آرمی اسٹیشن لائبریری ملتان کا نوحہ


jamal yasinکشادہ اور سرسبز لان، کنارے پر ایک پیپل کا چھتنار درخت جس کے نیچے پتھر کے بنچ، خوش نوا و خوش رنگ پرندوں کی دل لبھاتی چہکار، لان کے عین وسط میں خوبصورت پام کے نیچے رعنائیاں بکھیرتا فوارہ اور ان سب کے بیچ میں ایک انتہائی دلفریب عمارت۔ داخلی دروازے سے پہلے تین چار سیڑھیاں اور ایک برآمدہ جس میں دو عدد منقش شو کیس۔ ارے صاحب چونکیے نہیں۔ یہ ہم کسی خوابوں کے محل کا ذکر نہیں کر رہے۔ یہ ہمارے ملتان کی آرمی اسٹیشن لائبریری ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا استقبالیہ کمرہ جس میں رکھے رجسٹر میں آپ اپنی آمد کی معلومات درج کریں اور اس وسیع و عریض لائبریری میں داخل ہو جائیں جس کی مثال پورے ملتان میں کم از کم ہم نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں تو نہیں دیکھی۔ استقبالیہ کا کاﺅنٹر انتہائی پرشکوہ ہال میں ہے جس کے اطراف میں کمرے ہیں۔ لائبریری میں قالین کا فرش بچھا ہوا ہے تاکہ آپ کے مطالعے میں کسی کی آہٹ یا پیروں کی چاپ بھی مخل نہ ہو۔ ایک بڑا سا کمرہ ریڈنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام لائبریری میں لاتعداد الماریاں ہیں جو دنیا جہاں کے علوم و فنون کی کتب سے ٹھسا ٹھس بھری ہوئی ہیں۔ اقبالیات، اسلامیات، اردو ادب، انگریزی ادب، شاعری، تنقید ، نئے پرانے لکھاریوں کے انگلش ناول، عسکری امور ، بچوں کے رسالے اور ناول، ازمنہ قدیم (کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے) کے اکثر انسائیکلو پیڈیا کی بیس بیس جلدیں، مختلف مکتب فکر کے علما کی تفاسیر اور احادیث کی مکمل جلدیں غرضیکہ انگریزی محاورے میں ذرا سے تصرف کے ساتھ (you name a book and that is there) سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام ریکارڈ کیٹگری کے حساب سے کمپیوٹرائزڈ ہے اور محض مصنف یا کتاب کا نام بتانے سے مطلوبہ کتاب تک منٹوں میں رسائی ہو جاتی ہے۔

اس لائبریری کی تزئین و آرائش اور اس مقام تک پہنچانے میں یقینا متعلقہ کور کے کرنل صاحب کی مساعی ہائے جمیلہ شامل رہی ہو گی۔ اب تو دو نئی سہولیات بھی متعارف کرا دی گئی ہیں ایک تو یہ کہ آپ اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب بازار سے خریدیں اور پڑھ کر لائبریری میں جمع کرا دیں اور قیمت لائبریری کی انتظامیہ سے وصول کر لیں۔ دوسرا آپ کوئی بھی کتاب عطیہ کریں اور اس مخصوص شوکیس میں سے کسی اور کی عطیہ شدہ کتاب بلا کسی لکھا پڑھی کے پڑھنے کے لیے لے جائیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ موج کہ اگر مطالعہ کرتے کرتے چائے یا کافی کا موڈ بن جائے تو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ لائبریری انتظامیہ کی طرف سے ممبران کے لیے مفت چائے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ بھلا بتائیے پاکستان میں کتنی ایسی لائبریریاں ہوں گی جہاں اس پائے کی سہولیات میسر ہوں گی۔ خیال یہی تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی بقیہ زندگی اسی لائبریری کے سہارے شاداں و فرحاں گزر جائے گی مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ افسوس اب یہ تمام آسائشیں قصہ پارینہ بن گئی ہیں۔

32756694خدا غارت کرے نائن الیون کرنے والوں کو جن کے طفیل ہم اس مادر علمی و ادبی سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ (جی ہاں یہ معمہ ابھی تک لاینحل ہے کہ یہ یہودیوں کی سازش تھی کیونکہ سب اس دن چھٹی پر تھے یا حسب روایت قدیم امریکا کی …. اور یا پھر حضرت اسامہ بن لادن کی۔) اصل میں اچھے وقتوں میں یہ عمارت عسکری تنصیبات کے عین درمیان بنائی گئی تھیں اس لیے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب اس کو یہاں سے شفٹ کرنا وقت کا تقاضا تھا مگر ظالمو یہ کیا کیا؟ آپ نے تو ہمارے ہاتھوں سے پھولوں بھرا گل دستہ چھین کر کیکٹس تھما دیے۔ جی ہاں کچھ دن قبل فراغت کے چند لمحات گزارنے لائبریری جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ لائبریری نئی جگہ شفٹ کر دی گئی ہے۔ خیر پوچھتے پچھاتے وہاں پہنچے تو دل کو اک دھچکا سا لگا۔ کہاں وہ قائداعظم ریذیڈنسی جیسی پروقار عمارت اور کہاں جنگل بیابان میں کھڑے دو تین اجاڑ سے کمرے۔ جو اس بلڈنگ کا عشر عشیر بھی نہیں۔ کچے میں کار چلاتے ہوئے مختصر سی پارکنگ میں پہنچے اور گاڑی کھڑی کی تو پیچھے گردوغبار کا اک طوفان سا اٹھا۔ جیسے تیسے بھربھری مٹی میں سے جوتوں کی چمک دمک کا ستیاناس کرتے ہوئے لائبریری کے داخلی دروازے تک آئے تو یقین مانئے دل بجھ سا گیا۔ مانو عالی جی کی چھیل چھبیلی نار کی بجائے مجنوں میاں کی کالی کلوٹی لیلیٰ سے ملاقات ہو جائے۔ موذی کی گورکی مانند تنگ سے کمرے جن میں بمشکل اس لائبریری کی آدھی کتابیں سما سکیں۔ کوئی ویرانی سی ویرانی تھی؟

انتہائی خوش مزاج اور معاون مزاج لائبریرین صاحبان جن سے اچھی خاصی بے تکلفی ہے، ان کے چہرے بھی مرجھائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا اس جنگل میں اول تو کوئی ممبر آتا نہیں اور اگر بھولے بھٹکے پہنچ بھی جائے تو ہماری طرح عظمت رفتہ کو یاد کر کے ، چند آنسو بہا کے واپس چلا جاتا ہے۔ بتایا گیا کہ لائبریری کی نئی عمارت بن رہی ہے مگر خدارا ہمیں بتائیے کہ کیا وہاں وہ پیپل ہو گا جس کی چھاﺅں میں ہم نے Frederick Forsyth اور Alistair MacLean, James Headley Chase شوکت تھانوی، اشفاق احمد، جون ایلیا، ممتاز مفتی جی اور ان گنت مصنفین کی کتب مزے لے لے کر پڑھیں۔ کیا وہاں ایسا سبزہ زار ہو گا جس میں بیٹھ کر غروب آفتاب کا منظر دیکھ سکیں گے۔ کیا فوارے کے ساتھ وہ پام کا درخت ہو گا جس کے سامنے ہم نے تصویریں بنوائیں تھیں۔

نہیں صاحب ہرگز نہیں ۔ ہماری لائبریری مر گئی ہے اور مرنے والوں کی قبر پر تو آیا جاتا ہے ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔ افسوس صد افسوس۔ اب ہمیں بقایا عمر (اور اب رہ ہی کتنی گئی ہے) اپنی محبوبہ کے ساتھ ان حسین لمحوں کی یاد میں گزارنا ہوں گے جو امر ہو چکے مگر لوٹ کے نہیں آئیں گے۔

واضح رہے راقم 1975 ءسے مرحومہ لائبریری کا ممبر ہے اور لائبریری انتظامیہ کی طرف سے 2014 ءمیں Most frequent visitor کا خطاب مع سند اور انعام وصول کر چکا ہے۔

اے آمدنت باعث آبادی ما …. محترم جمال یٰسین پہلی دفعہ ’ہم سب‘ کی محفل میں شریک ہو رہے ہیں اور سبحان اللہ ! کیا اچھا موضوع لے کر آئے ہیں کتاب سے شغف اور کتب خانے سے محبت۔ کیوں نہ ہو، ’ہم سب‘ کی مجلس مصنفین کے رکن رکین محترم حسنین جمال کے والد گرامی ہیں ۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ ایک نکتے پر اختلاف کی جسارت کی جا رہی ہے کہ رائے کا اظہار اور اختلاف رائے کا احترام ’ہم سب ‘ کی بنیادی اقدار میں شامل ہے ۔

محترم جمال یٰسین صاحب نے اپنی تحریر دل پذیر میں ایک جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا ہے کہ نائن الیون کے روز سب یہودی چھٹی پر تھے۔ یہ رائے اگر اشتباہ کے ساتھ پیش کی جاتی تو اس کی گنجائش موجود تھی کیونکہ 2001 ءمیں پہلی بار ایک لبنانی ٹیلی ویژن پر اس نوع کی خبر نشر ہونے کے بعد سے یہ سازشی تھیوری کافی مقبول رہی ہے ۔ تاہم ہمارے محترم جمال صاحب نے گویا اس نکتے کو ایک مصدقہ اطلاع کے طور پر بیان کیا ہے چنانچہ اس سے اختلاف کی جسارت کی جارہی ہے۔

نائن الیون کے حملوں میں کل مرنے والوں کی تعداد 19 ہائی جیکروں سمیت 2996 تھی اور ان میں 270 سے 350 تک افراد یہودی عقیدہ رکھتے تھے۔ یہ تعداد کل مقتولین کی تعداد کا بارہ فیصد سے پندرہ فیصد بنتی ہے ۔ نیویارک شہر میں یہودی کل آبادی کا بارہ فیصد ہی ہیں۔ اس دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے ساٹھ سے زائد یہودی افراد کو اسرائیل میں دفن کیا گیا تھا۔ اس امر کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا کہ نائن الیون حملوں کے بارے میں یہودی افراد کو پہلے سے خبردار کیاگیا تھا یا یہ کہ وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے غیر حاضر تھے۔ (مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “آرمی اسٹیشن لائبریری ملتان کا نوحہ

  • 23-02-2016 at 1:30 am
    Permalink

    اور جو تصویر کالم کے ساتھ لگائی گئی ہے ( شاید مجلس ادارت کی جانب سے ) وہ میونسپل لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ کی ہے ، کینٹ لائبریری کی نہیں ۔۔۔

    • 23-02-2016 at 1:49 am
      Permalink

      آپ نے درست نشان دہی کی ہے۔ یہ تصویر قاسم باغ کہنہ کی لائبریری کی عمارت کی ہے۔ اسے محض ملتان کی علمی روایت سے تعلق کے اظہار مین شائع کیا گیا ہے۔ یہ کینٹ لائبریری کی تصویر نہین ہے۔ (مدیر
      )

  • 23-02-2016 at 7:52 am
    Permalink

    مدیر محترم۔ متعلقہ پیراگراف میں یہ معمہ لاینحل قرار دیا گیا ہے کہ نو گیارہ کس کی سازش تھی اور اشتباہ اپنی جگہ مکمل طور پر موجود ہے۔
    بہرحال، بہت نوازش۔

  • 23-02-2016 at 11:16 am
    Permalink

    مدیرمحترم کی عمق نظرکا اعتراف کرتے ہوۓ راقم اختلاف راۓسے اختلاف کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ نا چیز کی راۓ میں ’معمہ‘،’لا ینحل‘جیسے الفاظ اور تین دفعہ ’یا‘ کی تکرار از خود إس بات کا بین ثبوت ہے کہ إس معاملہ میں مصنف خود بھی عدم تیقن کا ’شکار‘ ہے۔ باقی ؎ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یا ر میں آۓ۔

  • 23-02-2016 at 5:18 pm
    Permalink

    Go to any Public library of Pakistan and compare the environment and facilities with the environment and facilities that were available a decade or two ago, you will be dismayed. I revived my membership of Quaid-e-Azam Library and was shocked to know that the whole section containing law Journals was abandoned for the reason of lesser use. I suggested them to change the name of Library and rename it as CSS Library, as it does cater to the needs of competition exams only.

Comments are closed.