غیرت کے نام پر بے غیرتی ….


mujahid aliیہ تسلیم کر لینے میں کوئی ہرج نہیں کہ اپنی تمام تر کمزوریوں اور غلط سیاسی و انتظامی ترجیحات کے باوجود ملک میں خاندانی عزت و وقار کے لئے لڑکیوں اور خواتین کے قتل کے خلاف وزیراعظم نواز شریف کا موقف قابل صد تحسین و تعریف ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں عزت و غیرت جیسی بھیانک اور افسوسناک سماجی برائی کے خلاف بننے والی دستاویزی فلم کی نمائش کروانا بھی اپنے طور پر حوصلہ مندانہ اور قابل قدر اقدام ہے۔ آج اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ عزت اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کو قتل کرنا ظالمانہ اور غیر انسانی فعل ہے۔ نہ اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس گھناﺅنے جرم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ آج وزیراعظم کی خواہش پر اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فلم ساز اور ڈائریکٹر شرمین عبید چنائے کی نئی دستاویزی فلم ”اے گرل ان دی ریور“ (دریا میں ایک لڑکی) کی نمائش کی گئی تھی۔ اس فلم کو بھی امسال اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ اس موقع پر فلم کی پروڈیوسر نے واضح کیا کہ غیرت کے لئے قتل کرنا کوئی عزت کی بات نہیں ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 5 ہزار خواتین کو خاندان کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنے کی پاداش میں (جن میں عام طور سے اپنی مرضی سے شادی کرنے کا معاملہ شامل ہوتا ہے) قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ہزار لڑکیاں صرف پاکستان میں موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں۔ جبکہ پاکستان سے 6 گنا زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں بھی عزت یا غیرت کے نام پر قتل کی یہی تعداد ہے۔ یہ سماجی علت کئی لحاظ سے قابل نفرت ہے اور اسے مسترد کرنا سماج ، حکومت اور نظام پر لازم ہے۔ لیکن جہالت ، قبیح سماجی رسومات ، غلط خاندانی روایات اور خواتین کے حقوق کا تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے ہر روز تین سے پانچ لڑکیوں کو خود فیصلہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس جرم کو غلط سمجھتے ہوئے بھی سرکاری ادارے ، سماجی رویے اور مذہبی رہنما ایسا سانحہ رونما ہونے کی صورت میں مظلوم کا ساتھ دینے کی بجائے، خاندان اور اس کے غلط ظالمانہ فعل کو سمجھنے اور ان کی مجبوری کا احساس کرنے کی بات کرنے لگتے ہیں۔ اسی لئے اس جرم کے خلاف قومی سطح پر نہ کوئی تحریک دیکھنے میں آتی ہے اور نہ ہی مروجہ قوانین کو پوری سختی سے ایسے گھناﺅنے جرم میں ملوث لوگوں کے خلاف نافذ کیا جاتا ہے۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے قتل عام طور سے بھائی ، باپ یا دوسرے قریبی عزیز کے ہاتھوں سرزد ہوتے ہیں۔ یہ سب رشتے احترام، اعتماد اور بھروسے کے رشتے ہوتے ہیں۔ لیکن جاہلانہ سوچ اور لڑکی کی رائے کو خاندان کی عزت پر دھبہ قرار دے کر یہی قابل اعتماد و احترام رشتے اپنی بیٹی ، بہن یا بھتیجی و بھانجی وغیرہ کے دشمن ہو جاتے ہیں۔

جرم کی سنگینی کے باوجود عام طور سے ایسے قتل میں ملوث لوگ ابتدائی پولیس و عدالتی کارروائی کے بعد ہی رہا ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کا پولیس اور عدالتی نظام قاتل باپ یا بھائی کو سزا دینے میں ناکام رہتا ہے۔ کیونکہ تھانے کے اہلکار اور عدالت کے جج جذباتی طور پر قاتل اور مجرم کے فعل کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ افسوس کا اظہار ضرور کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایسے مجرم کو بچانے کے لئے بھی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اس جرم کے حوالے سے بلا خوف و تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی سماج کے موجودہ مزاج میں اس کے لئے قبولیت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عام طور سے خاندان یا اس کے مرد سربراہ کی بات کو ہی کمزور اور بے بس لڑکی کی رائے یا موقف پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اس لئے ایسے جرم کے گواہ سامنے نہیں آتے یا پھر ایسی شہادت پیش کرتے ہیں جو مجرم ہی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہ بات عام مشاہدہ میں آئی ہے کہ کسی لڑکی کے قتل کے بعد پورا خاندان اور بعض اوقات پورا گا?ں مجرموں کی طرفداری میں ہر کام کر گزرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ رہی سہی کسر ملک میں نافذ العمل قصاص کے قوانین کے ذریعے پوری کر لی جاتی ہے۔ یعنی اگر کسی لڑکی کو اس کے بھائی نے قتل کیا ہے اور اس کے خلاف جرم بھی ثابت ہو گیا ہے تو بھی لڑکی کا باپ یا ماں قصاص کے قوانین کے تحت اسے معاف کر کے اپنے کئے کی سزا سے محفوظ کروا لیتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کے قتل کی منصوبہ بندی میں باپ ماں اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی شامل ہوتے ہیں۔ گویا پہلے خود ہی ایک معصوم لڑکی کو قتل کرتے ہیں پھر اس کے وارث بن کر نامزد قاتل کو معاف کر کے معاملہ صاف کر لیتے ہیں۔

اس لئے غیرت و عزت کے نام پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لئے صرف قوانین کو سخت اور موثر کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لئے سماجی رویوں میں تبدیلی کے لئے قومی مہم چلانے کی ضرورت ہو گی۔ ایسے میں سب سے پہلے تو یہ تسلیم اور قبول کرنا ہو گا کہ کسی خاندان کی لڑکی اور خاتون کو بھی رائے رکھنے اور فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ خاص طور سے جب یہ معاملہ اس کی شادی یا مستقبل سے متعلق ہو۔ عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری اور خاندان کی کمتر اکائی قرار دینے والا مذہبی بیانیہ اور اس کی بنیاد پر راسخ ہونے والا سماجی رویہ اس مسئلہ کی اصل جڑ ہے۔ اس حوالے سے صرف بیرونی امداد پر کام کرنے والی رضا کار تنظیمیں ہی کافی نہیں ہیں بلکہ محلے اور گاﺅں کی مسجد کے امام ، اسکول کے استاد اور علاقائی سیاسی لیڈروں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنفی مساوات کا تصور عام کریں اور اسے سماج میں راسخ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا مزاج بھی انتہا پسندی اور غیر حقیقت پسندانہ اقدام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے صرف اپنے خاندان کی عورتوں کو ان کی شناخت ، فیصلے کے حق اور رائے رکھنے سے ہی محروم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ وسیع سماجی تناظر میں یہ رویہ عمومی شدت پسندی اور تشدد اور پھر دہشت گردی کی بنیاد بنتا ہے۔ ملک میں گزشتہ دو دہائیوں میں مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر قتل و غارتگری کو جائز قرار دینے کے جس رویہ نے فروغ پایا ہے ، اسے اس کی جزئیات سمجھے بغیر مسائل کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔

بدنصیبی کی بات ہے کہ پاکستان سے متعدد مغربی ممالک میں جا کر آباد ہونے والے پاکستان باشندے بھی بعض اوقات اس جاہلانہ اور متعصبانہ سماجی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں جو وہ اپنے وطن سے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ نئے معاشروں کا مساوی سلوک اور عدم تشدد کا سبق ان کے شعور میں نہیں سماتا۔ یہی وجہ ہے کہ ناروے سے لے کر امریکہ اور کینیڈا تک سے ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں کہ باپ یا بھائی نے بیٹی یا بہن کو مرضی کی شادی کا فیصلہ کرنے پر قتل کر دیا۔ ناروے جیسے چھوٹے ملک میں آباد محدود پاکستانی کمیونٹی میں بھی خاندانی غیرت کے نام پر قتل کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اس وقت بھی مقامی عدالت میں ایک خاندان کے کئی افراد کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہو رہی ہے جنہوں نے مل جل کر پاکستان میں اپنی بیٹی کے شوہر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ حالانکہ یہ شادی خاندان ہی کے ایک لڑکے سے کی گئی تھی۔ لڑکی بروقت پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی جس کی وجہ سے اس کی جان محفوظ رہ سکی۔

خاندان میں شادی کے حوالے سے پاکستان میں سماجی علت بہت راسخ ہو چکی ہے۔ حالانکہ جدید طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کزن میرج آنے والی نسلوں کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں کزن کے ساتھ شادی کرنے کا رواج نہیں ہے۔ اگرچہ اسلام میں اس کی اجازت ہے لیکن اس پر جس شدت سے پاکستان میں عمل ہو رہا ہے، وہ دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کو ماں باپ بوجھ تصور کرتے ہیں اور جلد از جلد ان کی شادی کر کے ’ فرض‘ سے عہدہ برآ ہونا چاہتے ہیں۔ ایسے میں بہن بھائی ایک دوسرے کے بچوں کے آپس میں رشتے طے کروا کے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل نئی نسلوں کی ذہنی استعداد اور جسمانی ساخت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس رواج کو احسن طریقے سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح مغربی ممالک میں آباد پاکستانیوں میں یہ تصور عام ہے کہ یہاں کے معاشرے فحش ہیں اور لڑکیوں کو غیر ضروری آزادی دینے کا سبب بنتے ہیں۔ اس غلط تصور کو ختم کرنے کی بجائے بہت سے والدین لڑکیوں کو کم سنی میں ہی پاکستان بھیج دیتے ہیں جہاں انہیں سخت سماجی نگہداشت میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ پھر ناپختہ عمر میں ہی ان کی شادی کر کے اپنے تئیں مذہبی فریضے سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ برائی کسی معاشرے میں نہیں ہوتی بلکہ خود کو عقل کل سمجھنے اور دوسروں کے حقوق مسترد کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ مغربی معاشروں میں بھی ماں باپ اگر اولاد کے ساتھ بہتر مواصلت قائم کریں اور اپنی اقدار کو مثبت طریقے سے پیش کریں تو اولاد ماں باپ کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

بدنصیبی سے پاکستان میں حاوی مذہبی طبقے ان سماجی نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور دین کی نامکمل اور غیر واضح تفہیم کی بنیاد پر جہالت اور متشدد رویوں کو عام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم کا یہ عزم قابل تحسین ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ناقابل معافی جرم ہے۔ اس جرم کی روک تھام کے لئے ابتدائی طور پر انتظامی اداروں خاص طور سے پولیس کے اہلکاروں کی ذہنی تربیت سب سے اہم کام ہو گا تا کہ وہ اس جرم میں معاونت کی بجائے، حقیقی معنوں میں اس کی روم تھام کے لئے کام کر سکیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali