مادری زبان سے قومی وحدت کو خطرہ نہیں ….


shahzad irfanشہزاد عرفان

جس دنیا سے ہم آج واقف ہیں یہ کم وبیش ہمیشہ تاریخ کے ہر دور میں نو آبادیاتی نظام سے گزری ہے۔ انسانی طاقت کے اس گھناﺅنے عمل نے دنیا کی قدیم اوربڑی ثقافتوں کے سائنسی اور فطری ارتقا میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر قدیم انسانی سماج کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے فطری انداز میں پنپے کا موقع فراہم ہوتا تو آج دنیا کے نقشے پر موجودہ ریاستیں اور ان میں بسنے والے افراد اپنی تاریخ پر یوں شرمندہ نظر نہ آتے اور نہ ہی اس شرمندگی کے پیچھے مقامی اور غیر مقامی ہونے کی بنیاد ہوتی- مگر کیوں کہ یہ بھی ایک ایسا سچ ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں کوئی بھی مقامی نہیں ہے۔ ہجرت اور نقل مکانی کی حیوانی فطرت نے انسان کی شعوری سطح کو اس جگہ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں آج اس کے پایہ کا کوئی حیوان اس کی برابری نہیں کرسکتا۔

اشاروں کی زبان سے مادری زبان تک پہنچتے پہنچتے یقیناً ایک لمبا سفرطے ہوا ہے۔ اس دوران صرف یک نسلی، قومی شناخت، قومی ریاستیں اور ثقافتیں وجود میں آئی ہوں گی جن کی ایک مخصوص جغرافیہ پر اپنی ایک قومی زبان رہی ہوگی۔ مگر کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کی قومی یا مقامی زبان ہر لحاظ سے خالص اور اصل ہے۔ البتہ جہاں بھی انسانی سماج کو تاریخ میں امن و شانتی کا موقع ملا ، وہیں انسانی شعورنے سب سے پہلے ثقافتی ارتقا کو تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دی اور اس کے نتیجہ میں مادری زبان کو سب سے پہلے ترقی ملی کیوں کہ اسی مادری یا قومی زبان نے آگے چل کر انسانوں کو آپس میں جوڑنے اور اکٹھے امن کے ساتھ ایک ریاستی قومی ڈھانچے میں ڈھالنا تھا۔

21فروری کو مادری زبانوں کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ آج پاکستان کی 90 فیصد آبادی اپنی قومی زبان یعنی’ اردو‘ کو چھوڑ کر اپنی قومیتی ثقافتی مادری زبان کا دن منانا چاہتی ہے۔ جن میں بنیادی اور اکثریتی آبادی پر مبنی سرائیکی ، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پختون اقوام کی زبانیں ہیں۔ یہ دراصل پاکستان کی اصل قومی زبانیں ہیں مگر اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ کو آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ ایک قومی ریاست کی ایک سے زیادہ قومی زبانیں کیسے ہو سکتی ہیں؟

 یہاں فوجی آمریت زدہ، اسلامی مذہبی جنونیت کاشکار ریاست کو پاکستان کی مادری زبانوں سے ہمیشہ عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے کہ ایک تو قومی مادری زبان اپنے اندر اس خطہ کی قدیم تہذیب کا بھر پور احساس رکھتی ہے جو عربوں کی اسلامی ثقافت سے میل نہیں کھاتی بلکہ ہمسایہ ملک ہندوستان کے ہندوﺅں جیسی ثقافت کا اظہار رکھتی ہے جو نہ صرف کافر بت پرست ہیں بلکہ ہمارے دشمن ہیں جن سے ہم نے کچھ عرصہ پہلے آزادی حاصل کی ہے۔ چناچہ فوج کے ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کے ذہن پر مذہب کا غلبہ ہوا تواس نے پاکستان کی قومی زبان کو عربی زبان میں بدلنے کا پورا زور لگایا اور دوسرے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی کھوپڑی میں گورے انگریز کی مغربی سرمایہ داری کی رنگینی سوار ہوئی تو اس نے انگلش کو قومی زبان بنانے کے تمام جتن کئے۔

آج اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہو سکتا کہ ہم سرکاری ریاستی من گھڑت نقلی تاریخ اور خودساختہ فلسفہ کو رد کرتے ہوئے اپنے حقیقی قومیتی شعور کو اپنائیں جس کی ابتدا قومی زبان یعنی مادری زبان سے شروع ہوتی ہے۔ یہی مادری زبان جو معاشرے کے ہر فرد کی روح کا درجہ رکھتی ہے آگے چل کر قومیتی حقوق کی سیاسی جنگ بھی لڑتی ہے۔ انسانی ہجرت کی وجہ سے صدیوں پرانی تہذیب پر نئی تہذیب کا ارتقا سب سے پہلے قومی زبانوں کی شکل میں ہوتا ہے جہاں سے ایک بھرپور ثقافتی معاشرہ جنم لیتا ہے۔مادری زبانیں اپنے اندر سائنسی رویہ کی حل پزیری رکھتی ہیں اور ایک بھرپور ثقافتی معاشرے کا جمہوری عکس پیش کرتی ہیں۔

 اردو ( عربی فارسی رسم الخط) اور ہندی (دیوناگری رسم الخط) دراصل ایک ہی زبان کی دو الگ الگ شکلیں ہیں۔ یہ زبانیں کل بھی اور آج بھی برصغیر کی پاک و ہند میں بطور رابطے کی زبان مانی جاتیں ہیں جس کی اپنی اہمیت سے کوئی انکار نہیں مگر کوئی ایک زبان ان کثیرالقومی ثقافتوں کی جو ہزاروں سالہ تہذیبی ورثہ پر مبنی ہیں اکلوتی قومی زبان ہرگز نہیں بن سکتی۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی غیر جمہوری ریاستوں نے قومیتی مادری زبانوں کو دبا کرعوام پرغیر قومی یا بیرونی زبان کو سرکاری زبان کادرجہ دے کر تھوپنے کی کوشش کی ہے، ریاست کے خلاف عوام نے عدم تحفظ کے احساس کے تحت ادبی تحریکوں سے سیاسی تحریکوں تک اور وہاں سے علیحدگی کی تحریکوں تک کا سفر مکمل کیا ہے۔ اگر مادری زبانوں کو قومی درجہ دے کر ریاستیں برابری کا سلوک کریں ان کی ترقی کو قومی فریضہ سمجھیں اور جانبداری سے پرہیز کریں تو یہی قومیتی شعور آگے چل کر ’قومی وحدت‘بن جایا کرتی ہیں جہاں لسانیت سے ملک اور قوم کوخطرہ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میسر ہوتی ہے۔

آج دنیا کے تمام ممالک اپنی ہزاروں سالہ قدیم زبانوں کو کھوجنے میں لگے ہیں ان پر ریسرچ کر رہے ہیں اور اپنی مردہ زبانوں کو زندہ کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں اپنا قومی اور ریاستی سر فخر سے اونچا کر کے یہ کہہ سکیں کہ یہ ہماری تہذیب ہے۔ اسی میں قومی وحدت اور ترقی کا راز دفن ہے جسے ہم نے کھوجنے کی جرا ¿ت اس لئے نہیں کی کہ ہماری نام نہاد ریاستی قومی وحدت کو نقصان نہ پہنچے۔ ایک مادری زبان کی قومیتی تحریک دراصل اپنے اندر ثقافتی، معاشی، اقتصادی، معاشرتی اور سماجی ترقی کا اجتماعی شعور ہوتی ہے جس کو دبانے سے ریاستی قلعے اندر سے اتنے کھوکھلے ہوجاتے ہیں کہ پھر جنہیں ڈھیر ہونے کے لئے باہر سے شاید ہوا کا ایک جھونکا بھی کافی ہوتا ہے۔

 ایسی کھوکھلی ریاستیں اکثر اپنے بھونڈے دفاع میں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ’ لسانیت سے قومی وحدت کو خطرات ہیں‘۔ یعنی اگراس ملک پاکستان کی حقیقی ثقافتیں جن کی اپنی قومی زبانیں ہیں جو اس خطہ کے عوام ہندوستان اور پاکستان بننے سے کہیں پہلے ہزاروں سال قبل ازتاریخ سے بولتے چلے آرہے ہیں وہ اپنا آئینی قانونی حق ریاست سے مانگیں یا اس کی بقا کی جدوجہد کریں تو وہ آج غدارِوطن کہلائیں اورنام نہاد قومی وحدت کوخطرات لاحق سمجھے جائیں تو ایسی ریاست ماں کے جیسی ہرگز نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ان دھرتی جائیوں کی اپنی دھرتی ماں کا آنچل آزاد کرانا ہر سرائیکی، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پختون کا پہلا قرض اور فرض ہے تاکہ یہ وطن پاکستان کی خوبصورت دھرتی اپنی قومی یکجہتی میں قائم و دائم رہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مادری زبان سے قومی وحدت کو خطرہ نہیں ….

  • 23-02-2016 at 8:48 am
    Permalink

    اعلی تحریر! جناب دی قدر کریندے ھیں اگر کہیں بھیرا کوں اے تحریر سمجھ آ ونجے تاں کمال ھ ، فیصل شہزاد چغتائی

  • 28-04-2016 at 5:42 am
    Permalink

    اردو اور ھندی ایک ہی زبان ہیں صرف رسم الخط کا فرق ہے

Comments are closed.