مشال خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں قابل اعتراض مواد نہیں ملا


مردان کی عبدالولی خان یونی ورسٹی میں گزشتہ روز توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والا مشال خان سوشل میڈیا پر بھی سرگرم تھا۔ اگر مشال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر ڈالیں تو کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملتی، مشال خان ایک جذباتی نوجوان نظر آتا ہے جو معاشرے کے جھوٹ اور فریب سے بیزار ہے۔۔

مشال خان نے اتوار کو اپنی پروفائل تصویر تبدیل کی،جمعے کو بھی اپنی تصویر تبدیل کی اور لکھا سب کو صبح بخیر، 5 اپریل کو مشال خان نے فیس بک پر موسم کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا ا”ٓج کا موسم بھی حسین ہے اور یہ رہیں کچھ تصاویر۔ امید ہے سب کو پسند آئیں گی۔”

چار اپریل کو مشال خان نے اپنی ایک تصویر شیئر کی اور ساتھ ایک چھوٹی سی دعا لکھی کہ ’’اے رب مجھے بے خبروں کی بے فکری عطا کر یا علم کو سنبھالنے کی طاقت عطا فرما‘‘۔

تین اپریل کو مشال خان نے لکھا کہ ’’میری تاریکی اور تمہاری تاریکی میں فرق ہے، میں اپنی خرابی کو دیکھ سکتا ہوںاور اسے قبول بھی کرسکتا ہوں جبکہ تم آئینے کو سفید چادر سے ڈھانپنے میں مصروف ہو،تمھارے گناہوں اور میرے گناہوں میں فرق ہے، میں گناہ کرتا ہوں تو میں آگاہ رہتا ہوں جبکہ تم درحقیقت اپنے ہی بنائے ہوئے تصورات کا شکار ہو، میں ایک پکار ہوں، جل پری ہوں، مجھے معلوم ہے میں خوبصورت ہوں، جب میں سمندر کی لہروں پر تیرتا ہوں اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر بھی دکھا سکتا ہوں، تم ایک سفید چڑیل ہو، جادوگر ہو، تمہارے منتر ہیرا پھیری ہیں اور تمہارا کڑھاؤ جہنم سے آیا ہے لیکن تم پھر بھی اپنے آپ کو سفید چادر میں لپیٹتے ہو اورچاندی کا تاج پہنتے ہو‘‘۔

تین اپریل کو روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے زیر زمین ٹرین اسٹیشن پر بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اکتیس مارچ کو مشال نے اپنی ایک تصویر کے ساتھ شعر لکھا

راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے

وہ نظر چپکے سے مجھے دیکھ رہی ہوجیسے

اٹھائیس مارچ کو مشال نے کسی کا قول لکھا ’’ جو شمع تم دوسروں میں جلانا چاہتے ہو پہلے وہ خود میں جلاؤ‘‘۔

ستائیس مارچ کو مشال خان نے لکھا کہ ’’جتنا میں لوگوں کو جانتا جاتا ہوں، اپنے کتے سے محبت بڑھتی جاتی ہے‘‘۔

مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے والوں نے ہاسٹل کے جس کمرے میں اسے گولی ماری اور تشدد کیا، اس کمرے کی دیوار پر مشال خان نے خود لکھ رکھا ہے کہ ’’اللہ سب سے بڑا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں‘‘۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔