سچی مکھ پنچھی اور عظیم بندروں کی کہانی


کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ہمالیہ کے پہاڑوں پر بندروں کا ایک عظیم قبیلہ رہتا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کس وجہ سے عظیم قرار دیے بیٹھے تھے مگر بہرحال اب وہ پکے ہو چکے تھے کہ وہ کرہ ارض کے عظیم ترین بندر ہیں۔ گرمیوں میں تو وہ ہمالیہ کی سینری اور ماحول کا خوب لطف اٹھاتے تھے اور اس بات پر ناز کرتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ ایک ہل سٹیشن پر رہتے ہیں، لیکن سردیوں میں ٹھنڈ سے ان کا ککڑ بن جاتا تھا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ وہاں سے سپاہیوں کا ایک قافلہ گذرا۔ رات گزارنے کے لیے انہوں نے کیمپ لگایا اور سردی سے بچنے کے لیے پھونکیں مار مار کر انگیٹھیاں جلائیں۔ بندر ان کو درختوں پر بیٹھے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے کہ اللہ نے یہ کیا مخلوق بنائی ہے جو کہ اتنی سردی میں بھی کہیں دبکنے کی بجائے کالے کالے پتھروں کو بلاوجہ پھونکیں مار رہی ہے۔ انہوں نے حیرت سے دیکھا کہ کچھ دیر میں کالے سیاہ پتھر سرخ ہو کر تازہ رس بھریوں جیسے دکھنے لگے ہیں۔ صبح قافلے کے جانے کے بعد وہ کیمپ کا جائزہ لینے گئے۔ ان کو وہاں سلگتے ہوئے کوئلے نظر آئے تو وہ نہایت حیران ہوئے کہ ان سے گرمی نکل رہی تھی اور وہاں سردی کا نام و نشان نہیں تھا۔

بندر نہایت ہی ذہین تھے۔ وہ سمجھ گئے کہ ان سرخ رس بھری نما چیزوں کو پھونکیں ماری جائیں تو ان سے گرمی نکلنے لگتی ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھا کہ یہ سرخ سرخ چیزیں کہاں سے لائی جائیں۔ ان کا سردار ایک نہایت تجربے کار اور داشمند بندر تھا، بولا کہ ہمارے جنگل میں سرخ رنگ کی بے شمار رس بھریاں ہیں۔ وہ پہلے سے ہی سرخ ہیں اور ان سپاہیوں کی رس بھریوں کی طرح کالی نہیں ہیں، تو وہ بھی ان کالی رس بھریوں سے زیادہ گرم ہوں گی۔ ان کو اکٹھا کر کے پھونکیں مارتے ہیں تو وہ بھی سلگ کر خوب آنچ دیں گی۔ سارا قبیلہ اپنے سردار کی عقل مندی پر عش عش کر اٹھا اور فوراً رس بھریاں اکٹھی کرنے نکل گیا۔ شام ڈھلے ایک درخت کے نیچے رس بھریوں کا ڈھیر لگایا گیا اور سارا قبیلہ جی جان سے پھونکیں مارنے لگا۔

اوپر درخت پر سچی مکھ نامی ایک پرندہ اپنے گھونسلے میں بیٹھا تھا۔ پرندہ ہونے کی وجہ سے وہ رس بھریوں پر اتھارٹی تھا۔ وہ خود کو عقل کل بھی سمجھتا تھا۔ فوراً کہنے لگا ”بھئی بندرو، یہ حماقت بند کرو۔ رات ہونے والی ہے۔ اور بادل بھی گھنے ہیں۔ بارش ضرور ہو گی۔ سردی خوب پڑے گی۔ کوئی پناہ گاہ ڈھونڈو جہاں ہوا اور بارش سے بچ سکو۔

بندروں کا سردار اپنی اتھارٹی میں اس مداخلت پر کافی سیخ پا ہوا۔ کہنے لگا کہ ’دیکھو نادان پرندے۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ تم نے سنا نہیں کہ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ جو اپنی سلامتی کو عزیز رکھتا ہے، اسے کسی جواری، ناکارہ کاری گر، احمق اور مسخرے سے بات نہیں کرنا چاہیے۔ اور تم مجھے ایک نہایت احمق پرندے لگتے ہو۔ جاؤ اپنا کام کرو‘۔

سچی مکھ کو خدمت خلق کا جنون چڑھا ہوا تھا اور وہ بندروں کے اس قبیلے کی بھلائی پر تلا ہوا تھا۔ وہ بار بار اپنی بات دہراتا رہا۔ دوسری طرف بندروں کی سرتوڑ کوشش کے باوجود ان کی پھونکوں سے رس بھریاں سلگنے میں نہیں آ رہیں تھیں بلکہ ہوا لگنے سے مزید ٹھنڈی ہو رہی تھیں۔ اب بندروں کو اپنے دانش مند سردار کی دانش پر بھی شبہ ہونے لگا تھا اور وہ دبی دبی زبان میں اس سے پوچھ رہے تھے کہ رس بھریاں گرم کیوں نہیں ہو رہی ہیں اور اب سردی سے برا حال ہو رہا ہے تو کیوں نہ کہیں کوئی پناہ گاہ ڈھونڈی جائے۔

بندروں کا سردار اب ایک طرف تو بندروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ بس دو چار پھونکوں کی بات ہے، پھر سب رس بھریاں سلگ اٹھیں گی اور بہترین گرمی پہنچائیں گی، اور دوسری طرف وہ سچی مکھ پنچھی کی مایوس کن باتوں سے کافی تنگ آ رہا تھا جو کہ بندروں کے عظیم قبیلے کی عقل پر مسلسل شبہ ظاہر کر رہا تھا۔

تنگ آ کر وہ درخت پر چڑھا، سچی مکھ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا، اور اس کو درخت کے تنے سے اس وقت تک رگڑتا رہا جب تک وہ آنجہانی نہ ہو گیا۔ پھر بندر رس بھریوں کو پھونکیں مارتے رہے اور چند گھنٹوں میں ہی بارش اور ہوا سے شدید سردی کا شکار ہو کر آنجہانی ہو گئے۔

جیسا کہ روایت ہے کہ ہر کہانی کے بعد کوئی نتیجہ نکالا جاتا ہے، تو اس کہانی کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر تم کسی احمق کو عقل دینے کی کوشش کرو گے، تو یہ ان چاہی بن مانگی عقل اسے پرسکون کرنے کی بجائے غصے میں مبتلا کر دے گی۔ اگر تم سانپ کو دودھ پلاؤ گے تو اس کے زہر کو زیادہ کرنے کا سبب بنو گے۔ اسی وجہ سے ہر ایک کو پند و نصائح کرنا چھوڑ دو۔ پہلے اس کی عظمت چیک کر لیا کرو کہ کتنی ہے اور حد سے زیادہ عظیم لوگوں اور قبیلوں سے محتاط رہا کرو۔

قدیم ہندوستانی کلاسیک پنچ تنتر کی ایک جدید حکایت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar