برصغیر میں توہین مذہب کے قوانین کی تاریخ و تجزیہ


برصغیر پاک و ہند میں تعزیرات کا مدون شدہ قانون 1860 میں وائسرائے کی لیجسلیٹو کونسل نے منظور کیا۔ تعزیرات ہند 1860 کا اصل مسودہ انڈین لا کمشن نے 1837 میں ترتیب دیا تھا جس کی سربراہی لارڈ میکالے کر رہے تھے۔ تعزیرات ہند 1860 میں اصلا پندرہواں باب ’’مذہب سے متعلق جرائم‘‘ کا تھا۔ اس باب میں چار دفعات 295، 296، 297 اور298 شامل تھیں۔ ان چار عمومی نوعیت کی شقوں میں کسی بھی مذہب، اس کی عبادت گاہ، جنازہ گاہ یا مقبرہ کی توہین یا نقصان پہنچانے اور کسی بھی مذہبی طبقے کے قانونی اجتماع میں رکاوٹ ڈالنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان جرائم میں سے عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے کے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید اور جرمانہ جبکہ باقی تمام جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا ایک سال قید اور جرمانہ رکھی گئی۔ ان چاروں دفعات میں بطور خاص ایسے الفاظ موجود ہیں جو ملزم کی نیت، ارادہ اور کسی مذہبی طبقے کے جذبات کو دانستہ مجروح کرنے کے مقصد کو ان جرائم کی تشکیل میں لازمی قرار دیتے ہیں۔

تعزیرات ہند کے اس باب کا ایک مخصوص سیاق و سباق تھا جس میں برصغیر پاک و ہند میں مذہبی اور فرقہ وارانہ رنگا رنگی اور اس کے نتیجہ میں کبھی کبھار ہونے والے بدمزگی بنیادی امر تھا۔ انڈین لا کمشن کے تعزیرات ہند پر نوٹس اور تبصروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان شقوں کا مقصد کسی خاص مذہب کی حفاظت یا کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ عمومی طور پر تمام طبقات کے مذہبی جذبات کی دانستہ توہین کا راستہ روکنا تھا۔ یہ نوٹس اس بات کو بار بار دہراتے ہیں کہ ان شقوں کی آڑ میں آزادی اظہار پر قدغن نہ لگائی جائے۔ ان شقوں میں سے تین تو وہ ہیں جن میں باقاعدہ کسی ایکشن مثلاً کسی عبادت گاہ، مقبرے یا اجتماع پر حملہ کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایک دفعہ 298 ایسی ہے جس میں محض الفاظ کے ذریعے توہین کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے تاہم اس شق میں توہین اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی نیت اور ارادہ کو لازم قرار دیا گیا جس کا مقصد انڈین لا کمیشن کے الفاظ میں کچھ یوں تھا۔

’’ہم علمائے ادیان کو تمام مذاہب کے متعلق آزادانہ بحث کا بھرپور موقع بھی دینا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی اس بحث کی آڑ میں دانستہ اور ارادتاً کسی مذہب کی توہین کا راستہ بھی روکنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی شخص کو اپنے پڑوسی کے مذہبی جذبات کی دانستہ توہین کی اجازت نہیں دے سکتے تاہم مشتعل بحث کے دوران ادا کیا گیا کوئی جملہ یا اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے دی گئی کوئی دلیل کسی صورت توہین مذہب کے جرم میں نہیں شمار کی جائے گی‘‘

بعد ازاں 1927 میں ایک ترمیم کے ذریعے ایک پانچویں دفعہ 295 اے کا اضافی کیا گیا۔ اس دفعہ کے تحت پہلی بار تحریری الفاظ کو بھی توہین کے جرائم میں شامل کیا گیا۔ اس دفعہ کے باقی تمام لوازمات دفعہ 298 والے ہی تھے۔ 295 اے میں بھی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید اور جرمانہ رکھی گئی۔

یہ پانچوں شقیں پاکستان اور بھارت کی تعزیرات میں ایک ترمیم کے ساتھ آج بھی جوں کی توں موجود ہیں۔ بھارت میں 295 اے کی سزا 2 سال سے بڑھا کر 3 سال کی گئی ہے جبکہ پاکستان میں نواز شریف صاحب کے پہلے دور حکومت میں یہ سزا 2 سال سے بڑھا کر 10 سال کی گئی۔ باقی تمام دفعات اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔

ضیا الحق، آمر صدر، کے دور حکومت میں صدارتی آرڈینینسز کے ذریعے توہین مذہب کی ان پانچ دفعات میں پانچ مزید دفعات کو شامل کیا گیا۔ ان دفعات میں 295 بی اور سی، اور 298 اے، بی اور سی کا اضافہ کیا گیا۔ ان دفعات میں جرائم سے متعلق فلسفہ قانون اور مذہب کے متعلق جرائم کی اصل روح کو جس طرح متاثر کیا گیا وہ درج ذیل ہیں۔

1۔ قانون عمومی نوعیت کا ہوتا ہے۔ امتیازی طور پر کسی خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے گئے تعزیراتی قوانین ہمیشہ استحصال کو فروغ دیتے ہیں۔ شامل شدہ نئی پانچوں دفعات عمومی نہیں ہیں بلکہ صرف اسلام اور اسلام میں بھی ایک مخصوص فرقہ وارانہ تشریح کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائی گئی ہیں۔

2۔ قانون اگر کسی خاص طبقے کو ٹارگٹ کرے تو ایسا قانون ہمیشہ استحصالی ہی ہوگا۔ نئی شامل شدہ پانچوں دفعات عموماً اور دفعہ 298 اے بی اور سی خاص طور پر شیعہ اور احمدی کمیونٹی کو نشانہ بناتی ہیں۔ 298 بی اور سی میں واضح طور پر ’’قادیانی‘‘ اور ’’لاہوری گروپ‘‘ کا نام لے کر جرم کی تشکیل کرتی ہیں۔ ایسی مثال تعزیرات کے قوانین میں نہایت عجیب ہے کہ کسی قانونی شق کے اندر کسی کمیونٹی کا نام لکھ کر اسے نشانہ بنایا جائے۔

3۔ نئی شامل شدہ پانچوں دفعات کے الفاظ میں ابہام اوروسعت اتنی ہے کہ عملاً کسی بھی رائے کو توہین قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ دفعات کسی عمل کو نہیں بلکہ الفاظ، رائے اور تحریر کو نشانہ بناتی ہیں۔ لہذا جرم قابل تشخیص رہنا قریب قریب ناممکن بھی ہوتا ہے۔ اس ابہام کے زیر اثر کسی بھی علمی یا فلسفیانہ بحث کو توہین کہنا عین ممکن (اور رواج) ہے۔

4۔ فوجداری قوانین کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ کسی بھی جرم کی تشکیل کے دو عناصر ہیں۔ عمل اور نیت۔ ان پانچوں دفعات میں بطور خاص نیت، ارادہ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کا مقصد جیسے لوازمات کو جرم کے تشکیلی عناصر میں شامل نہیں کیا گیا۔ گویا توہین مذہب میں انگریز دور سے شامل پانچ دفعات جو ہر مذہب کی توہین سے روکتی ہیں بار بار ’’ارادتاً۔ نیت کے ساتھ، رضاکارانہ طور پر، مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقصد سے‘‘ جیسے الفاظ دہراتی ہیں جبکہ نئی شامل شدہ پانچوں دفعات نیت اور ارادہ کو بالکل ہی بحث سے نکال دیتی ہیں۔

5۔ ان دفعات میں رکھی گئی سزا ایسے مبہم، امتیازی اور بلا نیت تشکیل پا جانے والے جرائم کی نسبت سے بہت زیادہ ہے۔ 295 بی کی سزا عمر قید جبکہ 295 سی کی سزا موت ہے۔ ایسی انتہائی سزائیں فلسفہ قانون کی رو سے صرف قتل عمد کی بعض صورتوں میں ہی روا رکھی جا سکتی ہیں۔ ایک خاص کیفیت کے زیر اثر بلا ارادہ کسی کی زبان سے کوئی بات نکل جائے اور اس پر سزائے موت کسی صورت میں بھی قابل قبول سزا نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں اب وقت آ گیا ہے کہ ضیا الحق کے عطا کردہ توہین مذہب کے فلسفہ پر واضح طور پر نقد کیا جائے اور اس میں درست ترامیم کر کے ملک بھر میں پھیلنے والی دیوانگی کو روکا جائے۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ اس جد و جہد کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لیں، توہین مذہب کے قوانین کو غیر امتیازی، محدود تر اور ہلکی سزاؤں پر قائم کیا جائے۔ اور توہین مذہب کی آڑ میں لاقانونیت کو فروغ دینے والے سماجی طبقات اور ریاست اداروں کو لگام دینے کے لئے قوانین بنائے جائیں۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احمد علی کاظمی

احمد علی کاظمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ جامعہ امدادیہ کے طالب علم رہے ہیں۔ پاکستانی سیاسی و آئینی تاریخ اور سیاسی اسلام و جمھوریت کے مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بین اور کرکٹ کے تماشبین اس کے علاوہ ہیں۔ سہل اور منقح لکھنے کے قائل ہیں۔

ahmedalikazmi has 13 posts and counting.See all posts by ahmedalikazmi