ہجوم کی نفسیات، تشدد اور ولی خان یونیورسٹی کے اساتذہ


ماہرین نفسیات نے کوئی سو برس پہلے انسانی رویوں کی تحقیق کے بعد ہجوم کی نفسیات کی چند تھیوریاں پیش کی جن کے مطابق ہجوم کی نفسیات اور رویے انفرادی نفسیات اور رویے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ جو کام آپ انفرادی طور پر شاید کبھی نہ کرسکیں ایک ہجوم کا حصہ ہونے کے بعد وہی کام آپ آسانی سے نہ صرف کرگزرتے ہیں بلکہ آپ کا اپنے رویے پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہجوم سیاسی ہو یا مذہبی اس میں تشدد کا عنصر ضرور شامل ہوسکتا ہے۔

ڈاکوؤں پر عوام کے ہاتھوں تشدد کی خبروں کو ہی لے لیجیے۔ یہاں بھی جب چند لوگ مل کر ہجوم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں تو پھر ان کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا ہے اس ڈاکو پر تشدد، جو شخص بھی اس ہجوم کا حصہ بنتا جاتا ہے اپنا حصہ اس تشدد میں ڈالتا جاتا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ ہو، کوئی سیاسی لانگ مارچ ہو یا دھرنا ہجوم کی نفسیات پر مبنی یہ رویے آپ آسانی سے شناخت کرسکتے ہیں۔ سیالکوٹ کے دو بھائیوں پر تشدد کا واقعہ بھی کچھ زیادہ پرانا نہیں ہے۔

مجھے کالج کے زمانے کا وہ واقعہ یاد ہے جب بابری مسجد کی شہادت کے رد عمل میں پاکستان میں ہرشہرمیں مظاہرے ہوئے اور ہم بھی ہجوم کی نفسیات کا شکار ہو کر اپنے شہر میں موجود ایک پرانے مندر جو تب گرلز ہاسٹل تھا پر چڑھ دوڑے اور پولیس کے سامنے سینہ سپر ہوئے آنسو گیس برداشت کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعے کے بعد جب بھی اس بارے میں سوچا تو اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم ایسا کیوں کر رہے تھے۔ شاید اس وجہ سے کہ کالج کی ایک طلبہ تنظیم کے کچھ لڑکوں نے پہلے کالج کے کرش ہال میں جمع ہوکر لڑکوں کو جذباتی کیا اور پھر سارے کالج کے طلبہ جمع ہوتے گئے اور ایک جلوس کی صورت میں شہر کے بیچوں بیچ موجود اس مند ر تک پہنچ گئے۔

کالج کے اندر اگر کبھی اس طرح کی صورت حال پیش آتی تھی تو ہمارے پرنسپل ڈاکٹر عنایت علی بھٹی (مرحوم) خود طلبہ کے درمیان پہنچ جاتے تھے اور اکثر مواقع پر طلبہ ان کی بات مان کر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے جاتے تھے۔ ایک دفعہ پاکستانی سیاست میں اہم مقام رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت نے کالج میں آکر تقریر کی کوشش کی تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں وہاں سے جانے پر مجبور کردیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ درسگاہ ہے آپ اپنی سیاست کہیں اور جا کر چمکائیں۔

میں پچھلے تین دن سے اسی سوچ میں گم ہوں کہ مردان یونیورسٹی کے اساتذہ اس وقت کہاں تھے جب یہ طلبہ ہجوم کی صورت اختیار کررہے تھے۔ کیا قوم کے یہ بہترین اور عالی دماغ اساتذہ سو برس ادھر نفسیات میں ہوئی جملہ تحقیق سے ناواقف تھے اور کیا ان میں سے کوئی بھی ہماری طرح اپنے دور طالب علمی میں کبھی ایسے ہجوم کا حصہ نہیں رہا تھا۔ کیا یہ اساتذہ بھی ڈاکٹر عنایت علی بھٹی کی طرح طلبہ کے درمیان پہنچ کر ا ن سے بات نہیں کرسکتے تھے۔ یا پھر یہ سب خود ہجوم کی نفسیات کا حصہ بن کر اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے۔

پچھلے تین دن سے دانشور خواتین و حضرات اس واقعے کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے ہیں حساس لکھنے والے اس واقعے کا نوحہ لکھ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اس وقعے کی تمام وجوہات کو سامنے رکھ کر آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ وہ لوگ جو جامعات میں اپنی سیاسی طاقت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ اساتذہ جو اس طاقت سے اپنے ذاتی مفاد کو محفوظ کرنے کے لئے ہر ایسے عمل پر اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں جہاں ان کی ذرا سی کوشش سے معاملات سدھر سکتے ہیں اوروہ ادارے جن پر امن عامہ برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے سوچ لیں کہ اس آگ کا شکار کوئی بھی ہوسکتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں