قومی اسمبلی میں مشال کے لئے دعائے مغفرت


قومی اسمبلی کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے کسی شخص کے لیے دعائے مغفرت کروائی گئی ہو۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جمعے کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں عبدالوالی خان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر توہین مذہب کرنے کے الزام میں یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو قتل کیے جانے کے واقعے کی مذمت کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں مقتول کے ایصال ثواب کے لیے دعائے مغفرت بھی کروائی گئی۔

قومی اسمبلی کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے کسی شخص کے لیے دعائے مغفرت کروائی گئی ہو۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں صوبہ پنجاب میں پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کی سکیورٹی پر تعینات ممتاز قادری نے قتل کیا تھا تو اس واقعے کے خلاف پارلیمان میں مقتول کے لیے دعائے مغفرت نہیں کروائی گئی تھی۔

ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب کو اس لیے قتل کیا تھا کہ انھوں نے توہین مذہب سے متعلق ملکی قوانین کی مخالفت کی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بڑے جذباتی دکھائی دیے۔ وہ مردان یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے پر بات کرنا چاہتے تھے تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے یہ کہہ کر انھیں اپنی نشستوں پر بیٹھنے کو کہہ دیا کہ وقفۂ سوالات کے بعد نقطۂ اعتراض پر بات کر لیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  سندھ میں نابینا ڈولفن سے جنسی زیادتی کی مکروہ روایت

پریس گیلری میں بھی یہ چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ آج معلوم ہو جائے گا کہ کونسی جماعت اس واقعے کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور کونسی اس پر خاموشی اختیار کرتی ہے۔

وقفۂ سوالات ختم ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے نقطۂ اعتراض پر مردان یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کی بجائے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین قریبی ساتھیوں کا معاملہ اُٹھا دیا۔

حکومت کی جانب سے جواب نہ ملنے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔

حکومت نے ایوان کی کارروائی چلانے کی کوشش کی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی رمیش لال نے کورم کی نشاندہی کردی جس کے بعد ارکان اسمبلی کی گنتی کی گئی تو ایوان میں ان کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں تھی جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ملتوی کر دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ملتوی کیا تو اس وقت ایوان میں موجود حکومتی ارکان کے چہروں پر طمانیت عیاں تھی جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ شکر ہے جان چھوٹی اور اُنھیں اس حساس معاملے پر اظہار خیال کا موقع نہیں ملا۔

دوسری جانب حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے احتجاج ختم کیا ہے اس کے بعد حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان اور بلخصوص وفاقی وزرا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے جس کی وجہ سے بارہا ان دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  مشال قتل کیس، مرکزی ملزم وجاہت کا اعتراف جرم

قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا تو لابی میں ارکان اسمبلی آپس میں گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے کہ سپیکر نے وقفۂ سوالات سے پہلے مردان یونیورسٹی پر بات کرنے کی اجازت نہ دیکر اچھی روایت قائم نہیں کی۔

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا اجلاس بھی جمعے کے روز تھا لیکن اس اجلاس میں مشال کے قتل کا واقعے کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا جب کہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بھی ارکان کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے وفاقی وزرا کی عدم موجودگی پر کافی برہم دکھائی دیتے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 935 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp