بیٹے کی ٹوٹی ہوئی انگلیوں کو چومنے والی مشال کی ماں


نفرت کی آندھی نے ایک اور مشعل کو بجھا دیا۔ کہا تھا بارود کو صرف گلاب سے شکست دی جا سکتی ہے صاحب۔ نفرت کا بارود نفرت سے نہیں محبت سے مار کھاتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں سنتا۔ کوئی نہیں مانتا۔ قلم چھوڑ دیا تھا کہ ایسے لکھنے کا کیا فائدہ جو انسانوں میں بسی بارود اور نفرت کی بو کو گلاب کی خوشبو سے شکست نہ دے سکے۔ آخر کتنے نوحے پڑھیں؟ کب تک ماتم کریں؟ ہر ماتم کے بعد اک نیا ماتم۔ مگرلکھنا پڑ گیا کیونکہ مشال کی ماں نے اپنے بیٹے کی میت کے ہاتھ چومے تو اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ان ہی انگلیوں سے مشال وہ شاعری کرتا تھا جس کو پیغمبرانہ کہا جائے۔ ہر دور کے سقراط کے ساتھ یہی ہوا کرتا ہے جو مشال کے ساتھ ہوا۔ دکھ صرف اس بات کا ہے اس سقراط کو زہر کا پیالہ پینے میں ابھی بہت وقت باقی تھا۔ اب تو سانس لینا دوبھر ہے۔ دم گھٹتا ہے۔ اس قدر حبس پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا۔ گلا رندھ گیا ہے، سانس نہیں لی جا رہی تو اس ماں کا کیا حال ہو گا جس نے آخری بار اپنے بیٹے کی میت کے ہاتھ چومنے کی کوشش کی ہو گی تو اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی ملی ہوں گی۔ چہرہ تو وہ دیکھ ہی نہ پائی ہو گی کہ دین کے ایک شیدائی نے ایک اینٹ سیدھے سر پر مار کر اس خوبرو نوجوان کا چہرہ اس قابل نہ رہنے دیا تھا کہ اس کی ماں آخری بار اس کو چوم ہی لیتی۔ شاید باپ نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی جس میں برہنہ مشال کی لاش کو گھسیٹا جا رہا ہے ورنہ شاید وہ ایسے پیغمبرانہ صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کر پاتے۔ صبر ایوبؑ شاید اسی کو کہا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

یہ تو بعد میں علم ہوا کہ مشال ہمسایہ خدا تھا۔ اس کا گھر مسجد سے متصل ہے۔ اسی لئے مسجد کے مولوی صاحب نے اسپیکر سے اعلان کیا کہ مشال کے جنازے میں کوئی شرکت نہ کرے۔ نہ ہی کوئی اس کے گھر تعزیت کرنے یا پرسہ دینے جائے ک جو بھی شخص یہ کرے گا وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہو جائے گا۔ وہ کافر قرار پائے گا۔ کربلا کی بیبیوں کے پاس بھی پرسہ دینے والے آتے رہے ان کو کسی نہیں روکا تھا۔ لیکن مشال کے گھر کے ساتھ والی مسجد کے مولوی صاحب نے مشال کی موت کا جشن اونچی آواز میں لاؤڈ سپیکر استعمال کر کے کیا۔ مشال کے مرے ہوئے ماں باپ کو مزید زندہ درگور کرنے کے لئے جنازے کے وقت اسپیکر کی آواز مزید بلند کر دی گئی۔ گاؤں کے تمام مولوی حضرات نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تو ایک االلہ کا بندہ ایسا مل ہی گیا جس کو جان کی پرواہ نہ تھی۔ مشال کا جنازہ ممتاز قادری جیسا عظیم الشان ہر گز نہ تھا۔ چار بندوں کا کیسا جنازہ۔ لیکن خوش ہونے والے یاد رکھیں کہ بڑے بڑے مقدس بندوں کے جنازے بھی چند افراد پر ہی مشتمل تھے اس لئے جنازوں کے حجم کو مغفرت اور بخشش کی کسوٹی پر نہ پرکھیں۔

I am a Ghost among people!

یہ مشال نے کہا تھا کیا سچ کہا تھا۔ لوگ تو وہ تھے، انسان تو وہ تھے جنھوں نے اس کو ایک جانور کی طرح ذبح کر دیا۔ وہ تو واقعی ایک بھوت تھا جو مر کر بھی زندہ ہے۔ موجود نہیں مگر ہر سو موجود ہے۔ ہر گھر ہر کمپیوٹر ہر ٹی وی چینل پر براجمان ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مشال یونیورسٹی، رحم دل شہزادے کا مجسمہ اور بے حس قوم

یاد رکھو مشال کی موت کا غم نہ کرنے والو! یاد رکھو ایسا نہ ہو کسی دن تم بھی اپنے جوان بیٹے کی میت کے ہاتھ چومنے جھکو تو اس کی انگلیاں ٹوٹی پاؤ۔ اور تمھارے اندر مشال کے ماں باپ سا صبر بھی نہیں۔

ان تمام سیاستدانوں کا شکریہ جو کچھ دن بعد گھر گھر ووٹ مانگنے جائیں گے لیکن مشال کے بے آسرا لا وارث والدین کو پرسا دینے کوئی نہ جا سکا۔

مشال نے اپنی فیس بک پر لکھا تھا۔

The difference between my darkness and your darkness is that I can look at my own badness in the face and accept its existence while you are busy covering your mirror with a white linen sheet. The difference between my sins and your sins is that when I sin I know I’m sinning while you have actually fallen prey to your own fabricated illusions. I am a siren, a mermaid; I know that I am beautiful while basking on the ocean’s waves and I know that I can eat flesh and bones at the bottom of the sea. You are a white witch, a wizard; your spells are manipulations and your cauldron from hell yet you wrap yourself in white and wear a silver wig.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔