ترک عوام نے صدر کو آئینی طور پر مضبوط بنانے کے حق میں فیصلہ دیدیا


ترک سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صدارتی اختیارات سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے 99 فیصد نتائج آچکے ہیں جس میں 51.4 فیصد ووٹرز نے صدر رجب طیب اردوان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر رجب طیب اردوان 2029 تک عہدے پر فائز رہیں گے اور انہیں وہ اختیارات حاصل ہوجائیں گے جو اس وقت وزیراعظم کو حاصل ہیں جن میں کابینہ کے وزرا کا انتخاب، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات شامل ہیں۔

ریفرینڈم کے لیے ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جہاں ساڑھے 5 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جب کہ 2 اپوزیشن جماعتوں نے ریفرنڈم کے نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کر تے ہوئے 60 فیصد سے زائد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ 15 لاکھ جعلی ووٹ ڈالے گئے  جب کہ کردوں کی حامی جماعت ایچ ڈی پی نے دعویٰ کیا کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 3 سے 4 فیصد ووٹ جعلی ووٹ ڈالے گئے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم بن علی یلدرم کو فون کر کے نتائج پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ ترک ریفرنڈم میں عوام نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دیدیا ہے۔ ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی ۔ ترکی میں گذشتہ برس ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد میڈیا اور دیگر اداروں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائیگا اس کی جگہ نائب صدر لیں گے۔ اسکے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھکر 600 ہو جائیگی جبکہ رکن پارلیمنٹ بننے کیلئے عمرکی حد 25 سال سے کم کرکے18 سال ہو جائیگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔