شہباز شریف کے دعوے اور پنجاب پولیس کی کارکردگی


شہباز شریف صاحب خود کو وزیر اعلیٰ کہلوانے کی بجائے خادمِ اعلیٰ کہلوانا پسند فرماتے ہیں۔ وہ اکثر یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے پنجاب پولیس کو مثالی پولیس بنا دیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پولیس با اثر آدمیوں کی حفاظت کا فریضہ تو پوری جانفشانی سے سر انجام دیتی ہے لیکن عوام کے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی بھی نہیں لیتی اور جہاں موقع ملے، عوام کو اپنے اختیار کے جابر پیروں تلے روندنے بھی لگتی ہے۔ ابھی کچھ دِن پہلے ہربنس پورہ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے۔ پنجاب پولیس کا ایسا ہی گھناونا کردار کل میرے سامنے بھی آیا ہے، جسے بیان کرتے خود پر ضبط نہیں ہو رہا۔

ذرا رکیے، آپ کو اپنے گاﺅں سے تعارف بھی کروا دوں۔ پنجابی فلموں کے پیدا کیے گئے عام تصور سے ہٹ کر یہ ایک پرسکون گاﺅں ہے۔ تمام آدمی شرافت اور سادگی سے معمولاتِ زندگی کے کام سر انجام دیتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے اس گاﺅں کی مٹی نے قتلِ عمد کا ایک بھی واقعہ نہیں دیکھا۔ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اس چھوٹے سے گاﺅں میں پانچ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، اور لا تعداد ایم فِل لوگ ہیں۔ البتہ قصور اس گاﺅں کا یہ ہے کہ یہاں آرمی آفیسر اور پولیس آفیسر بھرتی ہونے کی بجائے استاد اور پروفیسر بھرتی ہونے کا رجحان ہے۔ اس تعارف پر آپ اس گاﺅں کا مجموعی مزاج سمجھ گئے ہوں گے۔ کل چار مہینے کے بعد اپنے اسی گاﺅں جانا ہوا اور جو کچھ سنا اس نے لرزا کے رکھ دیا۔ شام کے وقت اپنے گاﺅں اترا تو پوری فضا میں خوف کے ایک آسیب کو منڈلاتے محسوس کیا۔ ایک پڑھے لکھے دوست کو، جس کے ساتھ بیٹھنے میں مجھے راحت ملتی ہے، فون کر کے بلانا چاہا تو اس نے جواب دیا کہ وہ رات کو باہر نہیں نکل سکتا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بڑی حیرت سے ایک سوال کی صورت میں جواب دیا:”تمہیں نہیں پتا؟“

میں نے مزید حیرانی ظاہر کی تو اس نے کہا:”اپنی ماں سے پوچھ لو۔“

ماں سے پوچھا تو اس کا جواب سن کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ماں کے الفاظ یہ تھے:”پتر گاﺅں میں پچھلے چار مہینوں میں کئی دفعہ ڈکیتی ہو چکی ہے ۔ آٹھ دس لوگ کلاشنکوف اٹھائے کسی کے گھر میں گھس جاتے ہیں ۔ اہلِ خانہ کو باندھ کر ڈال دیتے ہیں اور گھر میںجو بھی سونا یا روپیہ موجود ہو، اٹھا کے لے جاتے ہیں۔ اگر کوئی مرد بولنے یا مزاحمت کی کوشش کرے تو اسے مار مار کے لہو لہان کر دیتے ہیں۔ دوعورتوں کوبھی اسی طرح بے رحمی سے مارچکے ہیں۔ اور اب تک سب گھروں سے تقریباً ایک کروڑ کی ڈکیتی کر چکے ہیں۔ پولیس کچھ بھی نہیںکر رہی ۔جتنی دفعہ بھی لوگ تھانے گئے، وہاں ان کی نہیں سنی گئی الٹا دھتکار کر واپس بھیج دیا جاتاہے۔ اب تو اس دہشت کی وجہ سے پورا گاﺅں سرِ شام گھروں میں گھُس جاتا ہے۔ لوگ پوری رات تھر تھر کانپتے خیر مناتے ہیں کہ کیا پتا آج ان کے گھر میں ڈکیت آ جائیں ۔صبح ہوتی ہے تو سب پہلے اپنے بچ جانے پہ شکر ادا کرتے ہیں اور پھر اپنے پیاروں کی خبر لینے لگتے ہیں۔ “

اسی بارے میں: ۔  آیا ساون جھوم کے!! 

شاید آپ کو لگ رہا ہو گا، مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا کہ یہ انیسویں صدی کے مغل ہندوستان کی کوئی کہانی ہے۔ لیکن یہ آج کے عہد کا ا ور میرے گاﺅں ، موضع طور، یونین کونسل سنگھوئی، ضلع جہلم کا حقیقی واقعہ ہے۔ماں سے یہ سن کر میں نے گاﺅں کے لوگوں سے تفصیل معلوم کی تو اس کے بعد سے میری اپنی حالت غیرہو چکی ہے۔ پتا چلا کہ آج سے چار ماہ قبل جنوری کی ایک شام گاﺅں کے ایک گھر میں جوبالکل ایک کونے پر ہے، آٹھ دس لوگ اسلحے سمیت گھُس آئے اور گھر سے تقریباً بیس لاکھ کی نقدی اور دس لاکھ کے زیور لوٹ کے لے گئے۔ یہ رقم انہوں نے زمین خریدنے کے لیے اسی دن نکلوائی تھی۔اس کی رپورٹ کروانے گئے تو ایس ایچ او صاحب نے فرمایا کہ یہ آپ کی برادری کے کسی بندے کا کام ہے اور رپورٹ ہی درج نہیں کی۔ دوسر ی ڈ کیتی اس کے کچھ دن بعد گاﺅں میں ایک متمول گھر میں اسی طرح آٹھ لوگوں نے گھر میں گھس کرخواتین کے تمام زیورات لوٹ لیے۔ اس کے متعلق بھی ایس ایچ او نے بوجوہ رپورٹ تو درج کر لی لیکن کسی قسم کی تفتیشی پیش رفت سے انکار کر دیا اور الزام رکھا کہ یہ ضرور برادری کے کسی آدمی کی شرارت ہے، آپ لوگ خود ہی کھوج کریں۔ اور اس معاملے میں ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ڈکیتی کا نشانہ بننے والا شخص،حال ہی میںنون لیگ کی طرف سے نامزد ہونے والا وائس چیئر مین ہے۔ بس اس کا قصور یہ ہے کہ شریف اور وضع دار سیاست دان ہے اور اس کے پاس سوائے اپنی سفید پوشی کے کوئی طاقت نہیں ۔ فروری میں تیسری ڈکیتی ہوئی جس پر ایس ایچ او صاحب نے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ خود گاﺅںمیں پہرہ دیا کریں ۔ ستم ظریفی تو دیکھیں کہ متعلقہ تھانہ گاﺅں سے دو سو میٹر دور واقع ہے۔ اگر پہرہ عوام نے خود ہی دینا ہے تو پولیس کو اتنا بڑا سیٹ اپ کیوں بنا کے دیا گےا ہے۔ خیر گاﺅں والوں نے چھ رضا کار بھرتی کیے جو معمولی تنخواہ کے عوض پوری رات پہرہ دیتے ہیں لیکن گاﺅں خاصا بڑا ہے اور وہ ہر وقت ہر جگہ پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ اور اگر وہ چور دیکھ بھی لیں تو خالی ایک لٹھ سے آٹھ کلاشنکوفوں کا مقابلہ کرنے والے کا انجام آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں۔ چوتھی اور پانچویں ڈکیتی کے بعد بھی پولیس نے یہی وطیرہ رکھا ہے۔ 25مارچ 2017کوڈکیتی کی پانچ وارداتوں کے بعد محترم و عزت مآب ایس ایچ او صاحب گاﺅں کی جامع مسجد میں تمام معززین کے سامنے آ کر یہ ارشاد فرما کے گئے ہیں کہ آپ لوگوں نے صرف چھ پہریدار رکھے ہیں، بیس تیس لوگ بھرتی کریں جو گاﺅں کا پہرہ دیں ۔ اس عاقلانہ مشورے کے پیچھے رشوت کی کارفرمائی کس قدر ہے، کوئی بھی صاحبِ نظر دیکھ سکتا ہے۔اس کے بعد گاﺅ ں کے سفید پوش ضلع کے ڈی پی او کے پاس بھی گئے ہیں لیکن انہوں نے بھی دوبارہ ایس ایچ او کے حوالے کر دیا ہے۔ اور اس کا الٹا نقصان یہ ہوا کہ اب ایس ایچ او بات سننے کے بجائے ہر گزارش کے جواب میں یہ طعنہ دیتا ہے کہ آپ لوگوںکی پہنچ بہت دور تک ہے۔ مجھے تفتیش کا کیوں کہتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  جس کی ’بھینس ‘ اس کی لاٹھی

اس ساری صورت حال کے بعد اسی گاﺅں کا ایک امن پسند شہری میاں شہباز شریف صاحب سے نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ صرف ایک چھوٹا ساسوال پوچھتا ہے کہ آپ کے دور میں انصاف کے حصول کے لیے ہمیںکیا کسی صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم کو پکارنا پڑے گا یا آپ کے پاس اپنے بے ایمان اور راشی پولیس افسروں کو سدھارنے کاکوئی معقول طریقہ ہے؟اگر آپ خود کچھ نہیں کر سکتے تو یہ بتا دیں کہ جس گاﺅں میں کسی ایک فرد نے بھی، اپنی نسلی شرافت کی وجہ سے آج تک پسٹل تک پاس نہیں رکھا، وہ گاﺅں ان ڈکیتیوں کے جواب میں کیا کرے؟اور اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو مہربانی فرما کے پنجاب پولیس کے متعلق مثبت بیانات دینے بند کر دیں۔ وہ آپ کی باتوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے عملی ثبوت دینے لگتے ہیں تو آپ کو دروغ گو ثابت ہوتے دیکھ کر ہمیں ندامت ہونے لگتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر جامی کی دیگر تحریریں
یاسر جامی کی دیگر تحریریں