مشال خان کے جنازے کو کندھا کس نے دیا؟


اپنے پیاروں اور بزرگوں کی قبروں پر خواتین عموما جمعرات کے دن ہی حاضر ہوتی ہیں جمعرات کو عصر کے وقت کوئی اپنے چادر کی پلوسے چاول اور گندم کے چند دانے باندھے قبرستان کی طرف جارہی ہوتی ہے اور کوئی اپنے دوپٹے کی کنارے سے آنسو صاف کرتی واپس آرہی ہوتی ہے۔ فرخندہ ملکزادہ بھی کابل شہر سے چند ہی کلومیٹر کی فاصلے پر واقع شاہ دو شمشیرہ کے مزار پر چلی گئی تھی۔ یہ 19 مارچ 2015 کو جمعرات کا دن تھا فرخندہ حافظہ قرآن تھی، زیارت سے فارغ ہونے کے بعد وہ درگاہ کے مجاور کے جانب متوجہ ہوئی جو ناخواندہ اور ضعیف الاعتقاد عورتوں کا جمگھٹا لگا کر ان میں پیسوں کے عوض صحت، اولاد، خاوند کی خوشنودی، بدخواہوں سے نجات سمیت دنیا جہان کی مسائل کا حل فروخت کررہے تھے۔ فرخندہ نہ شاید سوچا ہوگا کہ ہزاروں لاکھوں خوش اعتقاد اور سادہ لوح عورتوں کو سمجھانا گو کہ مشکل ہے مگر ایک شخص کو تو بات سمجھائی جا سکتی ہے۔

چنانچہ وہ دوسرے انسانوں ہی کی طرح گوشت و پوست سے بنے ہوئے خدائی اختیارات کو سنبھالنے والے اس صاحب عبا وقبا شخص کو مخاطب ہوئی کہ آپ چند ٹکوں کے لیے خدا کے ان بندوں کی عقیدت، شخصیت اور عزت نفس سے کیوں کھیل رہے ہیں۔ مجاور نے بجائے جواب دینے کے شور مچانا شروع کردیا کہ اس لڑکی نے قرآن جلادیا ہے، شور بلند ہوتا گیا اور ہجوم جمع ہونے لگا

کیا ہوا؟
کس نے؟
توبہ توبہ!

کس نا معلوم کونے سے پہلا پتھر اٹھا، فرخندہ کی ماتھے پر لگ گیا پھر دوسرا پھر تیسرا۔

لاتیں اور گھونسے، پھر اینٹیں اور ڈنڈے، فرخندہ اب فٹبال بن چکی تھی جس کی اگلے ٹھکانے کا تعین اس نے نہیں بلکہ شوٹ مارنے والے نے ہی کر نا تھا۔ فرخندہ کے ہونٹ ہل رہے تھے شاید وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، کچھ سمجھانا چاہ رہی تھی مگر سننے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ سبھی چیخ رہے تھے، کہتے ہیں نا کہ بندے کے لیے ایک ہی آن میں بولنا اور سننا دونوں ممکن نہیں ہوتا۔

فرخندہ کے ہونٹ ساکت ہوگیے، پھر آہستہ آہستہ اس کا پورا جسم ہی پر سکون ہونے لگا، مگر مجمع پر نیے آنے والوں کا اضافہ اب بھی جاری تھا، کام تو پہلے والے تمام کرچکے تھے اب نئے آنے والے اس کار خیر میں اپنا حصہ کیسے ڈالتے، جسم یا تو زندہ ہوتا ہے یا مردہ، مارنے کے بعد اسے مزید مارا تو نہیں جا سکتا سو اس کی جسم پر گاڑی چڑھا کر دھڑ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا، پھر ان دونوں حصوں کو یکجا کرکے رکھ دیا گیا، گھر بھجوانے کے لیے نہیں بلکہ آگ لگانے کے لیے۔

27 سالہ حافظہ قرآن فرخندہ اب سوختہ لاشہ بن چکی تھی، وہ مرچکی تھی، مگر فرخندہ کچھ بتا سکتی تو ہی بتاتی کہ اس کی موت کس لمحے واقع ہوئی، وہ کب مری؟ لاتوں اور گھونسوں سے، پتھر اور اینٹوں سے، گاڑی کے ٹائروں تلے آنے سے، یا پھر آگ کی شعلوں سے؟

فرخندہ یہ تو نہیں بتاسکتی تھی مگر اس کی سوختہ لاش نے چیخنا شروع کر دیا، ایسی کان پھاڑنے والی چیخیں کہ پورا شہر کابل پل بھر میں جاگ گیا، کابل کی عورتیں دیوانہ وار اس کے گھر، شاہ دو شمشیرہ کے مزار اور کابل کے ہر چوک و چوراہے پر جمع ہونا شروع ہوگئیں، کہیں چار کہیں دس کہیں دو سو اور کہیں ہزار۔

22 مارچ اتوار کو فرخندہ کی نماز جنازہ تھی۔ دنیا کی تاریخ کا عجیب اور منفرد جنازہ، وہ پہلا جنازہ جس میں مرد کے لیے میت کو کندھا دینا ممنوع تھا یہ جنازہ عورتوں کے کاندھوں پر ہی قبرستان پہنچا یہاں فرخندہ کے سوگ میں مردوں کو جمع ہونے اور اشک بہانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ مردوں نے تو پہلے ہی اپنی مردانگی کا حق ادا کر دیا تھا۔

کل رات پھر فرخندہ کی یاد دآئی۔ ایک بار پھر ایسا ویڈیو کلیپس دیکھنے کو ملا کہ کسی زندہ انسان کے مردہ ہونے کا یقین کرنے کے لیے اسے کیسے ٹھڈے مار کر ٹٹولا جاتا ہے۔ کاش انسانوں کی انسانیت ماپنے کے لیے بھی کوئی ایسا طریقہ ایجاد ہوتا۔ کاش احساس کی زندگی جانچنے کے لیے بھی کوئی آلہ ایجاد ہوتا۔ کل رات پھر بچپن میں پڑھی اس کہانی کا پلاٹ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا کہ جب ایک بچے پر مقدس اوراق کو گٹر میں ڈالنے کا الزام لگ جاتا ہے، بچہ انکار کردیتا ہے مگر پادری بچے کے باپ کے پاس آکر بہت پیار سے سمجھا تاہے کہ دیکھیے! آپ کے بچے کے اس جرم کو معاف کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اس جرم ناکردہ کا مجمع کے سامنے کھلے عام اعتراف تو کر لے، باپ کو بات سمجھ آ جاتی ہے اور وہ بیٹے کو اعتراف گناہ پر آمادہ کردیتا ہے، بچہ لوگوں کے سامنے بلند آواز سے جرم کا اعتراف کر کے معافی کا خواستگار ہوجاتا ہے۔ مگر روحانی پیشوا اس کے باپ سے مخاطب ہوکر کہہ دیتا ہے کہ اب آپ فارغ ہیں اور پھر مجمع کی جانب رخ کرکے اعلان کرتا ہے کہ چونکہ بچے نے آپ سب لوگوں کے سامنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے اس لیے اب آپ سب لوگ بھی اس وقت تک اس جرم میں شریک تصور کیے جائیں گے جب تک اس کے اوپر سنگسار کی مقررہ سزا جاری نہیں ہوتی۔

میں نہیں جانتا کہ مشال خان کا واقعہ اس واقعے سے کتنا مماثل اور کتنا مختلف ہے۔ میں تو بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مشال خان کے جنازے کو کندھا کس نے دیا، کابل کے فرخندہ کو مارنے والے تو مرد تھے سو اس کے جنازے میں مردوں کو میت کو کندھا دینے کی اجازت نہیں تھی مگر مشال خان تو مرد تھے اور مسلمان تھے اور اس کو مارنے والے بھی مرد اور مسلمان ہی تھے تو پھر اس کے جنازے کو کندھا دینے والے کون تھے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔