بانو قدسیہ‘ ’راجہ گدھ‘ اور مقدس دیوانگی


بانو قدسیہ کا ’راجہ گدھ‘ ایک ایسا فلسفیانہ ناول ہے جو تخلیقی طور پر بہت طاقتور لیکن نظریاتی طور پر بہت کمزور ہے۔ وہ انسانوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا روحانی حل پیش کرتا ہے۔

جب ہم ’راجہ گدھ‘ کا تخلیقی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں بہت سی ادبی اور فنی خوبیاں موجود ہیں جو اسے باقی ناولوں سے ممتاز کرتی ہیں۔

’راجہ گدھ‘ کی پہلی خوبی اس کی READIBILITY ہے۔ میں نے مارگرٹ ایٹوڈ MARGARET ATWOOD کے ناولوں کی طرح کئی اور ناول بھی پڑھنے شروع کیے لیکن بیس تیس صفحوں سے آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ وہ ناول یا تو پھسپھسے تھے اور یا بورنگ اور سپاٹ۔ ان کے مقابلے میں ’راجہ گدھ‘ نے مجھے شروع سے ہی اپنی گرفت میں لے لیا اور میں اسے آخر تک پڑھتا چلا گیا۔ کسی ناول نگار کا اپنے قاری کو450 صفحات تک باندھے رکھنا فن کا کمال ہے۔

’راجہ گدھ‘ کی دوسری خوبی اس کا کہانی سنانے کا فن ہے جسے ہم ART OF STORY TELLING کہتے ہیں۔ بانو قدسیہ نے ناول کے کرداروں اور ان کے رشتوں کی بہت خوبصورتی سے عکاسی کی ہے۔ ناول کے آغاز میں ہماری ملاقات ناول کی ہیروئن سیمی سے ہوتی ہے جو لبرل خیالات کی مالک لڑکی ہے۔ وہ اپنے ہم جماعت ایک کشمیری خوبرو جوان آفتاب کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ آفتاب کا روم میٹ قیوم ہے جو سیمی کے عشق میں گرفتار ہو کر آفتاب کا رقیب بن جاتا ہے۔ اس طرح ایک رومانوی تکونROMANTIC TRIANGLE بن جاتی ہے جو کہانی کو آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ یہ تکون اس وقت ٹوٹتی ہے جب آفتاب اپنی کزن سے شادی کر لیتا ہے اور سیمی غمزدہ ہو جاتی ہے۔ قیوم اداس سیمی سے اتنی ہمدردی جتاتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیتی ہے۔ سیمی محبت آفتاب سے اور جنسی اختلاط قیوم سے کرتی ہے۔ آخر سیمی اتنی دکھی ہوتی ہے کہ خود کشی کر لیتی ہے۔ قیوم اس اداسی کو کم کرنے کے لیے اپنی بھابی کی بھابی عابدہ اور پھر ایک طوائف امتل سے جنسی طور پر involve ہو جاتا ہے۔ امتل اپنی خود کشی سے پہلے قیوم کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کسی باکرہ سے شادی کر لے۔ قیوم کی بھابی اس کے لیے ایک باکرہ دلہن تلاش کرتی ہے۔ شادی کے بعد قیوم کو پتہ چلتا ہے کہ وہ باکرہ اپنے محبوب سے حاملہ ہے ۔ کہانی کے آخر میں قیوم اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تا کہ وہ اپنے محبوب سے شادی کر سکے۔ بانو قدسیہ نے ان کرداروں اور واقعات کے زیرو بم اور پیچ و خم سے ایک اعلیٰ کہانی تخلیق کی ہے۔

’راجہ گدھ‘ کی تیسری خوبی اس کا SOCIAL REALISM ہے۔ بانو قدسیہ مشرقی کلچر کے مسائل اور تضادات پر بڑی بے باکی سے تبصرہ کرتی ہیں۔ میری نگاہ میں افسانوں اور ناولوں کی دو اقسام ہیں۔ ’حور‘ اور ’زیب النسا‘ کے افسانے‘ رضیہ بٹ کے اردو ناول اور انگریزی کے ہارلیقوین رومانسHARLEQUIN ROMANCES پہلی قسم کا فکشن ہے جس کا مقصد تفریح اور ENTERTAINMENT ہے۔ ایسا فکشن قاری کو صرف محظوظ کرتا ہے۔ فکشن کی دوسری قسم وہ ہے جو سنجیدہ ادب کا حصہ ہے اس قسم میں سعادت حسن منٹو‘راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چختائی کے افسانے اور قرا ۃ العین حیدر‘جوگندر پال اور عبداللہ حسین کے ناول شامل ہیں۔ یہ سنجیدہ ادب کا حصہ ہیں جن کا تعلق SOCIAL REALISM اور ENLIGHTENMENT سے ہے۔ ایسی تخلیقات قاری کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی بصیرتوں کے تحفے بھی عطا کرتی ہیں۔’ راجہ گدھ‘بھی دوسری قسم کا ناول ہے۔

’راجہ گدھ‘ کی چوتھی خوبی اس کی ORIGINALITY ہے۔ بانو قدسیہ نے نہ صرف نادر تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال کیا ہے بلکہ راجہ گدھ کا کردار وضع کر ایک نیا استعارہ تخلیق کیا ہے جو میں نے پہلی کبھی کسی کہانی میں نہیں پڑھا۔۔ بانو قدسیہ نے گدھ کا استعارہ تخلیق کر کے اسے انسانی نفسیات کے ساتھ جوڑا بھی ہے اور پورے ناول میں نبھایا بھی ہے۔ یہ استعارہ تہہ دار بھی ہے اور پر معنی بھی۔ پرندوں کی کانفرنس اور مختلف پرندوں کے مکالمات نے ناول کو ایک دیو مالائی حسن عطا کیا ہے۔

’راجہ گدھ‘ کے ہر باب میں ایسی خوبصورت تشبیہات نظر آتی ہیں جو قاری کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں اور اسے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

ص 251 ’ ہم دونوں دو طاقے دروازے کی مانند رہے۔ کنڈی لگی رہی تو ایک۔۔۔ورنہ دونوں پٹ علیحدہ علیحدہ۔ آندھیوں میں بج اٹھنے والے۔۔۔دیواروں سے چمٹے ہوئے‘

ص 303’ وہ دھرتی جتنی بوڑھی اور نئی کونپل جیسی نئی تھی‘

ص 120 ’ وہ کنول کے پھول کی طرح پانی اور کیچڑ دونوں سے بنا تھا‘

ص 327 ’ سفیدی کروا کے کوے سے کبوتر بن جائیں اور پھر کوئوں سے ہی نفرت کریں سبحان اللہ‘

’راجہ گدھ‘ کی پانچویں خوبی یہ ہے کہ اس میں انسانی نفسیات اور جنسیات کے بارے میں بڑی دلیری سے تبادلہِ خیال کیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بانو قدسیہ انسانی رشتوں کے بہت سے راز ہائے سربستہ سے واقف ہیں

ص 393 ’ ہر انسان کے اندر ایک چھوٹا سا رب چھپا ہوا ہے جو چاہتا ہے کہ زندگی میں اسے ایک سچا پجاری ایک صادق عبد اور اک سر ہتھیلی پر رکھنے والا عاشق مل جائے‘

ص 337 ’ جس طرح پچانوے فی صد شادی شدہ مرد اپنی محبوبہ سے دل کا ٹیلیفون ملا کر بیوی سے مباشرت کرتے ہیں۔‘

ص 349 ’ کسی بوڑھے مرد کی بیوی ہے ‘جوان عاشق سے ملنے کی دعا مانگ رہی ہے‘

’راجہ گدھ‘ کی چھٹی خوبی اس کی دانائی ہے۔ اس ناول میں کئی ایسے مقامات آتے ہین جہاں بانو قدسیہ نہایت دانا دکھائی دیتی ہیں جو زندگی کی گہرائیوں سے واقف ہیں

ص 385 ’ افراد مرتے ہیں انسان مسلسل رہتا ہے‘

ص 430 ’ شاخیں جب تک کاٹی نہ جائیں درخت تن آور نہیں ہوتا‘

ص 98 ’ان ہونی ان دیکھی ان کہی سے سب کے ہونٹ سوکھتے ہیں‘

ص 168 ’ دراصل کوئی بھی اپنے آئیڈیل جتنا اونچا ہو نہیں سکتا‘

’راجہ گدھ‘ میں جہاں بہت سی ادبی اور تخلیقی خوبیاں ہیں وہاں چند خامیاں اور کمزوریاں بھی ہیں۔

’راجہ گدھ‘ کی پہلی کمزوری یہ ہے کہ اس کے اہم کردار جن میں ہیروئن سیمی‘ ہیرو آفتاب اور رقیب قیوم شامل ہیں یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم ہیں۔ وہ نفسیاتی‘ سماجی‘ رومانوی اور نظریاتی طور پر نا تجربہ کار ہیں۔ ناول کا نیریٹر NARRATOR قیوم خود اعتراف کرتا ہے ’ ہم سب ایسی عمر میں تھے جب  خود کشی سے ایک رومانی اور روحانی وابستگی پیدا ہو جاتی ہے‘۔ طالب علموں کا پروفیسر سہیل بھی ان سے صرف چند سال بڑا ہے۔ وہ بھی مجرد ہے اور زندگی کے سنجیدہ مسائل کے بارے میں ناتجربہ کار ہے۔ وہ سب مغرب کے ماہرینِ نفسیات و سماجیات کے نظریات‘ جن میں سگمنڈ فرائڈ‘ کارل ینگ اور ایمیلی ڈرخائم جیسے فلسفی شامل ہیں‘ پر بحث تو کرتے ہیں لیکن انہیں پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ پورے ناول میں ایک بھی کردار ایسا نہیں ہے جو صحیح معنوں میں دانشمند ہو اور اس نے مشرق اور مغرب کے علوم کو نہ صرف پڑھا ہو بلکہ انہیں سمجھ کر ہضم بھی کیا ہو اور ان سے انسانی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

بانو قدسیہ ان نوجوان اور ناتجربہ کار کرداروں کے ذریعےجدید علم کو انسانی مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں اورروایتی روحانیت کو ان مسائل کے حل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

ص 425 ’ اتنے علم کی وجہ سے ہم تو خوش نہیں رہ سکے‘

ص 419 ’مجھے اب فلسفہ نہیں چاہیے پروفیسر سہیل۔۔۔میرا خیال ہے زیادہ سوچ نے میری زندگی میں بارود بھر دیا ہے‘

ص 262 ’ ہر وقت کتابیں پڑھ پڑھ کر تم نیم پاگل فلسفی بن گئے ہو‘

بانو قدسیہ کا خیال ہے کہ اگر انسان مغربی علوم چھوڑ کر مشرقی روحانیت اپنا لیں تو ان کے مسائل حل ہو جائیں گے اور ان کی باطنی آنکھ کھل جائے گی جس سے وہ نئے روحانی تجربات سے روشناس ہو سکیں گے

ص 421 ’ جب باطنی آنکھ کھلے گی تو روح‘ ملائکہ اور دیگر باطنی اشیا خود بخود نظر آنے لگیں گی‘۔

’راجہ گدھ‘ کی ایک اور کمزوری جدید سائنس اور نفسیات سے کم علمی ہے۔ راجہ گدھ میں بانو قدسیہ دیوانہ پن کی دو اقسام کا ذکر کرتی ہیں۔ پہلی قسم کی انتہا خود کشی یا قتل ہے۔ وہ دیوانگی کا رشتہ حرام کھانے سے جوڑتی ہیں۔

ص 162 ’ہر وہ شخص جس کی روح میں حرام مال پہنچ رہا ہو چہرے بشرے سے راجہ گدھ بن جاتا ہے‘

ص 343 ’ ساری عمر حرام کھانا۔۔۔ہم لوگ حلال کی اولاد کہاں سے پیدا کر لیں گی جی؟ میرے بیٹے کا دماغ ٹھیک نہیں۔۔۔تین بار تو مینٹل ہسپتال رہ آیا ہے۔ اس کے باپ کا خیال ٹھیک ہے ساری وجہ میری ہے۔ نہ میں حرام رزق پر پلتی نہ میرا بیٹا ایسا ہوتا۔‘

ص 365 ’ کسی امتل العزیز طوائف کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا کل رات‘

میں ہڑبڑا کر اٹھا

’کون ۔۔۔کیا۔۔۔کس کا قتل؟‘

’ایک حرام کھانے والی کا‘

بانو قدسیہ کا ایمان ہے کہ حرام کھانے سے اجتماعی دیوانہ پن بھی پیدا ہوتا ہے

ص 280 ’ کبھی کبھی رزق حرام سے فرد اٌفرداٌ پاگل پن پیدا نہیں ہوتا۔۔۔بلکہ قوم کی قوم دیوانی ہو جاتی ہے۔۔۔سوڈم گومورا کی طرح‘

بانوقدسیہ کا حلال حرام کا تصور صرف خوراک اور کھانے تک ہی محدود نہیں اس میں جنسی حرام و حلال بھی شامل ہے۔

ص 360 ’ آپ شادی کرا لیں سر جی۔۔۔آپ جیسے لوگ صرف شادی کے قابل ہوتے ہیں۔ حرام سے کوئی واسطہ نہ رکھیں‘۔

بانو قدسیہ انسانی پاگل پن کا استعاراتی رشتہ گدھ سے ملاتی ہیں اور ان دونوں میں مردار اور حرام خوری کی مماثلت دکھاتی ہیں

ص 291’ کیا کوئی وضاحت کرنا چاہے گا کہ راجہ گدھ نے انسان سے رزق حرام کھانا کیونکر سیکھا؟

’ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو حضرت آدم کے لہو میں چھپی دیوانگی باہر نکلی۔ ۔۔رزقِ حرام کا اثر پشت ہا پشت جاتا ہے۔۔۔اسی وقت راجہ گدھ نے انسان سے رزق حرام کھانے کا سبق سیکھا۔۔۔اسی رزقِ حرام نے اس کے لہو میں فساد کی وہ شکل پیدا کر دی جسے پاگل پن کہتے ہیں‘

بانو قدسیہ اپنے ناول میں ایک خاص مذہبی نقطہِ نظر کو پیش کرتی ہیں لیکن اسے ایک سائنسی ماسک MASKپہناتی ہیں ۔ اس ماسک سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ص 276 ’ آپ تھیوری بتائیں سر؟

’مغرب کے پاس حرام حلال کا تصور نہیں ہے اور میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی جینز GENESکو متاثر کرتا ہے۔ رزق حرام سے ایک خاص قسم کی میوٹیشن MUTATIONہوتی ہے جو خطرناک ادویات‘ شراب اور ریڈئیشن سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ رزقِ حرام سے جو جینز تغیر پزیر ہوتے ہیں وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ ناامید بھی ہوتے ہیں۔ نسل انسانی سے یہ جینز جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان جینز کے اندر ایسی ذہنی پراگندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ یقین کر لو رزقِ حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے اور جن قوموں میں من حیث القوم رزقِ حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔۔۔‘

بانو قدسیہ دوسری قسم کی دیوانگی کو مقدس دیوانگی کا نام دیتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انسانیت کا مستقبل مقدس دیوانہ پن میں مضمر ہے۔ مقدس دیوانگی سے متاثر لوگ انسانیت کے نجات دھندہ ہیں۔ ایسے لوگ انسانوں کے ابنارمل اور سوپر نارمل کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔ وہ انسانیت کی رہنمائی کرتے ہیں اور اسے ارتقا کی اگلی منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ بانو قدسیہ مقدس دیوانگی کو روحانیت کی معراج سمجھتی ہیں۔

 سائنس‘ طب اور نفسیات کے ماہرین کی نگاہ میں مقدس دیوانگی کا نظریہ ایک مذہبی خواب RELIGIOUS DREAM سے زیادہ کچھ نہیں جس کا زندگی کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ناول کا وہ مقام ہے جہاں بانو قدسیہ انسانی مسائل کا اخلاقی حل پیش کرتی ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ اخلاقیات کا تعلق مذہب سے زیادہ اور ادبِ عالیہ سے کم ہے۔

بیسویں صدی کے ماہرین اور محققین جانتے ہیں کہ جدید سائنس نے دماغی امراض کے بارے میں BIO-PSYCHO-SOCIAL MODEL پیش کیا ہے اور پاگل پن کی حیاتیاتی‘ نفسیاتی اور سماجی وجوہات کی نشاندہی کی ہے۔ اب ماہرینِ نفسیات انسانی دیوانگی کا سائنسی بنیادوں پر علاج کر رہے ہیں۔

میری نگاہ میں انسانوں کے سماجی اور نفسیاتی مسائل کا مذہبی اور روحانی حل پیش کرنا ناول کی کمزوری ہے جو اس کی عالم گیر اپیل کو کم کر دیتا ہے۔

’راجہ گدھ‘ اپنی چند نظریاتی کمزوریوں کے باوجود ادبی‘ فنی اور تخلیقی طور پر ایک اہم ناول ہے جو اردو ادب میں طویل عرصے تک زندہ رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔