لاقانونیت مشال کی موت کا باعث ہے


(اسد جاوید)۔

سانحہ کوئی بھی ہو اور اُس کے محرکات کیسے بھی ہوں ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے اندر نہ کہیں قانون موجود ہے اور نہ ہی عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں یا اپنی عدالتوں پر اعتماد باقی ہے۔ یہاں کراچی میں زندہ انسانوں سے بھری پوری فیکٹری جلا دی جاتی ہے اور مبینہ طور پر اس کے ذمہ دار کراچی کے میئر بنا دیئے جاتے ہیں۔ یہاں ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے لاشیں گرائی جاتی ہیں اور جن پر الزام لگتا ہے گرانے والے وزارت کے مزے لیتے رہتے ہیں۔ یہاں ملکی خزانے کو بلاخوف و خطر لُوٹ کر باہر منتقل کرنے اور کروانے کے ملزم سب اقتدار کے ایوانوں میں متمکن رہتے ہیں۔ یہاں مُصطفٰی کانجو کسی کے اکلوتے بیٹے کے بے گناہ قتل کے کیس سے مونچھوں کو تاؤ دیتے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ یہاں ارسلان افتخار کو اُس کا اپنا باپ از خود نوٹس لے کر بے گناہ اور پاک ثابت کر دیتا ہے۔ یہاں منی لانڈرنگ کرنے والی دوشیزہ کو قانون خود بچانے میدان میں اُترتا ہے۔ یہاں اصغر خان اعلٰی عدالت سے بسترِ علالت تک پہنچ جاتا ہے مگر انصاف نہیں ملتا۔

یہاں ایک گورنر کو اُسی کی حفاظت پر معمور ملازم وفاقی دار الحکومت کے اندر گولی مار دیتا ہے اور پھر ہم سب مل کر شہید کو ہلاک اور ہلاک کو شہید کر دیتے ہیں۔ یہاں ایک اقلیتی وزیر کو اسلام آباد میں دن دیہاڑے گولی مار دی جاتی ہے اور مارنے والے آزاد رہتے ہیں۔ یہاں ریمنڈ ڈیوس مکھن میں سے بال کی طرح آسانی سے نکل جاتا ہے اور نکالنے والے دندناتے پھرتے رہتے ہیں۔ یہاں حج کو بیوپار اور حاجی کو شکار بنایا جاتا ہے اور ملزموں کو ہم ہار پہناتے ہیں۔ یہاں پی آئی اے کے جہازوں میں کمیشن کھایا جاتا ہے اور کھانے والوں کو ترقی دے دی جاتی ہے۔ یہاں نیوی کی آبدوزوں کے سودے میں سے اربوں بنائے جاتے ہیں اور بنانے والے دوہری شہریت کے مزے لوٹتے رہتے ہیں۔ یہاں جن کے اپنے نام پانامہ لسٹ میں ہیں وہی خود انصاف کی اعلٰی مسندوں پہ جلوہ افروز ہیں۔ یہاں آواز اُٹھانے والے اور سوال کرنے والے ‘عینک والے جن’ کے زکوٹا کی طرح غائب کردیئے جاتے ہے اور کرنے والوں کے اعزازات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہاں چوروں، ڈاکوؤں اور لُٹیروں کی تاج پوشی کی جاتی ہے۔ یہاں ہم نے مذہب ٹھیکے پر اور قانون کرائے پر دے رکھا ہے اور اسی لیئے یہاں ڈاکٹر، وکیل، انجینئر چور، افسران رشوت خور اور رہنما بھتہ خور ہیں!!!

اسی بارے میں: ۔  جذباتی معاشرے اور وراثتی سیاست

مشال خان کو کسی اور نے نہیں موجودہ سسٹم نے مارا ہے، ان عدالتوں اور انصاف مہیا کرنے والے اداروں نے اُس کا خون کیا ہے۔ اُس کے بے گناہ خون کی ذمہ دار موجودہ پارلیمنٹ اور اس کا انتخاب کرنے والے عوام ہیں۔ اگر لاقانونیت اور نفرت کی اس آگ کو یہاں نہ روکا گیا، اگر ہم نے بروقت اور بحیثیتِ مجموعی کوئی ٹھوس اقدام نہ کئے، اگر ہم نے حُرمتِ رسولؐ کی پاسبانی کا مقدس فریضہ درندوں کے پنجوں سے چھین کر ذمہ داران کے ہاتھوں میں نہ دیا تو یاد رکھئے اگلا نشانہ خدانخواستہ پنجاب، بلوچستان، اور سندھ کے تعلیمی اداروں کے اندر موجود آپ کے اور میرے مشال ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔