ملا ستنکزئی کی پھرتیاں تو دیکھیں


ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین چھوٹی موٹی توڑ پھوڑ تو چلتی ہی رہتی ہے، مگر بہت بڑے اور شدید نوعیت کے واقعات ہوں تو سطح زمین پر زلزلوں اور طوفانوں کی صورت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر ان کی شدت محض علامتی ہی ہوتی ہے۔ دو روز قبل ننگر ہار میں امریکہ کی جانب سے ’’بموں کی ماں‘‘ کا استعمال بھی کسی زیر زمیں بہت بڑے بھونچال کا بر سر زمیں اظہار ہی دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس کے محض ایک روز بعد ماسکو میں افغانستان کے پر امن حل کے سلسلہ میں دس ممالک کا اجلاس ہونے جا رہاتھا وہ بھی امریکہ کے بغیر۔ پہلے سےاطلاع تھی کہ بھارت اور کابل حکومت کے سوا سب طالبان کو سیاسی اکائی کے طور پر قبول کرنے پر زور دینگے، اور یہی ہوا بھی بلکہ غیر ملکی مداخلت کے خاتمہ کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔ ایسے میں امریکہ کا یہ بتانا تو بنتا ہے کہ ’’میں بھی یہاں موجود ہوں‘‘۔

بات شاید اتنی سادہ نہیں رہی۔ نومبر 2016 میں سرینا اسلام آباد میں امریکیوں سے چھپ کر روس، طالبان اور پاکستان نے جن تبدیلیوں کی بنیاد رکھی تھی وہ اب جھکڑ بن کر زیرزمین دنیا کو اتھل پتھل کر رہی ہیں، اثرات کیا ہوں گے؟ نتائج کیا نکلیں گے؟ متاثر کون ہوگا؟ پاکستان کو کیا ملے گا؟ افغانستان میں کیا ہوگا؟ کس کا مفاد کیا ہوگا؟ سوال جانیں اور آپ۔ ۔ ہمارے پاس تو مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وسط ایشیا سے جنوبی ایشیا تک زیر زمیں دنیا میں اک طوفان بپا ہے صرف ملا ستنکزئی آمدو رفت کی رفتار ہی دیکھ لی جائے تو اصل ایکٹیوٹی کے حجم اور رفتار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔

15 مارچ کو طالبان کا ایک نو رکنی وفد ملا عباس ستنکزئی کی قیادت میں اسلام آباد آیا اور ساری فہمیاں ایک ہی ملاقات میں غلط سے خوش ہوگیئں۔ زندانوں کے در کھل گئے، آزادی سب کا حق قرار پائی۔ اب دونوں طرف چین و قرار کی کیفیت ہے۔ دوسری اطلاع کے مطابق یہی وفد کچھ کم تعداد میں یکم اپریل کو ماسکو پہنچا جہاں دس ملکی اجلاس کے تناظر میں مشاورت کی گئی۔ ملا ستنک زئی وہاں سے سیدھے پھر اسلام آباد آئے، 11اپریل تک اسلام آباد اور کوئٹہ میں مصروف رہے، روس سے ہونے والے مشورہ پر پاکستان کو اعتماد میں لیا اور 13 کو واپس ماسکو چلے گئے، جہاں اجلاس میں شریک تو نہیں ہوئے لیکن سائڈ لائن پر سب سے ملاقاتیں رہیں، کابل حکومت کے نمائندے حنیف اتمار سے بھی۔

آخری اطلاع یہ ہے کہ ملا ستنکزئی اپنے وفد سمیت بینجنگ پہنچ رہے ہیں جہاں 16 اپریل کو چینی حکام سے گپ شپ ہوگی۔

طالبان قیادت ان دنوں بہت خوش اور مطمئن ہونے کے ساتھ ساتھ متحرک بھی ہوچکی ہے، کیونکہ روس نے دوستی کے پہلے تحفہ کے طور پر کچھ ایسا دے دیا ہے کہ اب ڈرون کا ڈر نہیں رہا۔

اللہ جنگ کے عذاب سے محفوظ رکھے مگر طالبان کا اطمینان بتاتا ہے کہ اپریل سے شروع ہونے والا جنگ کا موسم بہت شدید ہوگا، ملکوں ملکوں پھرتی ان سیلانی روحوں میں سے ایک نے کہا ’’ جدید اسلحہ اور آلات جنگ ہی نہیں پیسے کی پریشانی بھی نہیں رہی، عالمی سطح پر اتنے ممالک کی حمایت جیب میں ہے کہ امریکہ کے خلاف اقوام متحدہ میں دو دو ویٹو لاسکتے ہیں۔ ‘‘

عالمی مبصرین کا خیال تھا داعش کی افغانستان آمد پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرے گی، مگر یہ طالبان کے لئے رحمت بن گئی کہ ماضی میں جو چھپ کر حمایت کرتے ڈرتے تھے اب کھل کرساتھ دے رہے ہیں۔ نتائج کیا ہوں گے؟ امن آئے گا یا انتشار یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، حالات کی رفتار اور واقعات کی خبر سامنے کھ دی ہے۔ تجزیہ آپ خود کرلیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔