مشال خان کے والد کا موقف


عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں بے دردی قتل کئے جانے والے طالب علم مشال خان کا جنازہ آج ان کے آبائی گاﺅں زیدہ صوابی میں ادا کیا گیا۔جنازے میں ریڈیو مشال کے نمائندے نے مشال کے والد اقبال خان سے جو پشتو زبان کے شاعر بھی ہیں، مختصر بات چیت کی۔ نمائندے نے سوال کیا کہ مشال کے کیس میں پولیس نے آپ کو انصاف دلانے کوئی یقین دلایا ہے؟ مشال کے والد اقبال خان نے کہا!

”میرا نام اقبال خان ہے۔ پولیس آئی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کے کوئی تحفظات ہیں(کسی پر شک ہے) تو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ میں نے اس کے جواب میں ان سے یہ کہا کہ میں تو خود اس موقع پر موجود نہیں تھا۔میں کسی پر ویسے ہی الزام نہیں لگا سکتا۔ مگر اس یونیورسٹی میں کیمرے لگے ہوئے ہیں( اسی میں سے دیکھا جائے)۔ صرف میرا بیٹا نہیں مارا گیا، صرف اور لوگ زخمی نہیں کئے گئے بلکہ ان لوگوں نے حکومت کی رٹ بھی چیلنج کی ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ اپنی رٹ بحال کرے۔حکومت جب اپنی رٹ کی بحالی کے لئے تفتیش کرے گی تو اس کی (مشال کے قتل کی)تفتیش بھی ہو جائے گی۔ دوسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ (مشال) میرا بیٹا تھا۔میں نے پالا تھا۔میرا رب جانتا ہے۔یہ گاﺅں کے اور آس پڑوس کے لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان کو کیسے تالے کے اندر پالا تھا(اچھی تربیت دی تھی)۔ اگر آس پڑوس میں کسی نے بھی کوئی ایسی گواہی دی (کسی بھی اہانت یا شک کی) کہ اس (مشال) نے ایسا کچھ کیا ہو تو میں ذمہ دار ہوں۔ باقی وہ جب یونیورسٹی سے گھر آتا تھا ، تو جب بھی دین کی بات آتی تھی، تو وہ(مشال) پیغمبر اسلام ﷺ کا حوالہ دیتا تھا۔ چونکہ صحافی تھا۔ صحافت کا طالبعلم تھا تو نظام پر تنقید کرتا تھا۔ تو جب بھی اس نظام پر تنقید کرتا تھا حضرت عمر فاروق کے نظام کا حوالہ دیتا تھا۔ میں تو یہ پیغام ان سب کو دینا چاہوں گا۔ ظاہر ہے یہ بھی میری طرح بچوں کے باپ ہیں۔ ہم اس غربت میں بچپن سے لے کر اب تک (تعلیم کے لئے) اس کو کہاں کہاں تک لے کر گئے۔ روس تک لے کر گیا۔ اسے پڑھایا۔ یہ اس کا آخری سال تھا۔ اس دن اس کی والدہ نے اسے کہا کہ گھر آجاﺅ۔ اس نے کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو یونیورسٹی میںچھٹی ہو گی۔ میں جمعہ کے دن گھر آﺅں گا۔ یہ دیکھ لیں آگیا( جنازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔

ہمیں تو یہ صدمہ پہنچ گیا۔ ہم برداشت کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم صبر کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم امن والے لوگ ہیں۔ ہم اس وطن میں محبت اور امن کا پیغام دیتے رہے ہیں۔ ہم جنگ اور فساد کے خلاف ہیں۔

اور صاحب! میں نے سکردو میں حامد میر صاحب کو کہا تھا کہ اگر جنگ میں عزت ہوتی تو کتے حکمران ہوتے کیونکہ کتے سب سے زیادہ لڑتے ہیں“۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔