پنجاب یونیورسٹی ہنگامہ آرائی: اسلامی جمیعتِ کے 10 طالب علم معطل


پنجاب یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ ماہ طلبا کے دو گروہوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے ذمہ داران کی نشاندہی کرتے ہوئے دس طلبا کو معطل کردیا گیُا ہے۔ مزید بارہ افراد کے نام جن میں جامعہ کے سات سابق طلبا بھی شامل ہیں، فوجداری کارروائی کے لیے پولیس کو بھجوا دیے گئے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ترجمان خرم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ جن طلبا کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ان کی نشاندہی تصادم کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہے۔

’تحقیقاتی کمیٹی نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان افراد کی شناخت کی ہے اور یہ وہ افراد ہیں جو اس واقعہ میں ہنگامہ آرائی میں ملوث پائے گئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طلبا کے دو گروپوں کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس میں دس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ہنگامہ آرائی کا آغاز مبینہ طور پر اسلامی جمیعتِ طلبا کی جانب سے پشتون کلچر ڈے کی تقریب پر حملے سے ہوا تھا۔

نامہ نگار عمر دراز کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد نے بتایا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو ملنے والے شواہد کی روشنی میں بظاہر اسلامی جمیعتِ طلبا ہی نے حملے کا آغاز کیا تھا۔ ’پشتون کلچر ڈے کا جو کیمپ لگا ہوا تھا اس پہ اسلامی جمیعتِ طلبا نے حملہ کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے پہلے مرحلے میں سترہ افراد کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان تمام افراد کا تعلق اسلامی جمیعتِ طلبا سے تھا اور ان میں سات ایسے طلبا بھی شامل ہیں جن کو ہنگامہ آرائی کے واقعے سے قبل ہی جامعہ سے خارج کیا جا چکا تھا۔ ان سات افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کو نام بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ دس طلبا کو معطل کرکے انہیں اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

اگر یہ طلبا سات دن کے اندر جواب جمع نہیں کرواتے تو ان کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔ خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کی ذمہ داران کی خلاف قانون کی مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کارروائی کے دوسرے مرحلے میں جمعہ کو پانچ مزید طلبا کی فہرست پولیس کو قانونی کارروائی کے لیے بجھوائی گئی ہے۔ یہ وہ پشتون طلبا ہیں جو ہنگامہ آرائی کے دوران ایک طالبِ علم کو زدوکوب کرنے اور تشدد کرنے میں ملوث پائے گئے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں کارروائی جاری رہے گی اور مزید ایسے طلبا جن کی نشاندہی تحقیقاتی رپورٹ میں کی گئ ہے ان کی خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس سے قبل اسلامی جمیعتِ طلبا نے تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور جمعہ کو پنجاب یونیورسٹی کے باہر احتجاج کی کال دی تھی۔ تاہم یونیورسٹی کی جانب سے حریف گروہ کے پانچ افراد کے نام پولیس کو بھیجے جانے کی بعد یہ کال واپس لے لی گئی تھی۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے اسلامی جمیعتِ طلبا کے ترجمان تیمور خان نے اس الزام کو مسترد کیا کہ ہنگامہ آرائی کا آغاز ان کی جماعت کی طرف سے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

’اس کے بعد جو بھی لوگ اس ہنگامہ آرائی میں ملوث ہیں، ان کا تعلق چاہے جس بھی گروہ سے ہو، ان کی خلاف کارروائی کی جائے۔ مگر ان لوگوں کے نام پہلے سامنے لائے جائیں۔‘

پنجاب یونیورسٹی کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ کی طرف سے تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ معاملے کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا کیونکہ کچھ عناصر اس واقعے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ تحقیقاتی کمیٹی پنجاب یونیورسٹی میں 22 مارچ کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد تشکیل دی گئی تھی جس میں جامعہ کے اعلٰی عہدیداران کے علاوہ پولیس اور انتظامییہ کے اہلکار بھی شامل تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 478 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp