Guilty by Suspicion


کمیونزم کا دور تھا، ڈبل روٹی کے حصول کے لئے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا، ایسی ہی قطار میں ایک شخص انتظار کر رہا تھا، دو گھنٹے بعد جب اُس کی بار ی آئی تو پتا چلا کہ ڈبل روٹی ختم ہو گئی ہے، یہ سُن کر اُس نے کمیونسٹ نظام کو گالیاں دینی شروع کر دیں ، وہاں کھڑے لوگوں نے اسے کہا ’’کامریڈ! تم اپنی باری سے پہلے نہیں بول سکتے!‘‘ مگر اُس شخص نے پروا نہیں کی اور گالیاں جاری رکھیں۔ اِس پر وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے اسے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا ’’ہم تم پر نظر رکھیں گے۔‘‘ گھنٹے بعد جب وہ شخص خالی ہاتھ پہنچا تو بیوی نے حیرت سے پوچھا ’’تم تو ڈبل روٹی لینے گئے تھے اور تین گھنٹے بعد یونہی لوٹ آئے ہو!‘‘ اُس شخص نے جواب دیا ’’ہاں، اور شاید تمہیں یقین نہ آئے کہ آج اُن کے پاس ڈبل روٹی ہی نہیں بلکہ بندوق میں گولیاں بھی ختم ہو چکی تھیں!‘‘
کمیونزم کے خلاف اس قسم کے ہزاروں لطیفے امریکیوں نے اس دور میں گھڑے جب کمیونزم اور کیپیٹل ازم کی جنگ عروج پر تھی اور امریکہ میں کمیونسٹ ہونا جرم سمجھا جاتا تھا۔ امریکی تاریخ کا یہ عجیب سیاہ دور تھا، اس زمانے میں صدر ٹرومین نے ایک حکمنامہ جار ی کیا جس کے تحت تمام وفاقی ملازمین کی حب الوطنی کی جانچ لازمی قرار پائی اور وطن سے وفاداری کا ایک تقاضا یہ بھی طے پایا کہ ہر ایسا شخص جس کے بارے میں شبہ ہو کہ اُس کی وابستگی یا ہمدردی کسی نہ کسی حوالے سے کمیونسٹ تنظیم سے رہی ہے، غیر محب وطن سمجھا جائے گا۔ 1947سے 1956کے درمیان اس دور کو امریکہ میں ’’میکارتھی ازم‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، امریکی سینیٹر جوزف میکارتھی وہ سیاست دان تھا جو کمیونزم مخالف تحریک کو نئی بلندیوں پر لے گیا جس کے نتیجے میں امریکہ میں ہزاروں افراد پر کمیونسٹ ہونے یا کمیونسٹوں سے ہمدردی رکھنے کا الزام لگایا گیا اور انہیں طرح طرح کی سرکاری اور نیم سرکاری کمیٹیوں اور ایجنسیوں کے سامنے بدترین قسم کی’’تحقیقات‘‘ کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سرکاری ملازم بھی شامل تھے اور ہالی وڈ سے وابستہ اداکار اور ہدایتکار بھی۔ لاتعداد افراد کو محض شک کی بنیاد پر نہ صرف اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ اُن کی زندگیاں تباہ ہو گئیں اور سینکڑوں افراد کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ یہ وہ دور جب میکارتھی ازم نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا، حب الوطنی کا پھریرا لہرا کر کسی کو بھی جیل میں ڈالا جا سکتا تھا، ثبوت کی ضرورت نہیں تھی، فقط کمیونسٹ ہونے کا شک ہی کافی تھا۔ ہالی وڈ خاص طور سے اِس کی زد میں آیا، میکارتھی ازم کے تحت ہالی وڈ کے اُن تمام اداکاروں، ہدایتکاروں، موسیقاروں اور لکھاریوں کو کام دینے سے روک دیا گیا جن کے بارے میں شائبہ تھا کہ وہ کمیونسٹوں سے کسی بھی قسم کی ہمدردی رکھتے ہیں۔
میکارتھی ازم کی اس لہر نے چونکہ امریکہ سوسائٹی کو اُس زمانے میں ہلا کر رکھ دیا تھا اور آنے والے برسوں میں امریکی سماج پر اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوئے تھے سو اِس پر ہالی وڈ نے بعد میں کئی فلمیں بھی بنائیں، ایسی ہی ایک فلم کا نام Guilty by Suspicionہے ۔ رابرٹ ڈینیرو اِس فلم کا ہیرو ہے، فلم کی کہانی امریکہ کے اس دور کے مکروہ نظام سے پردہ اٹھاتی ہے جب محض شک کی بنیاد پر ہی فیصلے سنائے جانے لگے تھے۔ ’’غیر امریکی سرگرمیوں‘‘ سے متعلق امریکی پارلیمان کی تشکیل کردہ کمیٹی کو یقین تھا کہ ہالی وڈ ’’باغیوں‘‘ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، سو کمیٹی نے ایسے لکھاریوں اور ہدایت کاروں کو پیش ہونے کا حکم دیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ اُن کے کمیونسٹوں سے تعلقات رہے ہیں، اِن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اُس زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن تھے جب اسٹالن کے روس کو فسطائیت کے خلاف امریکی اتحادی سمجھا جاتا تھا، اِن لوگوں نے کمیٹی کے سامنے اپنی پارٹی رکنیت کا اعتراف کیا مگر کمیٹی کی تسلی نہیں ہوئی، سو کمیٹی نے اِن لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کے نام بتائیں جن کے بارے میں سنا گیا تھا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے رکن رہے ہیں۔ کمیٹی کے ممبران اُس وقت طاقت اور ’’حب الوطنی‘‘ کے نشے میں دھت تھے، میکارتھی ازم کی اِس لہر کے آگے ہالی وڈ بھی نہ ٹھہر سکا اور یوں اُن تمام لوگوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا جنہوں نے کمیٹی کے ساتھ ’’تعاون‘‘ کرنے سے انکار کیا تھا، مراد یہ تھی کہ اپنے اُن دوستوں کے نام نہیں بتائے تھے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھتے تھے۔ پروپیگنڈا کی مہم اس قدر شدید تھی کہ سچ کی تلاش ناممکن بنا دی گئی اور یہ نعرہ لگایا گیا کہ ’’دوست اور ملک میں سے کسی ایک کانتخاب کریں، فیصلہ آپ کا ہے!‘‘ اب کِس ’’غیر محب وطن‘‘ میں ہمت تھی کہ دوست کا انتخاب کرتا؟ لیکن پھر ہالی وڈ میں کچھ ایسے لوگ کھڑے ہوئے جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کمیٹی کو اپنے دوستوں کے نام نہیں بتائیں گے جن پر کمیونسٹ ہونے کا لیبل لگایا جا سکتا ہے۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ اُس وقت انکار کرنے والے ہی اصل میں محب وطن تھے کہ انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ میکارتھی ازم کے زمانے میں بھی امریکی قوانین موجود تھے، آئین موجود تھا مگر اس دور میں جیسے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر لوگوں کے مستقبل تباہ کئے گئے اور انہیں محض شک کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں اِس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعد کے برسوں میں جب امریکہ خواب غفلت سے بیدار ہوا تو میکارتھی ازم کے زمانے کی لغویات غیر قانونی قرار پائیں۔
سو پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ ضروری نہیں کہ ہر کہانی سے سبق ہی حاصل کیا جائے (بشکریہ شفیق الرحمٰن) البتہ یہ ضرور ہے کہ Guilty by Suspicionکی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ محض شک و شبہے اور مقبولیت پسندی کی بنیاد پر کئے جانے والے فیصلے تاریخ میں یاد نہیں رکھے جاتے بلکہ تاریخ انہیں اسی طرح رد کر دیتی ہے جیسے امریکہ نے میکارتھی ازم کو رد کر دیا۔ سینیٹر جوزف میکارتھی کا جھنڈا آج کل کچھ لوگوں نے ہمارے ملک میں بھی اٹھایا ہوا ہے، اِن کے نزدیک حب الوطنی اور انصاف وہی ہے جو وہ کہہ دیں، اس کے لئے کسی ثبوت کی انہیں ضرورت نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انصاف اسی صورت قبول ہے اگر اُن کی مرضی کے مطابق کیا جائے، انصاف کے نام پر بلیک میلنگ کو شاید پاکستانی میکارتھی ازم کہنا مناسب ہوگا۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 140 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada