کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں


 1585 میں پیدا ہونے والے یوریل ڈی کوسٹا (Uriel da Costa) ایک یہودی مفکر تھے۔ وہ اپنے عہد کے مسیحی اور یہودی پیشواؤں کے علم اور کردار پر سوال اٹھاتے تھے۔ انہیں 1640 میں ایک ہجوم نے مار ڈالا۔

پندرہویں صدی کے اوائل میں میں ابن خلدون کو ریاستی عتاب کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا جرم اپنے عہد کے ان خیالات کی نفی تھا جو اس زمانے کا سب بڑا سچ سمجھے جاتے تھے۔

ہائپیشیا (Hypatia ) روم کی ایک نامور فلاسفر تھیں۔ انہیں بےدردی سے قتل کردیا گیا تھا، اوروں کی طرح ان کا جرم بھی اختلاف رائے تھا۔

گلیلیو کو پکڑنے والے اور سزا سنانے والے اُس دور کے پوپ نے سوال کیا تھا کہ بتا زمین گھوم رہی ہے کہ نہیں ۔۔گلیلیو نے کہا مجھے مار دینے کے باوجود بھی زمین تو ویسے ہی گھومتی رہے گی۔

ابن رشد کو خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور نے 70 برس کی عمر میں جلاوطن کر دیا تھا۔ ان کا جرم عقل پسندی اور خرد افروزی تھا۔

رجعت پسند یوروپی معاشرے میں فکری تبدیلی لانے والے مارٹن لوتھر نے سوالات کا پرچہ کیتھولک چرچ کے دروازے پہ چپکادیا تھا جس کے بعد یورپ میں تحریک اصلاح مذہب شروع ہوئی۔۔۔ اور کون نہیں جانتا کہ سقراط کو ایتھنز کی بستی میں زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔

تاریخ میں لاتعداد مفکروں کو پتھر ، کتابیں مار کر یا آگ میں جھونک کر قتل کردیا گیا۔ ان گنت دانش وروں کو تو عمر بھر چرچ نے قید رکھا جن میں ایک نام کیمپینیلا (Tommaso Campanella)کا بھی ہے جنہیں پچیس سال کی عمر میں چرچ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔

 اگر کوئی توہین جیسے جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو تمام ثبوتوں کے ساتھ اسکو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ایک مدعی طالب علم نے جج بن کر فیصلہ سنا ڈالا اور ایک مشتعل ہجوم نے فیصلے کی تکمیل کرتے ہوئے مشعل بجھاڈالی ۔

اس سماج میں اب آسان ترین کام یہ رہ گیا ہے کہ اپنے مخالفین پر توہین مذہب کا الزام لگا کر بنا ثبوت اور قانون کی گرفت میں لائے بغیر اپنے حریف کو قتل کر دیا جائے کیوں کہ الزام بھی ایسا لگایا جائے کہ عقیدت مندوں کے لب سل جائیں اور کہنے سوچنے والا بھی منکر کہلائے!

صوابی سے تعلق رکھنے والے مشال خان نے روس سے سول انجینیرنگ کی تعلیم پائی تھی۔ وہ عبدالولی خاں یونیورسٹی مردان میں جرنلزم کے آخری سال کا طالب علم تھا ۔ انتہاپسندی ہماری رگوں میں ایسی سرایت کرچکی ہے کہ اب ہمیں انسان کے لہو سے بھی کراہت نہیں آتی۔

پچیس سالہ نوجوان کو بلاسفیمی چارج لگا کر ہجوم نے قتل کر ڈالا جو مدعی بھی خود تھا اور منصف کے فرائض بھی خود ہی ادا کر رہا تھا۔ مشال خان کی موت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر اس معاشرے میں توہین مذہب کے نام پر ماورائے عدالت قتل کرنے والوں تک کے لیے ایک سوال چھوڑ دیا۔

گزشتہ روز سے اب تک میرے دماغ میں جیسے سب ہی مفکروں کے جرم گھوم رہے تھے مگر کل ہلاک ہونے والے مشال خان کا تحریر کردہ کوئی جرم دیکھنے سننے کو نہیں ملا جس میں اُس نے کسی کی توہین ہو یا کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہو جس کی بنیاد پہ اُس کے اس بےرحمی سے مارے جانے کا کوئی جواز پیدا ہو۔

میرے وجود میں آہیں چیخ و پکار کررہی ہیں۔ مجھے اس کی سانسوں کی ٹوٹتی ڈور کا شور ویسے ہی سنائی دے رہا ہے جیسے یہ ظلم کا پہاڑ میرے اپنے گھر میں قیامت بن کر ٹوٹا ہو۔

عقیدے کے نام پر قتل کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اُن قوموں نے اپنے مفکرین کو قتل تو کردیا مگر وقت نے تاریخ بنا کر ان مفکروں کے اختلاف کو تعصب کی عینک اور ہٹ دھرمی کا نقاب اتار کر سائنس کی درگاہ میں کتابوں کی زینت بنا ڈالا ۔

آج ان لوگوں کے علم سے ہم سائنس کی دنیا میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں مگر اس کے بالکل برعکس ہمارے سماج کا رویہ ہے جو بنا سوچے بنا دیکھے کسی بھی شخص پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اور خود ہی جج بن کر فیصلہ سنا رہا ہے۔

آج سوشل میڈیا کی مدد سے ہمیں ایسے واقعات کا علم ہوجاتا ہے مگر اس سے پہلے ناجانے کتنے ایسے مفکر ہوں گے جو تاریک راہوں میں مارے گے۔ روشنی کی کرن کا انتظار کرنے والے دور حاضر کے دانشمندوں پر کفر اور غدار ہونے کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد بہت سی ہوائی باتیں بھی سننے میں آرہی ہیں جیسا کہ کسی لڑکی کے چکر میں مشال کو مارا گیا اگر اس بات میں تھوڑی سی بھی صداقت ہے تو دوسرے شخص پر توہین کا الزام لگا کر اُس کو قتل کر دینے سے آپ دُنیا والوں کی نظر میں تو شاید عاشقِ رسول ﷺ کہلا سکتے ہوں مگر اُس خدا کو دھوکا کیسے دو گے جو سب کے دلوں کا حال جانتا ہے ۔

نعرہ تکبیر کی گونج میں کلمہ گو کو قتل کردیا گیا مگر کسی عالم دین کی جانب سے کوئی رسمی مذمت سامنے نہیں آئی۔ چند سیاستدانوں نے قتل کی مذمت بھی کی تو اس انداز میں جیسے کوئی زنا بالجبر کی مخالفت تو کررہا ہو مگر صرف اس نکتے پر کہ لڑکی کو رسی سے باندھنا غلط تھا۔

ریاست نے ہمیشہ خوف کی فضا کو قائم رکھا ہےمگر اب اس کی زد میں آنے والے عام مسلمان ہیں۔

دھرم کا سوال پوچھنے والے بھی اہلِ جابر ہیں، شنوائی کرنے والوں کے کاندھوں پر بھی اختیار رکھا ہے کہ اگر تم بولے تو تم بھی مارے جاؤ گے ۔ مشال ہم شرمندہ ہونے کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں۔ اپنی اپنی سطح پر آواز بلند کرنے پر ہم بھی تمہاری لاش کی طرح ایک سوال بن جائیں گے ۔۔۔ تم تو عقیدت کی گواہی دیتے دیتے دم توڑ گئے مگر آج تمہارے نام سےفیک آئی ڈی بنا کر تم پر توہین ثابت کی جا رہی ہے۔ کل نظر آنے والا ہجوم ایک کینسر کی طرح پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے ۔۔ بولو مشال ہم کہاں تک امن لکھ پائیں گے؟

کل تمہارے بدن کو نوچ کر تمہارے لہو سے وضو کرنے والوں نے آج جمعہ ادا کیا ہوگا مگر اُن سے سوال کرنے والے بھی اپنے ایمان کی لاج رکھ جائیں گے ۔۔۔

سنو مشال تم تو چلے گئے مگر بہت سے تمہاری لاش کی طرح ایک سوال بن گئے اور تمہیں کاندھا دینے والوں کی آنکھوں میں بھی سوال تھا کہ اگر توہین مذہب کے قانون کی حمایت کرنے کے باوجود کون بہہ رہا ہے، اگر مارنے اور مرنے والا دونوں کلمہ گو ہونے کے باوجود مشکوک ہیں تو ایمان کا فیصلہ کیا جنازے کریں گے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔