorickshaw_Bangaloreدیے۔ میر تقی میر کا شعر یاد آگیا۔

دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
اور بستی نہیں یہ دلی ہے

صبح اپرنا بی بی سے رابطہ کیا تو انہوں نے حکم دیا کہ فوراً گھر چلے آﺅ۔ ہم نے باہر آکر وہ سواری پکڑی جسے ہمارے ہاں رکشہ اور ہندوستان میں ’آٹو‘ کہتے ہیں۔ اگر آپ ہندوستان میں رکشہ کہیں گے تو اس سے سائیکل رکشہ مراد لیا جائے گا۔ دن کی روشنی میں دلی کو دیکھا تو کچھ کچھ لاہور اور کراچی کے بیچ کا نقشہ نظر آیا۔ آج کے دہلی میں دو چیزوں کا نوٹس نہ لینا ناممکن ہے۔ ایک تو جگہ جگہ فلائی اوور بن رہے ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جائے اور دوسرے تمام تر پبلک ٹرانسپورٹ بشمول آٹو، بس، ٹرک، ٹیکسی، سو فیصد سی این جی یعنی قدرتی گیس سے چلتے ہیں۔ دراصل کچھ عرصہ قبل دہلی کی عدالت عالیہ نے ایک قانونی حکم کے تحت فضائی آلودگی کو عوام الناس کی صحت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک مخصوص مدت تک کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ پٹرول اور ڈیزل کو ترک کرکے گیس پر آجائیں۔ گروہی مفادات کے حامل لوگوں اور پیشہ ور لیڈروں نے احتجاج کی آڑ میں سیاست چمکانے کی کوشش کی مگر انتظامیہ اور عدلیہ کی استقامت نے جلد ہی دہلی کی فضا کو صاف ستھرا کر دیا۔

ہمارے ہاں بھی سرکاری سطح پر کچھ نیم دلانہ کوششیں اس ضمن میں کی گئیں مگر وہ مضبوط سیاسی عزم کی کمی کی بنا پر ناکام رہیں۔ میری ناقص عقل میں اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں سماجی اور سیاسی رہنما عوام کے بیچ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کا براہ راست یا بالواسطہ اثر ان کی عام زندگی اور سیاسی کیریئر پر ضرور پڑتا ہے جبکہ غیر جمہوری معاشروں میں حکمران اپنے لیے مخصوص عالی شان بستیاں بسا لیتے ہیں جن میں پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ محدود ہوتا ہے اور انتہائی صورتوں میں تو سرے سے ’بلڈی سویلین‘کو اپنے علاقوں میں گھسنے نہ دینے کے لیے ذلت پر مبنی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ آمرانہ ممالک کے حکمرانوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کی کرسی کی مضبوطی کا انحصار عوام کی خوشی یا بے چینی پر نہیں بلکہ غیر مرئی قوتوں کے اشارہ ابرو پر ہے چنانچہ ان کی بلا سے لوگ بھوک سے مریں، آلودگی کے ہاتھوں سسکیں یا بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کریں وہ زرمبادلہ کے بھاری ذخائر کا ڈھول اس بلند آہنگی سے پیٹتے ہیں کہ عالمی رائے عامہ کی توجہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے چالیس فیصد لوگوں کی گریہ و زاری کی جانب نہ جائے۔ مگر تابہ کے؟

delhi-metro_650x400_81425454494اپرنا کا گھر دلی اور اترپردیش کی سرحد کے عین اوپر، میوروہار نامی علاقے میں سماچار اپارٹمنٹس میں سب سے اوپر کی دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ مکان کا اکثر حصہ دہلی کی عمل داری میں آتا ہے مگر غسل خانہ یو پی کے شہر نوئیڈا میں۔ ہمارا ویزا تو صرف دہلی کا تھا اور طبیعتاً بھی ہم بہت پابند قانون واقع ہوئے ہیں مگر بشری تقاضوں کے پیش نظر ہمیں بار بار ویزا کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنا پڑی جس کے لیے ہم بھارتی سرکارسے معذرت خواہ ہیں۔ اپرنا کے خاندان کا تعلق ہندوﺅں کی کائستھ برادری سے ہے جنہوں نے کئی صدیوں سے رواداری ، تمدن پر عمل کر رکھا ہے۔ آبائی پیشہ ان لوگوں کا پڑھنا لکھنا اور عربی ، فارسی ، اردو کے علم اور ادب سے محبت میں مسلمانوں کو مات کرتے ہیں۔ اپرنا کے والد محترم اشوک شری واستو دہلی کے روایتی تہذیب و تمدن کے مٹتے ہوئے نمونوں میں سے ہیں۔ اردو سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی ہے اور ناگری رسم الخط انہوں نے بہت بعد میں سیکھا۔وہ ہمارے آنے کی خبر سن کر ہمارے لیے دہلی کا مخصوص ناشتہ حلوہ ، کچوری، بھاجی لینے کئی میل دور پرانی دلی گئے ہوئے تھے۔ واپس لوٹے تو ملاقات پر ہماری روح تازہ ہو گئی۔ اب تو اتنی فصیح اور مٹھی اردو پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بھی غائب ہوتی جا رہی ہے۔

باہمی برداشت کا ایک عجیب نمونہ ہے ان کا گھر۔ بچے، بہوئیں، داماد سب ہم سے زیادہ گوشت خوری کے شوقین اور ماتا جی ”شدھ شاکاہاری“ یعنی مطلق سبزی خور لیکن اس سے باہمی محبت اور پیار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اسی ملک میں گﺅر کھشا کے نام پر سیاست کرنے والے ، سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو ہر سال فسادات میں جھونک دیتے ہیں۔ ناشتے کے بعد ہم نئی دلی کی جانب نکل گئے۔ انگریزوں کا تعمیر کردہ دائرے کی شکل کا بازار، کناٹ پیلس، کراچی کی زینب مارکیٹ کی جڑواں بہن جن پتھ دیکھے۔ اس کے قریب ہی ایک کئی منزلہ دیدہ زیب جدید عمارت میں ہندوستان کے طول وعرض کے دیہی کاریگروں کی دست کاری پر مشتمل ایک فروش گاہ ہے جس میں انتہائی حسین اشیاء’ایک دام‘ کے اصول پر دستیاب ہیں۔ سلیقہ مند اور مستعد اہل کاران خریداروں کی سہولت کے لیے جابجا پھرتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا ایک جنوبی ہند کے ریستوران میں کھایا۔ واقعی دال سبزی پکانا اہل ہند کا ہی خاصا ہے۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بولان سے جمنا تک (پہلا حصہ)

  • 22-02-2016 at 11:01 pm
    Permalink

    افسوس کہ سن دو ہزار چار کے اس یادگار سفر سے اب تک اس میں مذکور اشوک سری واستو،ان کی بیگم کرشنا اور ان کے چھوٹے صاحبزادے الوک , پرلوک سدھار چکے ہیں.

  • 23-02-2016 at 7:38 pm
    Permalink

    را والوں کی طرف سے اہمیت نہ ملنے پر آپ کو ناقدری کا احساس نہی ہوا؟

Comments are closed.