گھر کی دہلیز ۔۔ معزز، کم معزز اور بدقسمت لاشیں!


مشال کی بات نکلی تو نکلتی چلی گئی۔ مین سٹریم میڈیا خبر اٹھانے سے گھبرایا تو سوشل میڈیا نے کندھا دیا۔ بات چلی تو پرویز خٹک، عمران خان، نواز شریف سے ہوتی اقوام متحدہ تک پہنچ گئی۔

خیرمشال کو اب اس سے کیا غرض کہ بات کہاں تک پہنچی لیکن پاکستان میں گٹروں سے ملتی سر بریدہ لاشوں ٗ تین سے پانچ سالہ بچوں کی آبرورریزی کے بعد تشدد کے نشانات لیے معصوم جسم لاشوں کے مابین مشال کی لاش عزت مآب ٹھہری۔

آپ روزانہ اخبار نہیں اٹھاتے ۔ آپ روزانہ گھر کی دہلیز پر اوسطا دس لاشیں اٹھاتے ہیں۔ ہر اخبار پر لاشوں کی خبریں ہیں۔ کہیں کوڑے پر کوئی لاش ملتی ہےتو کوئی دریا کنارے بوری بند لاش۔

عزیر بلوچ کا اعتراف سنایا گیا کہ مخالفین کے بیس بندوں کو قتل کیا سرعام ان کے سروں سے فٹ بال کھیلا اور کھلے عام ان لاشوں کو آگ لگا دی۔ کسی کی جرات نہیں تھی کہ رپورٹ کرتا۔ بیس آگ میں پگھلتی ٗ سیاہ رنگ ٹپکاتی لاشیں کس کی تھیں؟

ریل کی پٹڑی پر ماں اور بچوں کی ٹکڑے ٹکڑے ہوئیں لاشیں۔۔ کیسے ٹکڑے ہوئیں؟

 ریل جب سر پر تھی تو ماں نے کیا سوچا؟ کیا ماں پشیمان ہوئی؟ کیا کسی بچے نے ریل کا دیو ہیکل انجن آتا دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کی؟ کیا جب ریل کا انجن سر پر آ رہا تھا تو بچے کو ماں کے پسینے کی خوشبو آ رہی تھی؟

ریل کے پہیے اور معصوم بچے کی گردن میں جب فاصلہ ایک سینٹی میٹر رہ گیا تھا تو اس کی زمان و مکاں کے دفتر میں کیا تفصیلات درج ہیں؟ ہمارے لیے بھلے وہ ایک لمحہ ہو کائنات کا حساب کتاب تو حیرت انگیز جزئیات لیے ہوتا ہے ۔ تو یہ نہیں معلوم کہ جب معصوم بچے کی شہ رگ اور ریل کے آہنی پہیے میں ایک سینٹی میٹر کا فاصلہ تھا تو کیا ہوا؟

ہمارے اخباری ریکارڈ میں صرف اتنا درج ہے کہ ، ایک ماں نے غربت سے تنگ آ کر اپنے بچوں سمیت ریل کے نیچے آکر خودکشی کر لی

پھر وہ لاشیں کہ جن کو تیزاب میں پھینک کر ثبوت مٹا دیے گئے۔ کیا تیزاب میں ڈالی جانے والی لاشیں تھیں یا تیزاب کے ڈرم میں جاتے سمے کسی میں زندگی کی رمق بھی تھی؟ کیا اس کو معلوم تھا کہ یہ مائع اس کی ہڈیوں کو مائع کر دے گا؟

کیا معلوم کتنوں کو زندہ حالت میں تیزاب کے ڈرم میں ڈالا گیا ہو؟ جو لاشیں تیزاب میں جا کر اپنی لاش شناخت سے ہی محروم ہو گئیں وہ بھلا کیا بتائیں گی کہ ان کو مار کرتیزاب میں ڈالا گیا یا زندہ ڈال کر مارا گیا؟

 کیا کسی زندہ نے تیزاب سے چھ سینٹی میٹر کی دوری پر سوچا ہو گا کہ ۔۔بس؟ یہ زندگی تھی؟ ختم۔۔

معلوم نہیں کیا سوچا ہوگا کوئی کیا کہہ سکتا ہے کہ وہ دفتر کہ جس میں ایک لمحے کے لاکھویں حصے تک کی جزئیات درج ہیں وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم صرف قیاس کر سکتے ہیں اور قیاس سے یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ تیزاب سے چھ انچ کی دوری پر بھی اس نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس ملک کا حکمران کون ہے؟ یہاں اچھی بھلی زندگی میں یہ بات کوئی نہیں سوچتا تو تیزاب کی چھ سینٹی میٹر دوری پر کوئی کیوں سوچے گا؟

باپ کے کیا محسوسات ہوں گے جب اس کا بچہ اسکے پاؤں سے لپٹ لپٹ جاتا ہو گا اس بات سے بے خبر کہ غربت سے تنگ آیا باپ جیب میں زہر کی پڑیا رکھتا ہے۔ کیا باپ نے بیوی کے چہرے پر نظر ڈالی ہو گی جس کے چہرے پر مسلسل ننگی غربت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مستقل لکیریں قبضہ کیےبیٹھی تھیں؟ کیا باپ نے غربت کے عفریت سے ناواقف بچوں کے چہکتے چہروں کو دیکھنے کے بعد ارادہ بدلا ہو گا؟

وہ کیا لمحہ تھا جب اس نے سالن میں زہر ڈالنے کا ارادہ پکا کر لیا؟

کیا معلوم جب زہر سالن میں تحلیل ہو رہا تھا تو چھوٹی بچی بڑے بھائی کو اپنا کھلونا کھیلنے کے لیے دے رہی ہو۔۔ایسی بے معنی بے وقعت تفصیلات کسے معلوم۔۔مجھے صبح اخبار میں باپ ماں اور تین بچوں کی لاشیں اندر کے صفحے پر مل گئیں۔ روز کا کوٹہ پورا ہو گیا۔

تین سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل ٗ پانچ سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل ٗ نو عمر لڑکا زیادتی کے بعد قتل لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی ۔ اس فقرے کو پڑھ کر کوئی حیرت ہوئی؟ نہیں ہوئی ؟ ہو بھی نہیں سکتی۔ ۔ہونی بھی نہیں چاہیے۔۔

ہم بڑے معمول کے ساتھ روزانہ گھر کی دہلیز پر پڑے اخبار میں ان زخم زخم مرجانے والے فرشتوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

فرشتے کہنا چاہیے؟ نہیں ہم روزانہ زخم زخم پیارے اور ننھے منے بچوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔

کون تھا؟ کیا سوچتا تھا؟ کہاں تک گنتی آتی تھی؟ انگریزی کے حروف تہجی صحیح سنانے پر ماں باپ سے کتنی بار انعام وصول کیا؟

 ارد گرد ہر چیز کو دیکھتے ہوئے حیران کیوں ہوتا تھا؟ چیونٹیاں اور مینڈک اس کو کیوں حیرت زدہ کرتے تھے؟

تین پہیوں والی سائیکل چلا کر اس کو کیوں لگتا تھا جیسے وہ ہوا کے دوش پر ہے؟

 بے بی ٹی وی پر رنگ اس کو کیوں متحیر کرتے تھے؟

پھر کب میلے میں باپ کی انگلی ہاتھ سے چھوٹی ۔ کون لے گیا۔ اندھیرا کیوں تھا۔ چیخ روکنے والا ہاتھ جس شدت سے اس کے منہ پر تھا ۔۔کیا اس ہاتھ کو معلوم تھا کہ وہ سانس بھی نہیں لے پا رہا؟

کیا وہ حیرت زدہ تھا۔۔خوفزدہ تھا۔۔یا کچھ زدہ نہیں تھا۔

 دماغ کو مکمل اندھیرے میں جانے سے دو لمحے پہلے اس نے کیا سوچا تھا؟ نہیں معلوم یہ تفصیلات جس رجسٹر میں درج ہیں وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم صرف قیاس کر سکتے ہیں کہ اس نے کیا سوچا ہو گا۔۔

شاید ماں۔۔ شاید مینڈک۔۔ شاید تین پہیوں والی سائیکل۔۔

اس بچے کی لاش بھی میرے گھر آئی تھی۔ میں ناشتہ کر رہا تھا۔ ٹوسٹ منہ میں ڈالے چائے کا گھونٹ بھر رہا تھا جب یہ دو کالمی مختصر سی خبر پڑھی۔ دل سے اف نکلی لیکن پھر نظر ایک دلچسپ ضمنی انتخاب کی خبر کی جانب کھسک لی ۔

توہین مذہب کے الزام کے نتیجے میں بنی لاشوں کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر تاخیر سے آتی ہیں ۔ ایک دو دن کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ کچھ آتی ہی نہیں ہیں۔ اخبار کو ایسی لاش لوڈ کرنے سے پہلے ہزاردفعہ سوچنا پڑتا ہے ، کہیں منفعت پر ضرب نہ لگ جائے۔ ایسا کیا کریں کہ خبر بھی شائع کر دیں اور کسی کو نمایا ں نظر بھی نہ آئے؟

مشال خان کی باری ایسا ہی ہوا۔ شام کو فیس بک پر ہر طرف لاش ہے لاش ہے ۔ کٹی پھٹی لاش ہے کا شور تھا۔

لیکن میں تو روزانہ دہلیز سے اخبار اٹھاتا ہوں اور لاشیں وصول کرتا ہوں۔ صبح اخبار اٹھایا تو پہلے لاش نہ ملی۔

میں تو سمجھا تھا کہ اس قدر شور مچا ہے ۔ درندگی کی انتہا ہوئی ہے ۔ اخبار نے لیڈ لگائی ہو گی۔ پچھلے صفحے پر دیکھا تو لاش پڑی تھی۔ اخبار نے لاش کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایسی لاشوں سے کرتا آیا ہے۔

اگر تیسرے دن لیڈ میں وزیر اعظم کا بیان سجا تھا یا چیف جسٹس کا سوموٹو ایکشن لکھا تھا تو اس میں لاش کا کمال نہیں تھا۔ یہ تو بڑے لوگوں کی کرم نوازی کے ان کے دہن مبارک سے لاش کے لیے تعزیتی جملہ نکل گیا۔

۔۔ تو بات یہ ہے کہ تیسرے روز یہ جملہ وصول ہوا۔

لاش تو تین دن پہلے اخبار کے پچھلے صفحے کے کونے پر دھری تھی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 109 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik