کینیڈا کی ایک شام کا احوال


میرے لئے تمام لوگ ہی اجنبی تھے میرے میزبان اس حلقہ فکر میں لوگوں کو بتا رہے تھے کہ اس سال ماہ رمضان میں خیرات اور صدقات کی رقم پاکستان کے علاوہ اپنے اس شہر میں بھی ضرورت مند لوگوں کو دی جاسکے گی۔ میں گزشتہ ہفتے ہی کینیڈا آیا ہوں اور جہاں جہاں ہمارے پاکستانی تارکین وطن ہیں، وہاں ایک سوال تو ضرور ہی پوچھا جاتا ہے ’’کیا پاکستان بدل سکتا ہے‘‘، ’’عمران اگلا وزیراعظم بن سکتا ہے‘‘، ’’پاناما کا فیصلہ محفوظ کیوں ہے۔‘‘ ہمارے پاکستانی تارکین وطن کو اپنے دیس سے بے حساب پیار ہے۔ بس یہ جذبہ ہی خالص ہے ورنہ ان کی زندگی بھی مسلسل جدوجہد ہے۔ اب میں لوگوں کے چہروں کو دیکھتا ہوں وہاں سکون کے ساتھ ساتھ، ایک فکر کا بھی احساس ہوتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ عام لوگوں میں ہماری سیاسی جماعتوں کے لئے کوئی خاص الفت نہیں ہے مگر عمران خان کی شخصیت کا طلسم ہر جگہ نظر آتا ہے۔
ٹورنٹو میں موسم بدل رہا ہے۔ جب میں آیا تھا تو فضا میں خوشگوار خنکی کا احساس تھا اور گرم کپڑوں کی ضرورت بھی مگر اب درختوں کا رنگ بدل چکا ہے اور لوگ بھی ہلکے لباس میں نظر آرہے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ دن کا دورانیہ طویل ہو رہا ہے۔ سورج جلد نکلتا ہے اور دیرتک رہتا ہے۔ موسم کی رت سہانی ہے اور لوگ موسم کی تبدیلی کو پسند کر رہے ہیں اس کے باوجود یکہ اس ملک میں موسم، دولت اور عورت کے مزاج پر اعتبار کرنا مناسب نہیں ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے موسم کے بارے میں پیش گوئی 90 فیصد تک درست ہوتی ہے۔ دولت کا معاملہ آپ کی قسمت اور محنت سے وابستہ ہے۔ خواتین کا مزاج کوئی نرالا نہیں۔ ساری دنیا میں خواتین ابھی تک مظلوم ہیں۔ شکر ہے ہمارے ہاں، ماں بہن اور بیٹی، بیوی قابل احترام ہیں اور دیار غیر میں بھی ایسا ہی ہے مگر مرد کی فطرت ایسی ہے کہ نیت کا بحران خواتین کے سلسلہ میں اس کو شکوک میں مبتلا رکھتا ہے۔ اس معاشرہ میں خواتین اپنی حیثیت منوا رہی ہیں۔ ہماری تارکین وطن خواتین اس مقابلہ میں کسی سے کم نہیں۔
اب اس ہی محفل میں کھانے کا معاملہ بھی خوب تھا تقریباً 30 کے قریب حاضرین محفل تھے اور ہر فرد دو افراد کے کھانے کا ذمہ دار تھا۔ اس وجہ سے مختلف قسم کے پکوان نظر آرہے تھے۔ یہ لوگ ہفتے میں ایک دفعہ طے کرتے ہیں کہ وہ کس وقت مل کر ایک دوسرے سے حال دل بیان کریں گے۔ کبھی یہ محفل ہفتہ کو ہوتی ہے اور کبھی یہ اتوار کو اور عموماً بعد از دوپہر۔ میں ان کی اس نشست میں پہلی دفعہ شرکت کر رہا تھا۔ ہمارے لوگ کبھی کسی لائبریری میں یا سپورٹ سینٹر میں یہ محفل سجاتے ہیں۔ میں ان کی اس محفل میں اپنے میزبان کے اصرار پر آیا تھا۔ پہلے پہل تو کچھ آنے والے دنوں کی سرگرمیوں کے حوالہ سے گفت وشنید رہی۔ پھر تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان میں سے اکثر لوگ ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے بھی ہیں اس لئے زیادہ توجہ مجھ پر ہی رہی۔ پہلا سوال ایک نوجوان کی طرف سے تھا۔ آپ کو کینیڈا کیسا لگا اور کب تک رہنا ہے۔ جب اس نے کہا کہ کب تک رہنا ہے تو ایک انجانی سی آواز آئی (This is not fair) یہ مناسب نہیں ہے۔ میں نے اپنے میزبان کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرائے۔ کینیڈا کیسا ہے یہ تو بتانا ہی پڑے گا۔ مجھے ہمیشہ کینیڈا نے متاثر کیا ہے۔ یہ پاکستان سے بہت دور ہے مگر کینیڈا نے پاکستان کی ہر دور میں مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا تعلق لاہور سے ہے۔ میرا خیال ہے کہ لاہور میں پہلی ہاؤسنگ سوسائٹی برطانوی راج کے زمانہ میں بنی تھی۔ اس کا نام ہے ماڈل ٹاؤن اور اس کا نقشہ سر گنگا رام نے بنایا تھا اور پاکستان بننے کے بعد لاہور میں پہلی گورنمنٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کینیڈا کی مدد سے بنائی گئی۔ اس سوسائٹی میں سوریج کا سامان تمام کینیڈا سے آیا تھا اور ایک اچھا تجربہ تھا مگر ہم نے کینیڈا کی حکومت کو مایوس کیا۔ یہ لوگ آپ کی مدد اس لئے کر رہے تھے کہ آپ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔ مگر نوکر شاہی کی بدانتظامی نے معاملہ خراب کیا۔ یہ لوگ اب بھی ہماری مدد کر رہے ہیں۔ اس ملک میں پاکستانی تارکین وطن خاصے ہیں مگر ان کی آواز نہیں ہے۔ اب کچھ عرصہ سے لوگ اس نظام میں اپنی حیثیت منوا رہے ہیں مگر آپ لوگوں کی آواز ایک نہیں ہے۔ میں ذرا دیر کو خاموش ہوا۔ ایک طرف سے آواز آئی۔ پاکستان میں عوام کی آواز کوئی سنتا ہے۔ ہم لوگوں کو ابھی تک بیرون ملک ووٹ کا حق نہیں ہے۔ ہمارا سفارتخانہ پاکستانی انداز کا دفتر ہے جہاں نوکر شاہی راج کرتی ہے۔ وہ ہم تمام تارکین کو مشکوک خیال کرتے ہیں۔ کوئی معاملہ آسانی سے حل نہیں ہوتا۔ ایک اور صاحب بولے۔ ہمارے ہائی کمشنر خود دہری شہریت رکھتے ہیں اور کسی کا فون بھی نہیں سنتے اور کچھ ایسا ہی حال ہماری قومی ایئرلائن کا ہے۔ ٹکٹ کی قیمت سب سے زیادہ اور سروس ایسی کہ دکھ ہوتا ہے۔ میں ان کی بات سن رہا تھا۔ ان کی شکایت اپنی جگہ مگر اس کا کوئی مداوا بھی نہیں۔
میرے میزبان نے سوال کیا۔ پاکستان میں جمہوریت عوام کے لئے کتنی مفید ہے۔ میں خاموش تھا۔ جمہوریت کے بارے میں کیا کہتا! مگر مجھے بتانا پڑا۔ جمہوریت کا نام ہے۔ جمہوریت ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے۔ پہلا مسئلہ تو غربت ہے اور پھر تعلیم کی کمی۔ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں۔ ہمارا معاشرہ ابھی بھی قدامت پسند ہے۔ کتنے علاقوں میں خواتین اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کرتیں۔ ہمارے ہاں سرکاری ملازم بدانتظامی کرے تو اس کی کوئی سزا نہیں۔ ہمارا نظام عدل بے پناہ مقدمات کی وجہ سے اپنی حیثیت منواتا نظر نہیں آتا۔ سب کچھ بدلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ کوشش ہورہی ہے۔
فضا میں خاموشی تھی۔ ایک نوجوان لڑکی بولی عمران خان سے حکومت خوفزدہ کیوں ہے۔ کیا وہ محب وطن نہیں ہے۔ ایک اور آواز آئی الیکشن میں تو! پھر وہ بولے الیکشن آزاد ہو سکتے ہیں۔ مجھے کہنا پڑا۔ بظاہر تو الیکشن آزاد ہی نظر آتے ہیں۔ ان کے لئے نئے قاعدے اور قانون بھی بن رہے ہیں۔ فضا میں بوجھ کی کیفیت تھی۔ میں نے پوچھا اگر آپ لوگ ووٹ دیں گے تو کس پارٹی کو۔ جواب خاموشی تھا۔ مگر ذرا دیر کے بعد سب ہی ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔ عمران خان کو، عمران کو۔ گزشتہ روز پاکستان میں پاکستان ایئر فورس کی تقریب تھی۔ ہمارے وزیراعظم جناب نوازشریف مہمان خصوصی تھے۔ جب ایک موقع پر اعلان ہوا کہ بہترین خدمت اور کردار ادا کرنے پر ٹرافی ایئر فورس کیڈٹ عمران کو دی جائے گی تو سارا پنڈال تالیوں کی غیر معمولی آوازسے گونج رہا تھا اور لوگ قہقہہ بھی لگا رہے تھے اور اس وقت ہمارے وزیراعظم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی اور وہ بھی تالی بجاتے نظر آئے۔ میری بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی کہ تمام احباب بے ساختہ تالی بجانے لگ گئے اور ساتھ ساتھ قہقہے بھی لگا رہے تھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ ایک پاکستانی سیاست دان ایسا ضرور ہے جس پر لوگ اعتماد کرتے ہیں اور لوگ اس سے پیار کرتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد ایک بزرگ کی طرف سے سوال تھا کہ ’’پاناما کا فیصلہ حکومت کو قبول ہوگا۔‘‘ میں نے کہا ’’کیا آپ لوگوں کو قبول ہوگا۔‘‘ تو ایک صاحب بولے ’’میں گزشتہ دنوں پاکستان گیا ہوا تھا۔ میں اسلام آباد میں شاہراہ دستور کے پاس سے گزر رہا تھا۔ میرے ساتھ میرا بھائی تھا۔ وہ کہنے لگا ’’ذرا گاڑی آہستہ چلانا۔‘‘ میں حیران تھا۔ وہ سنجیدگی سے بولا ’’بھائی پاناما کا فیصلہ سو رہا ہے‘‘ پھر قہقہہ بلند ہوا۔ میں نے کہا ’’فیصلہ لکھا جا رہا ہے اور اُمید ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی قسمت بدل دے گا۔“

اسی بارے میں: ۔  بھٹکے ہوئے لوگ

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔