اینمل فارم ، منہ بولا بیٹا اور منہ بولی صحافت


mubashirدو ہفتے پہلے لاہور لٹریری فیسٹول سے بلاوا آیا تو میں نے مہمانوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔ ان میں رچرڈ بلیئر کا نام بھی شامل تھا۔ مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ میں نے کتابوں کے تھیلے میں جارج آرویل کی کتاب رکھ لی۔

کیا آپ جارج آرویل کو جانتے ہیں؟

بہت سے، اردو پڑھنے والے کہیں گے، کون؟ بیشتر، شاید سب، انگریزی پڑھنے والے کہیں گے، جی ہاں۔ لیکن خیر، مجھ جیسا ان پڑھ بھی آرویل سے واقف ہے۔ اس کی وجہ ان کا ناول یا ناولا اینمل فارم ہے۔

سچی بات ہے کہ سال ڈیڑھ سال پہلے تک مجھے آرویل کی کسی دوسری کتاب کا نام معلوم نہیں تھا۔ لیکن ایک دن جب میں لبرٹی بکس کی بار بی کیو ٹونائٹ والی برانچ میں، جہاں گراو¿نڈ فلور پر نئی اور مہنگی، اور تہ خانے میں پرانی اور سستی کتابیں سجائی جاتی ہیں، سیڑھیاں اترا تو پہلے شیلف میں آرویل کی ایک موٹی سی کتاب نظر آئی۔

Orwellاس کتاب کا سرورق ذرا سا ادھڑا ہوا تھا۔ اس پر آرویل صاحب بی بی سی کے مائیک کے سامنے مسکرارہے تھے۔ میں نے کتاب سونگھ کر دیکھی۔ صفحے پلٹے تو پتا چلا کہ وہ کتاب ان کی نان فکشن اور صحافتی تحریریں کا مجموعہ تھی۔

آرویل سے کچھ نسبت ہونے پر خوشی ہوئی۔ وہ حضرت صرف فکشن رائٹر نہیں بلکہ میری طرح صحافی بھی تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں ان کی طرح دونوں کام کرتا ہوں۔ اتفاق سے بی بی سی کے لیے بھی لکھ چکا ہوں اور ایک دو بار اس مائیک کے سامنے بیٹھا ہوں۔

کتاب پر سن اشاعت 2014 درج ہے لیکن مجھے وہ آدھی قیمت پر مل گئی۔ میں اسے گھر لے آیا۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جارج آرویل نے کئی ایسی اصطلاحات تخلیق کیں جنھیں عالمگیر مقبولیت ملی۔ یعنی کولڈ وار، بگ برادر، میموری ہول، ڈبل تھنک اور تھاٹ کرائم۔

آرویل نے کتابوں، فلموں اور ڈراموں پر جو تبصرے کئے، وہ اس کتاب میں شامل ہیں۔ ہٹلر کی آپ بیتی، ایچ جی ویلز کے ناول پر بننے والی فلم کپس، جارج برنارڈ شا کا ڈراما دا ڈیولز ڈسائپل ، ان سب کے بارے میں آرویل نے لکھا ہے۔ ریڈیو پر آرویل کی گفتگو اور سوالات کے جوابات بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ آرویل کی کئی نظمیں بھی کتاب میں موجود ہیں۔

اس کتاب میں کئی غیر مطبوعہ تحریریں پہلی بار شامل کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خط جو آرویل نے اپنے پبلشر وکٹر گولانز کو لکھا۔ گولانز بائیں بازو والوں سے ہمدردی کے لیے جانے جاتے تھے۔ 19 مارچ 1944 کو آرویل نے لکھا کہ میں نے حال میں ایک ناول اینیمل فارم مکمل کیا ہے۔ یہ اینٹی اسٹالن ہے اس لیے سیاسی طور پر آپ کے لیے قطعی ناقابل قبول ہوگا۔ مجھے بتادیں کہ آپ کو بھیجوں یا نہیں۔ خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟

گولانز نے یقینی طور پر انکار کیا ہوگا کیونکہ اگلے سال یعنی 17 اگست 1945 کو اینیمل فارم سیکر اینڈ واربرگ نے شائع کیا۔

دو ہفتے پہلے لاہور لٹریری فیسٹول کا بلاوا آیا تو میں نے مہمانوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔ ان میں رچرڈ بلیئر کا نام بھی شامل تھا۔ مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ میں نے کتابوں کے تھیلے میں آرویل کی کتاب رکھ لی۔

Blair Signرچرڈ بلیئر، جارج آرویل کے بیٹے کا نام ہے۔ جارج آرویل کا اصل نام ایرک بلیئر تھا۔ لیکن قلمی نام آرویل اتنا مشہور ہوگیا کہ ان کے نظریاتی حامی آرویلین کہلانے لگے تھے۔

رچرڈ بلیئر کوئی ادیب یا دانشور نہیں۔ وہ آرویل کے سگے بیٹے بھی نہیں۔ آرویل نے انھیں گود لیا تھا۔ جب ٹی بی کی وجہ سے آرویل کا صرف چھیالیس برس کی عمر میں انتقال ہوا تو رچرڈ بلیئر چھ سال کے تھے۔

بے شک رچرڈ بلیئر کے پاس آرویل کی زیادہ یادیں نہیں لیکن ان کا آرویل سے رشتہ ضرور ہے اور وہ آرویل سوسائٹی کے سرپرست بھی ہیں۔ ان کے پاس بتانے کو جتنا بھی ہے، بہت قیمتی ہے اور وہ کسی اور کے پاس نہیں۔

ایل ایل ایف منتظمین نے اچھا کام یہ کیا کہ رچرڈ بلیئر کے ساتھ محمد حنیف کو بٹھادیا۔ حنیف صاحب نے کہا کہ آرویل کا اینیمل فارم کبھی پرانا نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔ پھر انھوں نے دور حاضر کے سوروں پر ایسے طنز کیے کہ ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔

اس سیشن کے بعد مجھے چوبیس گھنٹوں میں دو بار رچرڈ بلیئر سے گفتگو کا موقع ملا۔ پہلی ملاقات میں انھوں نے میرے ہاتھ سے کتاب لے کر اس پر ”ٹو مبشر، ود بیسٹ وشز، ان میموری آف مائی فادر“ لکھ کر دستخط کیے۔ میں نے دوسری ملاقات میں پوچھا کہ آپ کے کیا مشاغل ہیں۔ رچرڈ بلیئر نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہا ہوں۔ آرویل سوسائٹی کے سوا کوئی مصروفیت نہیں۔ میں نے پوچھا کہ جب ریٹائر نہیں ہوئے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کوئی کتاب لکھی یا نہیں؟ اینمل فارم فارم سے کوئی تعلق؟ رچرڈ بلیئر نے کہا، میں نے ٹریکٹر بنانے والی ایک کمپنی میں ملازمت کی تھی۔ خود بھی برسوں فارمنگ کی ہے۔ جی ہاں، اینمل فارم سے گہرا تعلق ہے۔

اس کے بعد رچرڈ بلیئر نے پوچھا، آپ کیا کام کرتے ہیں۔ میں نے فخر سے کہا، آرویل کی طرح صحافی ہوں۔ آرویل کے بیٹے نے آرویل کے الفاظ دوہرائے، صحافت یہ ہے کہ آپ وہ چھاپیں جس کا چھپنا کسی نہ کسی کو منظور نہ ہو۔ باقی سب پی آر ہے۔ میں نے پریس ریلیزوں سے بھرے اپنے بستے کو چھپاتے ہوئے زیر لب کہا، اینمل فارم میں کہاں کی صحافت؟


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

One thought on “اینمل فارم ، منہ بولا بیٹا اور منہ بولی صحافت

  • 24-02-2016 at 3:59 pm
    Permalink

    رچرڈ بلیئر نے جارج آرویل کے “اینیمل فارم” سے نسبت خوب نبھائی اور آپ کےآخری جملے کے “بیس لفظوں” نے ہمیشہ کی طرح سب کہہ دیا۔

Comments are closed.