چیچوکی ملیاں ادبی میلہ


rashid ahmadخدشات وخطرات کے جلو میں منعقد ہونے والا چوتھا لاہور لٹریری فیسٹیول خوشگوار یادوں اور شاندار تجربے کے ساتھ ختم ہوا۔ اس فیسٹیول میں دنیا بھر کے کئی ممالک سے احباب وخواتین شامل ہوئے۔ اس خاکسار کو بھی گزشتہ تین برس سے اس فیسٹیول میں شرکت کی توفیق مل رہی ہے اور یہ بات بلا مبالغہ کہی اور دہرائی جاسکتی ہے کہ اس میلہ کا معیار ہر سال بہتری کی طرف ہی مائل ہے۔ اس دفعہ عین موقع پر میلہ کا اجازت نامہ منسوخ ہونے اور بعدازاں جگہ تبدیل کرنے کی وجہ سے کچھ مشکلات پیش آئیں لیکن منتظمین کی لگن سے بہت جلد مسائل پر ممکنہ حد تک قابوپالیا گیا اور یوں اس سال کے ”لاہورادبی میلہ“ کا آغاز ہوا۔

سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میلہ میں ہر سال اردو کا حصہ بڑھ رہا ہے۔گزشتہ برسوں میں اردو کے حوالہ سے بہت کم سیشن منعقد ہوتے تھے یا پھر اردو کے حوالہ سے بات بھی انگریزی زبان میں کی جاتی تھی لیکن اس دفعہ یہ خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ دو دن میں متعدد اردو سیشنز منعقد ہوئے اور شرکا نے گفتگو بھی اردو میں ہی کی جو کہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے اور اسی حوالہ سے دوسری خوشگوار تبدیلی شرکا کے حوالہ سے تھی۔ تمام اردو سیشنز میں کثیر تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور میر تقی میر کے حوالہ سے منعقد ہونے والے سییشن میں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔اسی طرح اردو افسانہ میں نئے رجحانات کے حوالہ سے منعقد ہونے والے سیشن میں بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ اس پروگرام کا مقررہ وقت ایک گھنٹہ تھا جبکہ اس پروگرام کو جب منتظمین کی طرف سے ”دراندازی“ کر کے ختم کیا گیا، اس وقت پندرہ منٹ اوپر گزرچکے تھے، ہنوز سامعین کے سوالات باقی تھے۔

ممتاز محقق ”سی ایم نعیم“ نے اردو ”اخبارات ورسائل،ایک گم ہوتا ورثہ“ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اشرف علی تھانوی کی مشہور کتاب بہشتی زیور کا نام انہوں نے محمدی بیگم کی ایک نظم سے لیا تھا اور اس نظم کو اپنی کتاب میں درج بھی کیا ہے مگر کہیں بھی محمدی بیگم کا نام نہیں لکھا۔

”اردو افسانے کے جدید رجحان“کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے ”سولفظوں کی کہانی“ کے خالق مبشر علی زیدی نے کہا کہ ایسا نہیں کہ اردو ادب یا افسانہ پڑھنے والے کم ہوگئے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادیبوں کو اپنی بات یا کتاب لوگوں تک پہنچانے کا فن ہی نہیں آتا۔ مبشرعلی زیدی نے مزید کہا کہ انہوں نے سو لفظوں کی کہانی کا آئیڈیا نیوز چینل کی خبروں سے ہی لیا تھا اور پھر آہستہ آہستہ اسے لوگوں تک پہنچانا شروع کیا، اس سلسلے میں، انہوں نے متعدد بار فیس بک کا تذکرہ کیا کہ کس طرح فیس بک کے ذریعے انہوں نے اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا اور اسی فیس بک کے ذریعہ حا ل ہی میں ان کی ایک کہانی کو کئی لاکھ لوگوں نے پڑھا۔

ایک دوست نے اسے طنزاً ”لندن لٹریری فیسٹیول“ کا نام دیا ہے لیکن ہمارا تجربہ تو اس کے الٹ رہا۔ کہنے کو تو ہم بھی تھریئے یعنی تھر کے باسی ہیں۔پہنی بھی ہم نے شلوار قمیص ہوئی تھی،لیکن ہمیں تو ہرکسی نے خوش آمدید کہا ،کھلے دل سے استقبال کیا اور خوشی کے ساتھ جگہ دی۔

پنج ستارہ ہوٹل میں داخلے پر بھی ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی، باربار آئے گئے، ہر بار پولیس والے نے مسکرا کراندرجانے کی اجازت دی۔ اردو پر بھی چارپانچ سیشن ہوئے اور ہالز میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، لوگوں نے پوری دلجمعی سے بات سنی اور سوالات کئے، کہیں بھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ لندن لٹریری فیسٹیول ہے، ہمیں تو ہربار یہ لاہور لٹریری فیسٹیول ہی محسوس ہوا۔

ہم اردو والے اپنی کم مائیگی کا رونا توروتے رہتے ہیں، بیچارے بنے رہتے ہیں مگر حرام ہے کہ خود کبھی کچھ کر جائیں، بھئی آپ خود بھی تو کوئی ”لاہورادبی میلہ“ منعقد کریں یا چیچہ وطنی ادبی میلہ کی بنیاد رکھیں یا پھر چیچوکی ملیاں ادبی میلہ ہی کرا لیں، کچھ کریں تو۔ اگر انگریزی والے کچھ کررہے ہیں اور اس میں اردو کو بھی جگہ دے رہے ہیں تو ان کا شکریہ کہ انہوں نے اتنی جگہ تو دی۔ نہ دیتے تو ہم کیا کرلیتے؟ شکوہ ظلمت شب سے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے حصہ کی شمع جلاتے جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad