ہم۔۔۔ صاحب لوگ کی ملازم نما پاکستانی قوم


اس پاکستانی قوم کا منظر نامہ کچھ یوں ہے۔۔۔

جیسے ایک شاندار گھر میں خاموشی سے چلتے پھرتے ملازم۔

جیسے صاحب لوگ کی پارٹی چل رہی ہو۔ باتیں، قہقہے، کمنٹس، ایک دوسرے پر نگاہ۔ زیادہ تر انگریزی زبان کا استعمال۔ اس دوران ملازم گونگے بہرے بنے مشروب پیش کر رہے ہوں۔ مجال ہے کہ ایک لفظ بھی سمجھ میں آ جائے۔ بس صاحب لوگ کا سوٹ بوٹ اور بیگم لوگ کا بے لباس، لباس ایک عجب کشش رکھتا ہو۔ اوپر سے قہقہوں کی کھنک۔ سب کچھ اتنا نازک و نفیس کہ آنکھ پھسل پھسل جائے۔ مشروب پیش کرنے والے ملازم کا دل دھڑک رہا ہو کہ کہیں کوئی گلاس چھلک نہ جائے۔ اور اگر کبھی گلاس چھلک جائے اور کسی صاحب یا ان کی بیگم کے لباس پر چھینٹے آ جائیں تو میزبان صاحب کی دھاڑ ملازموں کی پوری فوج کو لرزا کر رکھ دے۔ جن صاحب کے لباس پر چھینٹے پڑے ہوں انہیں پروٹوکول دینے کے لیے ملازم کو جھاڑ پلانا ضروری ہو جائے کہ جناب دیکھیے آپ کی کتنی عزت ہے ہماری نگاہ میں۔ آپ کی خوشنودی کی خاطر ہم نے اپنے ملازمِ خاص کو دو ٹکے کا کر دیا۔

صاحب لوگ کے بیچ ان مشروب پیش کرتے ملازموں کی طرح ہیں ہم پاکستانی قوم۔

ناشتے کی ٹیبل پر صاحب لوگ کی بڑی ہی سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہو۔ پراپرٹی کے مسائل ڈسکس ہو رہے ہوں۔ بزنس کے لین دین کا معاملہ ہو۔ ملازم کچن سے ڈشز لا لا کر ٹیبل پر رکھ رہے ہوں۔ اچانک صاحب لوگ کو پرائیویسی کی ضرورت محسوس ہو۔ صاحب جھکی نگاہ والے ملازم کو گھور کر دیکھیں اور انگلی سے اشارہ کریں کہ دروازے سے باہر جاکر کھڑے ہو جاؤ۔ ضرورت پڑی تو آواز دے لیں گے۔ حالانکہ ملازم بیچارہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ رہا ہو۔ بس گفتگو کے اتار چڑھاؤ سے اندازہ لگا رہا ہو کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اور حکم کی تعمیل میں ملازم باہر جا کر کھڑا ہو جائے۔ اس کے لیے بس اتنا جاننا ہی کافی ہو کہ اندر پرائیویٹ گفتگو ہو رہی ہے، جو میرے سننے کی نہیں ہے۔

دروازے کے باہر کھڑے اس ملازم کی طرح ہیں ہم پاکستانی قوم۔

شہر کے پوش ایریا کی بڑی بڑی کوٹھیوں کے ہر گیٹ پر آپ نے ملازم بیٹھے ہوئے دیکھے ہوں گے۔ اکثر آپس میں گپیں مارتے ہوئے۔ سیمنٹ کی بینچوں پر بیٹھے ہوئے۔ کچھ اندر بیٹھے صاحب لوگ کی حفاظت کے لیے ہتھیاروں سے لیس اور کچھ خالی ہاتھ۔

بینچوں پر بیٹھے فخریہ انداز میں اپنے اپنے صاحب کے عہدے، مالی حیثیت پر شیخیاں بگھار رہے ہوں۔ کون کون اونچی پگ والا ہمارے صاحب کو سلام کرتا ہے اور کس کا صاحب بیرون ملک زیادہ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ڈرائیور کو ائرپورٹ زیادہ جانے کا اعزاز حاصل ہوتا ہو۔ اور صاحب کے ساتھ کون بڑے بڑے لوگوں کے گھروں تک جاتا رہا ہے اور کس بڑے آدمی کی شاندار کوٹھی کہاں واقع ہے اور کس کا صاحب حکومتی ایوانوں تک رسائی رکھتا ہے اور فون پر صاحب کس سے کیا بات کر رہے ہوتے ہیں۔ کس کے صاحب کے پاس کونسی گاڑی ہے اور کونسی گاڑی آنے والی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

گیٹ پر بیٹھے، اپنے اپنے صاحب کی دولت و جاہ و جلال پر شیخیوں کے چسکے لیتے ان ملازموں کی مانند ہیں ہم پاکستانی قوم۔

یہ ملازم اکثر دل کا غبار بھی نکالتے ہیں۔ دل ان کا بھی چاہتا ہے کہ صاحب لوگ کی ایسے کی تیسی کر دی جائے۔ جب ائرکنڈیشنڈ سجے سجائے کمروں میں بیٹھے صاحب لوگ کچھ رقم ایڈوانس مانگنے پر بے اعتنائی سے کہتے ہیں کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں اور کچھ ہی دیر بعد گیٹ پر آنے والے ہوم ڈلیوری کے کھانے پر ہزاروں کا بل ادا کر دیا جاتا ہے۔ وہی ملازم وہ کھانا لا کر صاحب لوگ کے بچہ لوگ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ ان کے منہ سے نوالہ چھین لیں۔ صاحب کے بریف کیس میں نوٹوں کی گڈیاں بھی کبھی کبھی نظر آجاتی ہیں۔ گاڑی میں بیٹھے صاحب لوگ کی فون پر اور آپس کی گفتگو پانی کی طرح بہتے اور خزانے میں بھرتے پیسوں کے نمبرز گاڑی چلاتے ڈرائیور سے گنے بھی نہیں جاتے مگر پیسوں کے پہاڑ اسے دکھتے ضرور ہیں۔ لاکھوں، کروڑوں، اربوں۔ روپے نہیں، ڈالرز۔

پھر صاحب یا بیگم صاحب یا بچوں کی گفتگو۔ اپنی مرضی کا مذہب، اپنے فائدے کی سیاست، اپنی خواہشات اور آسمان کو چھوتی ضروریات، ایک دوسرے سے چوری چھپے کے ذاتی معاملات۔

رات کو چائے کی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چینی کی جگہ نفرت گھول کر گرد و پیش کے تمام ملازم اپنے اپنے غصے کو پی رہے ہوتے ہیں۔ کس کا صاحب کتنا کرپٹ ہے۔ کونسے صاحب کے پاس کہاں سے لوُٹا ہوا پیسا ہے۔ کس صاحب کی بیگم اور بیٹیاں غیر اسلامی کپڑے پہنتی ہیں۔ کونسا صاحب کافروں والے کام کرتا ہے۔ مگر ان میں سے کسی کسی کا صاحب مسجد بھی جاتا ہے۔ نیک کام بھی کرتا ہے۔ بیگم چادر لیتی ہے۔ بس کنجوس ہیں۔ ملازموں کو ایڈوانس نہیں دیتے۔ ایسے نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔ الزامات کی بے بس اور طویل فہرست بناتے ہوئے ان ملازموں کے بس میں صاحب لوگ کا بال بیکار کرنا بھی نہیں ہے۔ مگر اللہ تو ان کا بھی ہے۔ بلکہ زیادہ ان کا ہے۔ گناہ کا فتویٰ تو ان کے بس میں ہے نا۔ نفرت تو ان کے بس میں ہے نا۔ حرام کا پیسا اتفاق سے انہیں تو میسر نہیں، اس لیے حرام حلال کا فتویٰ تو دینے کا حق تو رکھتے ہیں نا۔ ہم بہشت میں جائیں یا نہ جائیں مگر کسی طرح صاحب لوگ جہنم رسید ہو جائیں، اس امید پر تو جی سکتے ہیں نا۔

کچھ ایسا ہی نفسیاتی حال اور رد عمل ہے ہماری پاکستانی قوم کا۔

ہم صاحب لوگ کو مشروب پیش کرنے والے ملازم نما قوم، یوں بھی ان کی انگریزیاں اور آنیاں جانیاں نہیں سمجھتے۔ پھر بھی ملکی معاملات ان کی پرائیویسی ہیں اور ہمیں دروازے کے باہر کھڑے ہونا ہے۔ ان کے مال و دولت کے پہاڑ گو کہ ہماری آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے کھڑے ہوتے چلے جاتے ہیں مگر ان کے نمبرز ہماری گنتی میں نہیں سما پاتے۔ ہمارا کام صرف سلام صاحب کہنا ہے۔ صرف تخت و تاج پر بیٹھنے والوں کو لبالب بلکہ لبریز مشروب پیش کرنا ہے۔ صاحب لوگ کے پاس ہماری ضروریات کے لیے ہماری ہی تنخواہ میں سے علاج معالجے کے لیے ایڈوانس رقم موجود نہ بھی ہو پر ہمیں ہوم ڈلیوری کا فاسٹ فوڈ گیٹ سے اندر پہنچانا ہی ہے۔ اب ایسی بے بس قوم کیا کرے؟ بس جہنم واصل کرنے کے خواب ہی دیکھ سکتی ہے۔ کافر قرار دے کر بہشت میں پلاٹ بُک کرانے کا خواب دیکھ سکتی ہے۔ ان پر گناہ کے فتوے دے کر سکونِ دل حاصل کر سکتی ہے، صاحب لوگ کی محل نما کوٹھیوں کے گیٹ پر بیٹھی ہماری یہ پاکستانی قوم۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 72 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah