ہند و پاک کا اسلام اور بے چارے انسانیت پسند


 مارچ کے مہینے کی خبر ہے، تامل ناڈو کے کوئمبتور میں رات کو گیارہ بجے ایک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایچ فاروق نامی ایک شخص باہر آیا تو اسے چار لوگوں نے بے دردی سے قتل کردیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے بارے مین مشہو تھا کہ وہ مذہب کو نہیں مانتا تھا۔ اس کی بے وقوفی یہ تھی کہ وہ شاید سمجھتا تھا کہ ہندوستان میں مذہب پر تنقید کرنے میں شاید کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کو چار ایسے لوگوں نے دور کردیا، جنہوں نے اس کی فیس بک پروفائل کے مواد پر پہلے تو زبانی طور پر اپنے ایمان کی دھار تیز کی اور پھر اس کا پتہ لگانے میں جٹ گئے۔ یہ ایک تشویش ناک بات اس صورت میں ہے کہ ایچ فاروق جیسے لوگ نہ تو بہت بڑا حلقہ احباب رکھتے ہیں، نہ ان کے پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے، جن سے اس بات کا اندیشہ ہو کہ انہیں پڑھ کر لوگ مذہب سے منحرف ہوجائیں گے اور کفر کا بول بالا ہوجائے گا۔ اس قسم کے زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر بھی غیر عقلی قسم کے کمنٹس سے تنگ آکر خود کو محدود کر لیتے ہیں۔ اور کیوں نہ کریں، اس سے کم از کم ان کو اظہار رائے کا حق بھی مل جاتا ہے اور وحشت پرست یا دہشت پسند مذہبی افراد کے منہ بھی نہیں لگنا پڑتا۔ تو پھر ایسے افراد کو قتل کیوں کیا جاتا ہے۔

عام طور پر ہمارے آس پاس موجود کئی لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس قسم کے معاملے میں فریقین کے معاملے سامنے ہونے چاہیے، کس نے کیا کہا، کس بات پر کیسا رد عمل ہوا اور آخر قتل جیسے سنگین اقدام کی سبب کیا بات بنی، اسے جانے بغیر کوئی رائے نہیں دینی چاہیے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جو کہتے ہیں کہ یہ تو عام لوگوں کا جرم ہے، اس پر مولویوں کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ پاکستان میں جب اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں تو وہاں عذر تراشی کے دوسرے نمونے بھی ساتھ ہوتے ہیں، جیسے کہ فلاں شخص سٹیبلشمنٹ کے خلاف کام کررہا تھا، فلاں آدمی سے ملک کو خطرہ تھا، اس کی فکر سے انتشار کا خدشہ تھا یا پھر وہ گستاخ مذہب تھا وغیرہ وغیرہ۔ آخرالذکر الزام اس قدر سنگین صورت اختیار کرجاتا ہے کہ اس کے ثبوت اور شواہد کی بھی کسی کو حاجت نہیں رہ جاتی۔ بھیڑ حملہ کرتی ہے یا پھر کوئی ایک شخص یا اس کے دو مزید دوست۔ بہرحال ملزم کا کام تمام کردیا جاتا ہے، اسے مار کر دونوں جہان کے مالک کو یہ ثبوت فراہم کردیا جاتا ہے کہ ہم ہی ہیں ، جن کے ڈر یا خوف کی وجہ سے کوئی مذہب کی شان میں الٹا سیدھا لفظ نہ بول سکتا ہے، نہ لکھ سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت حال صرف پاکستان میں ہے، وہ غلطی پر ہیں۔ ہندوستان بھی اسی ڈگر پر چلتا ہے، حالانکہ اس کی رفتار کچھ دھیمی ہے، مگر یہاں بھی گستاخی مذہب کا الزام لگنا اپنے آپ میں ایک خطرناک قسم کی بات ہے۔

ممبئی کی ایک صحافی ، جن پر یہ الزام لگا تھا، انہیں کئی روز چھپے رہنا پڑا۔ ان کی معاشی و ذہنی زندگی پر اس کا برا اثر پڑا اور یہاں تک کہ جس اخبار میں وہ ملازم تھیں، اسے بھی بند کرنا پڑا۔ قصور ان کا یہ تھا کہ ان کے ایڈیٹر رہتے ہوئے کسی اخباری ملازم کی غلطی کی وجہ سے شارلی ہیبدو کا وہ سرورق شائع کردیا گیا تھا، جس پر کارٹون بنائے گئے تھے۔ حالانکہ اخبار نے بعد میں اعتذار شائع کیا اور اپنی اس غلطی کے لیے معافی بھی مانگی۔ لیکن اس سے کام نہ چلا، اخبار کی کاپیاں جلائی گئیں اور انہیں روپوش ہونا پڑا۔ ہمارے محلوں تک میں یہ بڑی عام بات ہے کہ مذہب کی گستاخی کے نام پر کسی بھی وقت دنگا بھڑک سکتا ہے، یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو ہر وقت پورے چمن کو پھونکنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ کچھ سال ہوئے جب میرے محلے میں اسی قسم کی ایک افواہ پھیل گئی تھی، بات یہ تھی کہ ایک سب انسپکٹر آف پولیس کسی شخص کو گرفتار کرنے آیا تھا، مگر نہ جانے کیسے ، اس پر قرآن کی بے حرمتی کا آروپ گڑھ دیا گیا اور بھیڑ اس قدر مشتعل ہوئی کہ تھانے تک کو نذر آتش کیا گیا۔ جب بھیڑ مشتعل ہوتی ہے تو آپ سیاسی جماعتوں پر یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ اس قسم کے حادثے ان کے گنے چنے غنڈوں کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح کی بھولی باتیں نہیں کرسکتے کہ عوام تو سکھ چین کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے یہ تو صرف سیاسی لوگ ہیں جو اس قسم کے فسادات کرواتے ہیں یا مذہب کا استعمال اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ جو صاحب صدق دل اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اس کلیے پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں یوں تو سب لوگ مل جل کر رہنا چاہتے ہیں مگر سیاست لوگوں میں نفرت و نفاق پیدا کرتی ہے، وہ بھی کسی مذہبی صحیفے یا مقدس ہستی کے بارے میں شدید گستاخی کی افواہ سن کر بھیڑ کر حصہ بن جاتے ہیں،ہاتھ میں ہتھیار لے لیتے ہیں اور ان کی زبان سے مذہبی کلمات کی صدائیں بھی ابلتی اور کف اڑاتی ہوئی باہر نکلتی ہیں۔ اچھا مان لیجیے کہ سیاست ہی فائدہ اٹھاتی ہے، اور کیوں نہ اٹھائے۔ فائدہ کمزوریوں کا اٹھایا جاتا ہے، مگر یہ تو نفسیاتی قسم کے بیمار لوگوں کے نزدیک بھی ایک معلوم قسم کی بیماری ہے کہ ہمیں گستاخی کے مسئلے پر چھیڑا گیا تو ہم بستیاں پھونک دیں گے، لوگوں کو ہلاک کردیں گے، مرنے مارنے پر اتر آئیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  خدا کے بڑے سورج والا دن۔۔۔ اور ماں کی ’مشقت‘

یہ صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں۔ ممبئی میں ایک شاعر صاحب رہتے ہیں، نہایت مسلمان قسم کے آدمی ہیں، میں جب وسئی میں رہا کرتا تھا، تب سے ان سے واقف ہوں، وہ مشاعروں میں جاتے ہیں، ہزاروں افراد کے مجموعے میں اس قسم کے شعروں پر داد و تعریف وصول کرتے ہیں اور اچھا معاوضہ لیتے ہیں ، جن کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ اگر دین مسلم پر ذرا سی آنچ آئے تو مسلمانوں کو ابابیلوں کے لشکر کی طرح ٹوٹ پڑنا چاہیے۔ ہاتھیوں پر ابابلیوں کے لشکر کا یہ استعاراتی بیان قدرے دلچسپ ہے کیونکہ اس میں اللہ کی مدد کا اشارہ شامل ہے، اب یہ مدد دو قسم کی ہے، اول تو یہ کہ وہ ایسی طاقتوں یا ذہنوں کو ختم کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرے گا یا پھر خون جیسا بھیانک جرم کرنے کے بعد بھی نہ صرف ان کو معاف کردے گا بلکہ انہیں ثواب بھی دے گا کہ اسی قسم کے شدید اور نہایت ضروری اقدامات کی وجہ سے اسلام کا بھرم اور خوف طاری رکھا جاسکتا ہے۔ سیاست کے فائدہ اٹھانے کی مثال یہ ہے کہ ابھی چند روز پہلے ایک سیاسی جماعت نے ، جو خود مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ‘مجروح’ کرنے کے لیے خاصی مشہور ہے، ایک دوسری جماعت کے خلاف پوسٹر جگہ جگہ لگوائے، مقامی انتخابات پر کے موقعوں پر لگائے جانے والے ان پوسٹروں میں جو بات سب سے زیادہ دلچسپ تھی وہ یہ تھی کہ جس پارٹی کو بدنام کیا جارہا تھا، اس کے کارکنوں پر مختلف قسم کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں ایک صاحب پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے اسلام کی بے حرمتی کی ہے۔ اس کے آگے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ پروپگینڈہ کرنے والی پارٹی جانتی ہے کہ یہ بے حرمتی کیسے کی گئی،اسے بتانے کی زحمت گوارہ کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ صرف بے حرمتی کا لفظ ہی فیصلے کے لیے کافی ہے۔

جب یہ صورت حال ہندوستان میں ہے، تو ہم پاکستان میں اس الزام اور اس کے اثرات یعنی شدید نتائج کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ اندازہ اس لیے بھی کرنا آسان ہے کیونکہ ہم نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے ، جہاں اسلامی اقوال، قرآن و حدیث کے ناظرے اور نماز و روزے کی پابندی کو انسان کی بنیادی خوبیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مذہب تو دور کی بات ہے، اپنے فرقے یا مسلک کی برگزیدہ شخصیات کا احترام بھوت کی طرح سر پر سوار رہتا ہے اور ان کے بارے میں کسی قسم کا منطقی و غیر منطقی اعتراض برداشت نہیں کیا جاتا۔ نظریات کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑے عام ہیں اور ایسے جھگڑوں میں انسانوں اور لاشوں کی بے حرمتی بہت چھوٹی بات ہے۔ بریلی میں ہونے والے اس واقعے کو یاد کیجیے ، جو گزشتہ برس پیش آیا اور جس میں ایک قبرستان سے دیوبندی مسلک کے ماننے والوں کی لاشیں نکال نکال کر باہر پھینکی گئیں۔ یہ ساری باتیں گستاخی کے بنیادی مسئلے سے جنم لیتی ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ گستاخی صرف یہ نہیں کہ آپ مذہبی عقائد و مسالک یا شخصیات کو برا بھلا کہیں، ان کا مذاق اڑائیں یا پھر ان پر کچھ بھدے قسم کے اول جلول تبصرے کریں بلکہ گستاخی کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ مذہب یا اس سے جڑی کسی بھی شخصیت کی زندگی اور نظریات پر کوئی مدلل تنقید نہیں کرسکتے، مذہبی جماعتوں، مسالک اور فرقوں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کو وہ ناپسند ہیں، آپ ان کے لٹریچر کو غیر ضروری اور فضول سمجھتے ہیں۔ آپ کسی ایسے سیاسی لیڈر کے خلاف منہ نہیں کھول سکتے، جو مذہبی قیادت کا بھی دم بھرتا ہو اور جس کی غیر اخلاقی قسم کی تقریریں آپ کو پسند نہ ہوں، آپ مسلمانوں کی تاریخ، مغلوں اور سلاطین کے ظلم و جبر کو نمایاں نہیں کرسکتے۔ آپ ان اسلامی قوانین پر سوال نہیں اٹھاسکتے ، جو اکیسویں صدی میں کسی بھی طرح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آپ انسانوں کے حقوق کا حوالہ دے کر مذہب کی فروعی باتوں کو رد نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان تمام تر معاملات میں دور و نزدیک صرف ایک انجام آپ کی راہ دیکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے آپ کی کردار کشی کی جائے گی اور موقع ملا تو آپ کو موت کے گھاٹ بھی اتارا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پیپلز پارٹی مر رہی ہے

معروف صحافی وسعت اللہ خان نے ایک تازہ بحث میں کہا کہ انہیں فکر اس بات کی ہے کہ اس قسم کا ہجوم اب یونیورسٹی میں پہنچ گیا ہے ۔ ان کی فکر کا احترام اپنی جگہ مگر اہانت مذہب کا الزام لگنے پر تو آدمی گھر میں محفوظ نہیں رہ سکتا، یونیورسٹی تو دور کی بات ہے۔ آخریہ مذہب ہی تو ہمیں سکھاتا ہے کہ بات ایمان پر آئے تو باپ بیٹے، بھائی بہن، چچا بھتیجے میں بھی ایک ایسی پھوٹ ڈالی جا سکتی ہے، جو انہیں میدان جنگ تک گھسیٹ لائے اور واقعی جنگ میں تو سب کچھ جائز ہے۔  میں نے جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو اپنی فیس بک پروفائل پر یہ لکھتے ہوئے دیکھا کہ امریکا میں مسلمانوں پر پابندی کے باوجود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اتنی خاموشی کیوں ہے تو یہ بات سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ جدید تعلیم کا وہ خواب جس نے سرسید سے یونیورسٹی کی بنیاد رکھوائی تھی، مسلمانوں کو عالمی برادری کے ایک جھوٹے تصور اور گمراہ کن عقیدے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ وہ انہیں یہ باور کرانے میں ناکام رہا ہے کہ انسان کی علمی حیثیت ، اس کی قومی حیثیت سے بلند ہوتی ہے یا ہونی چاہیے۔

کیا ہمیں نہیں مان لینا چاہیے کہ ان دونوں ملکوں میں مذہب کے ماننے والے قدامت پرست ہیں، اور وہ کسی بھی انسانی ہمدردی اورحقوق کی وکالت کرنے والے ایسے اعتراض یا فکر کو کچل دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں جن سے ان کے مذہب کی توہین کی بو آتی ہو یا پھر اس پر گستاخی کا اطلاق کیا جاسکے۔

٭٭٭


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔