پاکستان کا جدید نظامِ انصاف


کل ایک سینئر صحافی کا کالم پڑھا موصوف حسبِ معمول اس بات پر ماتم کناں تھے کہ پاکستان میں عدالتی نظام کمزور ہے۔ ججوں کی سینکڑوں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں انصاف کی فراہمی میں دیر ہوتی ہے اور لاکھوں مقدمات تاخیر کا شکار ہیں۔ صاحب ایسا جھوٹ کبھی نہیں پڑھا۔ ان کالم نگاروں نے بھی خواہ مخواہ پاکستان کو بدنام کرنے پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ ویسے بھی اس دجالی میڈیا کے عزائم کس پر آشکار نہیں۔ یہود و ہنود کے پیسے سے چلنے والے اور شیطانی قوتوں کے آلہ کار اس میڈیا کے مقاصد تو اس بات سے ہی واضح ہو جاتے ہیں کہ مجاھد ملت مولانا خادم حسین رضوی کے بارے میں ہفتہ ہفتہ کسی چینل پر کوئی خبر نہیں آتی جبکہ یہودیوں کی تصدیق شدہ ایجنٹ ملالہ کو ملنے والے جعلی اعزازات کی خبریں صبح و شام بڑے طمطراق سے فخریہ طورپر دکھائی جاتی ہیں حالانکہ یہ ایسی باتیں ہیں کہ جن پر خوش ہونے کی بجائے پوری قوم کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ بہرحال آج ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے نظامِ انصاف کے خلاف اس یہودی و ہنودی پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیں اور دنیا کو بتا دیں کہ پاکستان کے نظامِ انصاف میں وہ کون کون سے خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بہترین نظامِ انصاف کہلانے کا مستحق ہے۔

پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ دنیا کا سب سے اچھا، مؤثر اور تیز رفتار انصاف کا نظام اس وقت پاکستان میں موجود ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی زیادہ سے زیادہ چند ہزار جج موجود ہوتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں ججوں کی منظور شدہ اسامیوں سے کم از کم پندرہ کروڑ زیادہ جج موجود ہیں جو دین اور ملک و قوم کی خدمت کے لئے بالکل رضاکارانہ طور پر مفت اپنا سارا وقت سنگین مسائل اور قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور ان پر فیصلے سنانے میں چوبیس گھنٹے مصروفِ کار ہیں۔ اس نیک کام کے لئے وہ حکومت سے کسی معاوضے کے طلبگار بھی نہیں ہوتے اور صرف صلہ آخرت کی امید پر سر جھکا کر اپنے لیپ ٹاپس اور موبائل پر اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ماشاءاللہ انہی رضاکار ججوں کی وجہ حکومت اس قابل ہوئی ہے کہ وہ اپنی توجہ انصاف کی فراہمی جیسے ضمنی معاملات سے ہٹا کر انفراسٹرکچر جیسے اہم معاملات پر مرکوز کر سکے۔ ججوں کی اس کثرت کی وجہ سے ہی ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ قانون اور انصاف کا دائرہ کار آئین، تعزیراتِ اور فقہ میں بیان کردہ محدود سے جرائم اور گناہوں سے بڑھا کر بہت سے ایسی سرگرمیوں تک بھی بڑھا سکیں کہ جن کے بارے میں ماضی کے قانون دانوں کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ بھی جرائم ہیں اور ان کی بھی سزا ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر خود راقم کو بھی یہی جج حضرات گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر لائے جب انہوں نے راقم کو خبر دی کہ اپنے ساتھ بیٹی کی دوپٹے کے بغیر تصویر لگانے کی وجہ سے وہ جہنمی ہو چکا ہے۔ اس پر راقم نے فوری طور پر توبہ تلا کی اور آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا وعدہ کیا۔

پاکستان کا نظام انصاف اس لحاظ سے بھی دنیا میں موجود باقی نظام ہائے انصاف سے برتر اور ترقی یافتہ ہے کہ اس نظام انصاف میں بہت سے غیر ضروری مراحل سے جان چھڑا لی گئی ہے۔ باقی دنیا کے پسماندہ نظام ہائے انصاف میں مقدمے کے درج کرنے، ثبوتوں کے اکٹھا کرنے، ان کو عدالتوں میں ثابت کرنے اور وکلاء کے بلاوجہ بحث و مباحثہ کرنے کے بہت سے غیر اہم مراحل ہیں جن کی وجہ انصاف کی فوری فراہمی میں خواہ مخواہ تاخیر ہوتی ہے۔ خود پاکستان میں لاکھوں مقدمات اسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ حالانکہ جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے اس قسم کے پسماندہ سسٹم کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی بھی ملزم کے فیس بک اکاؤنٹ یا ٹوئٹر اکاؤنٹ کو چند منٹ دیکھ باآسانی کسی فیصلے پر پہنچا جا سکتا ہے اور پاکستان میں اسی جدید نظام کو نقطہ عروج تک پہنچا دیا گیا ہے۔ پرانے نظام میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ مختلف قسم کے جرائم کی سزائیں مختلف ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جج حضرات کا بہت سے وقت اس سوچ بچار میں ضائع ہوتا ہے کس جرم کی کون سی سزا دی جائے اور کتنی۔ پاکستان کے نئے نظام انصاف میں تمام جرائم کی ایک ہی سزا تجویز کرکے بھی ہمارے نئے رضاکار ججوں کو اس زحمت سے بچا لیا گیا ہے اور اسے وجہ سے فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔

آخری نقطہ یہ ہے کہ باقی ممالک میں تو نگوڑے جج فیصلہ سنا کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اب مجرم جانے اور ریاست۔ ان کو اپنی سماجی ذمہ داری کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ فیصلے بعد جتنے دن یا جتنے گھنٹے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا یہ اصل میں‌انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ہمارے کے رضاکار جج حضرات کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کا پورا پورا احساس ہے اسی لئے وہ فیصلہ سنانے کے بعد اس امر کو بذاتِ خود یقینی بناتے ہیں کہ اس پر فوری عمل درآمد بھی ہو۔ کیونکہ تاخیر کی صورت میں ملزم فرار بھی ہو سکتا ہے یا پھر ہماری بد عنوان اور بزدل پولیس کی مدد سے کسی پولیس سٹیشن بلکہ حوالات میں مزے بھی کر سکتا ہے۔ فوری انصاف کی فراہمی میں ہمارے نئے نظام انصاف کی قائم کردہ درخشاں مثالوں نے اقوامِ عالم میں ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ہمارے پڑوسی دشمن ملک میں بھی اسی نظامِ انصاف کو اپنا لیا گیا ہے۔

امید ہے ہمارے اس چشم کشا مضمون کے بعد آئندہ کوئی شکایت نہیں کرے گا کہ پاکستان کا نطامِ انصاف پسماندہ یا کمزور ہے اور ایسے بدخواہ آئندہ اپنے منہ بند رکھیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔