کیا مکالمہ ممکن ہے۔۔۔؟


بات اب اہانت مذہب کا پڑاؤ عبور کرتے ہوئے شعر و شاعری میں صالحین و زاہدین پر کسی گئی پھبتی یا مذہب سے معنوی و استعاراتی چھیڑ چھاڑ پر ممانعت تک جا پہنچی ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ معاملات عشق کے ہیں اور عقل کو ان معاملات میں دور ہی رکھنا چاہئے۔ عشق کے وکیل اپنی جگہ قائم ہیں اور اگر مگر سے کام چلاتے ہوئے اپنی گھسی پٹی زمینوں میں مشاعرہ کب کا لوٹ چکے ہیں۔ چاہے وہ جان لیوا ہوں یا نہ ہوں، عشق کے ہلاکت خیز حملے اب روز مرہ کا معمول ہیں۔ عشق اتنا طاقتور ہے کہ ہلکی سی گیڈر بھبکی سے بھی کام چلا لیتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اب روایتی مذہبی بیانیے کے وکلا بھی سوچ سمجھ کر کچھ لکھتے ہیں کہ کہیں ان پر عشق کے مقابلے میں عقل کی وکالت کا گمان نہ ہو۔ اگر دیکھنا ہو تو خرد پسند روایتی مذہبی دوستوں کی پوسٹوں پر عشاق کی یلغار ملاحظہ کیجئے کہ کس کس طرح انہیں ’’اگر مگر‘‘ کرنے کی تلقین کرنے اور درندگی کے دبے دبے جواز گھڑنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔

رہے ہم تو ہمیں تو اب انٹرنیٹ پر موجود کسی دوسرے کا مضمون شئیر کرتے ہوئے بھی ڈر ہی لگتا ہے کہ کسی صاحب احساس کے دل پر چھری نہ چل جائے۔ اور جس دن فیس بکی عاشقانِ مذہب کے ایک جتھے میں پھنس کر یہ معلوم ہوا کہ کارل ساگاں کی کتاب ’’کاسموس‘‘ کا ترجمہ بھی گستاخیٔ مذہب کے زمرے میں آتا ہے، اس دن سے کتابوں کے اقتباسات شئیر کرتے ہوئے بھی احتیاط کا دامن تھامے رکھتے ہیں کہ کہیں کسی دل جلے کی آہ نہ لگ جائے۔

اسی بارے میں: ۔  لطف الاسلام صاحب کے جواب میں ۔۔۔۔

گمان یہی ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا اب ایک ایسی خارزار زمین ہے جہاں تشکیک پسند چھیڑ چھاڑ تو ایک طرف ’روایتی‘، ’نیم روایتی‘ اور ’غیر روایتی‘ مسلمانوں کو بھی پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے کہ کسی بھی بات کی کوئی بھی تعبیر ممکن ہے۔

جہاں غیر سنجیدگی اور سنجیدگی میں اس حد تک عدم توازن پیدا ہو جائے کہ مثبت اور منفی سرگرمیوں کی تمام جہات ہی گڈمڈ ہو جائیں، اس فتنے سے مذہبی اور غیرمذہبی دونوں قسم کے شہریوں کو حتی الوسع طور پر کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہئے۔

آپ کو شاید اختلاف ہو لیکن ہم جیسے معاشروں میں اب بھی روایتی حلقے بندیوں سے سماج میں مثبت علمی تحریکیں برپا کرنا شاید سوشل میڈیا کے جہانِ برق کی نسبت کہیں زیادہ مفید ہے۔ اور اگر آپ میری طرح کسی سماجی تحریک میں خاص دلچپسی نہیں رکھتے تو پھر بھی کم از کم کسی فوری خوف میں مبتلا ہوئے بغیر کتاب دوستی جاری رکھ سکتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ مذہبی تعبیر یا توہینِ مذہب نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ اگر آپ کے سامنے کسی گناہ گار یا بے گناہ شخص کو ایک سو افراد قتل کرنے کے درپے ہوں تو آپ اس موقع پر اس کو بچانے کی کوشش میں بپھرے ہوئے ہجوم کے ہاتھوں شکار ہونا پسند کریں گے یا اپنی راہ لیتے ہوئے فرار ہونا؟

بیمار سماج کی اکائی بیمار فرد ہے تو ایک دوسرے کی بجائے پہلے خود سے تو مکالمہ کر لیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 66 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “کیا مکالمہ ممکن ہے۔۔۔؟

Comments are closed.