دو مختصر کہانیاں: سکتہ اور کوٹھی


سکتہ

ایک اندھا سمجھتا تھا کہ
وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے،
مجھے اس کا گمان عجب لگا،
ایک گونگے کا خیال تھا کہ
وہ بول سکتا ہےاور دنیا اسےسنتی ہے،
میں اس کے خیال پہ ششدر رہ گیا،
ایک بہرے کو وہم تھا کہ
وہ سرگوشی بھی سن لیتا ہے،
مجھے اس کے پاگل پن پہ تعجب ہوا،
ایک سیاستدان نے ٹی وی پہ تقریر کی
کہ اس نے بےتحاشا دولت
نہایت ایمانداری سے اکٹھی کی ہے،
مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
اورمیں اب تک
سکتے کی کیفیت میں ہوں۔

کوٹھی

شیشے کے شو کیس میں سجی
اسے وہ تین منزلہ کھلونا کوٹھی
بہت پسند آئی تھی۔
وہ مہینہ بھر پیسے بچاتا رہا،
اس نے جیب سے نوٹ نکالے اور گنے آج اتنی رقم ہو چکی تھی کہ اپنے بیٹے کے لئے وہ کھلونا کوٹھی خرید سکتا تھا۔
میرے اکلوتے بیٹے کا آپریشن ہے، میری مدد کرو،
اس بوڑھے آدمی کے لہجے کا کرب
اس کے دل میں چھید کر رہا تھا۔
بوڑھے کے لبوں پہ اس کی اولاد کے لئے دعائیں تھیں۔
اس نے نوٹ جیب سے نکال کر
بوڑھے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
وہ بیٹے کے لئے کوٹھی کی بجائے،
ڈھیر ساری دعائیں لے کر چل دیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں