مردان یونیورسٹی کے اساتذہ کہاں تھے؟


مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ایک سانحہ پیش آیا ہے کہ اہانت مذہب کا الزام لگا کر ایک طالب علم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس پر سوشل میڈیا میں کہرام مچا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ اسے وحشیانہ قتل قرار دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ دھیمے سروں میں اس کا دفاع بھی پیش کر رہے ہیں۔ جب جذبات ذرا سرد پڑ جائیں گے تو دفاع کرنے والے زیادہ بلند آواز میں حرمت رسول پر کٹ مرنے اور کاٹ ڈالنے کے نعرے بلند کریں گے۔

میں نے تین دہائیوں سے زاید پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ اس سارے واقعے میں جو بات میرے لیے حیرت کا باعث ہے کہ اس یونیورسٹی کے اساتذہ اس وقت کہاں تھے۔ ان کا کسی نے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ کوئی یونیورسٹی اساتذہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ ہوسٹل میں بھی وارڈن اور سپرنٹنڈنٹ ہوتے ہیں، وہ اس واقعے کے دوران کہاں تھے؟

کیا اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں استاد کا کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ میرے لیے یہ سوچنا محال ہے کہ یونیورسٹی میں اس قسم کا بلوہ ہو رہا ہو اور کوئی استاد اس غریب کو بچانے کے لیے سامنے نہ آئے۔ ہمارے ہاں اکثر مذہبی مدرسوں کے نظام تعلیم کی خرابی کا بہت رونا رویا جاتا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ کسی مدرسے میں اس قسم کا واقعہ رونما نہیں ہو سکتا۔ وہاں ذرا سی آواز بھی بلند ہوتی اور کوئی استاد سامنے آ کر طالب علموں کو حکم دیتا کہ اس شخص کو چھوڑ دو تو کسی میں سرتابی کی جرات نہ ہوتی۔ وہاں استاد کا احترام پایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں استادوں نے خود کو اس قدر بے توقیر کر لیا ہے کہ طالب علموں کے دل میں نہ ان کی قدر ہے نہ عزت۔

کیا زمانہ ہوا کرتا تھا جب استاد اپنے طلبہ کے نگران ہوتے تھے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کے زمانے کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کالج کے پرنسپل تھے۔ اس برس مشہور طالب علم لیڈر طارق علی یونین کے سیکریٹری تھے۔ وہ حکومت کے خلاف طلبہ کا ایک جلوس لے کر اسمبلی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب کو جب پتہ چلا تو وہ اپنی بائیسکل پر اس جلوس کے پیچھے گئے اور ریگل چوک سے اس جلوس کو واپس لے آئے۔ اپنے زمانے کے ایک واقعہ کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ ایوب خان کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہو چکا تھا۔ ایک دن گورنمنٹ کالج کے طلبہ نے جلوس نکالا، اس جلوس پر بنک سکوائر پر لاٹھی چارج ہوا۔ لاٹھی چارج کے بعد ہم لوگ بھاگ کر کالج واپس آ گئے۔ کالج کا گیٹ بند کرکے باہر کھڑی پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ وہ بھی آنسو گیس کے شیل فائر کر رہے تھے۔ اس زمانے میں ہمیں اتنا اطمینان ضرور تھا کہ پولیس کالج کے اندر داخل نہیں ہو گی۔ جب ہنگامہ زیادہ بڑھا تو پروفیسر اشفاق علی خان، جو اس وقت کالج کے پرنسپل تھے، اپنے دفتر سے نکل کر گیٹ پر آئے اور ہم طلبہ کو ڈانٹتے ہوئے حکم دیا کہ سب یہاں سے چلے جاؤ۔ کسی طالب علم میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ ان کا حکم ماننے سے انکار کرتا۔ میں نے خود بھی لاٹھیاں کھائی تھیں اور جسم سے ٹیسیں بھی اٹھ رہی تھیں۔ غصہ بھی تھا لیکن سر جھکا کر ہوسٹل کی جانب چل پڑے۔ پرنسپل صاحب نے پولیس والوں کو بھی حکم دیا کہ تم بھی یہاں سے جاؤ۔ پولیس والے بھی کالج کے سامنے سے ہٹ کر گول باغ میں چلے گئے۔

پروفیسر کرامت حسین جعفری بہت برس اس وقار اور احتشام کے ساتھ گورنمنٹ کالج، لائل پور، کے پرنسپل رہے کہ آج بھی اس شہر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں۔ ان کے کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جب انھوں نے نہ صرف اپنے طالب علموں کو سمجھا بجھا کر جلوس نکالنے سے باز رکھا بلکہ طالب علموں کو پولیس سے تحفظ بھی فراہم کیا۔ اس کے بعد جب وہ ایم اے او کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے تو جو کالج ہنگامہ آرائی کے لیے بہت بدنام تھا، اس کو ایک بہت پرامن تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا۔یہ وہ لوگ تھے جو ہنگامے کی خبر پا کر کہیں چھپ نہیں جاتے تھے نہ وہ اپنے طالب علموں میں اپنی پسند ناپسند کی بنا پر تفریق کیا کرتے تھے۔

اس واقعے کے متعلق پڑھ کر سچ تویہ ہے کہ مجھے اپنے استاد ہونے پر شرم آ رہی ہے۔ تہی دماغ تو ہم تھے ہی کیا اب ہم اخلاقی طور پر اس قدر پست ہو چکے ہیں کہ اپنے طالب علموں کا تحفظ کرنے کا حوصلہ بھی کھو چکے ہیں۔ بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے کوئی شخص حوصلہ کرکے کھڑا ہو جائے تو اکثر دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ ہجوم کے غصہ سرد ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس قابل بھی نہیں رہے کہ بھڑکتی آگ پر چونچ بھر پانی ہی ڈال سکیں؟ کیا ہم اس خوف سے لرزاں ہیں کہ طالب علم ہماری بات نہیں سنیں گے؟ اگرہم پستی کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں تو پھر اساتذہ کو میرا مشورہ یہی ہے کہ وہ روزی روٹی کے لیے کوئی اور باعزت ذریعہ تلاش کر لیں اور قوم کو چاہیے کہ اس نظام تعلیم کی فاتحہ پڑھ لیں۔ اس تاریک رات کی شاید اب کوئی سحر نہ ہو۔

معلوم نہیں علاؤالدین کلیم کی غزل کے یہ دو شعر کیوں یاد آ رہے ہیں:

کیوں دل محزوں دوبارا کس لیے گویا ہوا ہے

دیدہ نمناک پہلے ہی بہت رویا ہوا ہے

داد خواہی کا ہمیں یارا نہیں تھا اے ستم گر

تو نے اپنی آستیں سے کیوں لہو دھویا ہوا ہے

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں