باچا خان کو کس نے قتل کیا؟


دل کو کئی مناظر یاد سے آئے ہیں۔ چند مناظرآپ بھی دیکھ لیجیے۔اتمانزئی باچا خان کی جنم بھومی ہے۔ اتمانزئی کا فاصلہ مردان سے 70 کلومیٹر ہے۔ ہم سال 2017 میں انسانی ترقی کے عروج کے دور میں ہیں۔ آئیے ایک صدی پیچھے چلتے ہیں۔ اتمانزئی میں نہ سکول ہے، نہ سڑک ہے، نہ بجلی ہے اور نہ ہی زندگی کی کوئی دوسری بنیادی ضرورت موجود ہے۔ بہرام خان اپنے وقت ایک متمول شخص ہیں۔انہوں نے اپنے بیٹوں عبدالجبارخان اور عبدالغفار خان کو ایڈورڈ مشن سکول پشاور میں داخل کرایا۔ عبدالجبار خان یہاں سے میٹرک کرنے بعد گرانٹ میڈیکل کالج ممبئی جاتے ہیں۔ وہاں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جاتے ہیں اور وہاں سے مزید پڑھنے کے لئے لندن جاتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر خان صاحب ہیں۔

عبدالغفار خان میٹرک میں ہیں۔ برطانوی راج کے اعلی فوجی افسران سکول کا دورہ کرتے ہیں۔ عبدالغفار خان کی ذہانت اور اس کے قد کاٹھ کو دیکھ کر برطانوی فوجی افسر ایلیٹ فورس ’ The Guides‘ میں اسے ایک اعلی عہدے کی پیشکش کرتے ہیں۔ عبدالغفار خان یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ مجھے اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری بننا منظور نہیں۔ عبدالغفار خان اپنے بھائی عبدالجبار خان کی طرح یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی ماں ایک بیٹے کے ولایت جانے کے بعد دوسرے بیٹے کی جدائی برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتی۔ یوں عبدالغفار خان اپنے والد کے ساتھ کھیت کھلیان میں مصروف میں ہوجاتے ہیں۔ انہیں بہت جلد احساس ہوتا ہے کہ ان کے کرنے کا کام یہ نہیں ہے۔ آپ اندازہ لگائیں یہ 1910 کا چارسدہ ہے۔عبدالغفار خان کی عمر بیس سال ہے۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ میرے علاقے کے لوگوں کو تعلیم ضرورت ہے۔وہ اپنے گاﺅں میں ایک سکول کھولتے ہیں۔ انہیں بہت جلد ہی احساس ہوتا ہے کہ تعلیم کے بعد بھی میرے علاقے کے لوگ اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کی نوکری کر کے دوسرے درجے کی شہریوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہمیں تعلیم کے ساتھ آزادی کی بھی ضرورت ہے۔ اکیس سال کی عمر میں وہ حاجی صاحب ترنگزئی کے ساتھ آزادی کی تحریک میں شامل ہوتے ہیں۔ سکولوں کا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے۔ تحریک آزادی میں ان کا نام آتا رہتا ہے۔1915 میں برطانوی اہلکار ان کے سکولوں پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ برطانوی جبر کو دیکھ کر وہ سماجی جدوجہد اور اصلاح کی تحریک شروع کرتے ہیں۔ پہلے انجمن اصلاح افغانیہ کا آغاز کرتے ہیں۔اس کے بعد پشتون جرگہ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بالاخر 1929 میں خدائی خدمتگار تحریک کا آغاز کرتے ہیں۔یہ باچا خان ہیں۔

ایک ایسے سماج میں جہاں قبائلی جاہلانہ رسم و رواج میں پورا سماج بات بات پر قتل کرنے کو تیار ہوتا ہے وہاں باچا خان ایک صدی پہلے سماج کو عدم تشدد پر قائل کرتے ہیں۔ آپ پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ معلوم پشتون تاریخ میں عدم تشدد کے ساتھ سیاسی اور سماجی جدوجہد کرنے کا سہرا صرف باچا خان کے سر سجا ہے اور ایسا سجا ہے کہ بیٹوں اور بھائیوں کی لاشیں اٹھا کر بھی خدائی خدمت گار تشدد پر نہیں اترتا۔ انہوں نے بابڑہ میں لاشیں اٹھائیں۔ انہوں نے قصہ خوانی میں کفن سمیٹے۔ انہوں نے لیاقت باغ سے تابوت اٹھائے مگر تشدد پر نہیں اترے۔ سینے پر گولی کھاتے رہے مگر ہاتھ اٹھا کر کسی کو مارنے نہیں لپکے۔ باچاخان کے تربیت یافتہ آخری سپاہیوں میں میاں افتخار حسین شامل ہیں۔ یہ دل گرفتہ منظر دیکھ لیں۔ میاں صاحب کے اکلوتے بیٹے کا جنازہ پڑا ہے۔ میاں افتخار سر اٹھا کر کہتے ہیں ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم امن کے پیامبر ہیں۔ کل دنیا نے دیکھامشال خان کے والد اقبال خان کس آہنگ کے ساتھ اس کے جنازے پر آنکھوں میں آنسولائے بغیر کھڑے ہوکر کہتے ہیں ہم پر امن لوگ ہیں۔ ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔یہ باچا خان کی تربیت تھی۔ یہ باچاخانی ہے۔

ایک اور منظر دیکھ لیجیے۔بیس جنوری 2011 کو باچا خان کی ایک سو اکیسویں سالگرہ کے موقع پر نئی دہلی ہندوستان میں گاندھی کے قتل کے مقام ’برلا بھون‘ میں چند سرپھرے نوجوان اکھٹے ہوتے ہیں۔ وہ باچا خان کی سالگرہ مناتے ہیں۔ وہ خدائی خدمت گار تحریک کی پھر سے بنیاد رکھتے ہیں۔ ان نوجوان میں مسلمان، ہندو، سکھ اور مسیحی سب شامل ہیں۔ وہ گاندھی جی کی پوتی تارا گاندھی سے اپنے کارکنوں کو وہی حلف دلواتے ہیں جو باچا خان خدائی خدمتگاروں سے لیتے تھے ۔ وہ فرید آباد انڈیا سے شری کنہیا لال کو مدعو کرتے ہیں جو باچا خان کے خدائی خدمتگار تحریک کے کارکن تھے اور آج بھی سر پر لال پگڑی پہنتے ہیں۔ فیصل خان، گرمکھ سنگھ، امانا مفتی،سریتا پال، سشیل کھنا، بلونت سنگھ،احمد ساجو، محمد کریم اللہ خان جو مشعل دہلی سے لے کر چلے تھے آج وہ ہندوستان کے سترہ اسٹیٹس میں روشن ہے۔ اس وقت خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں کی تعداد بیس ہزار سے تجازو کر چکی ہے۔ وہ ریلیف، تعلیم، صحت اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے دن رات کام کرتے ہیں۔

اب واقعات کے کڑیوں پر ذرا غور کیجیے۔ اسی ظالم اپریل کی بات ہے۔ راجستھان کے الور گاﺅں میں گائے رکھشا کے نام پر ہندو انتہا پسند گئو رکھشک ایک مسلمان کو گائیوں کولے جانے کے الزام میں قتل کرتے ہیں۔خدائی خدمتگار تحریک کے کارکن بلا تمیز رنگ، نسل و مذہب گاندھی جی کی سمادھی پر احتجاج کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ ان میں ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان سب شامل ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ گائے ہندو مذہب میں مقدس ہے مگر خدائی خدمتگاروں کو تقدس کے نام پرانسان کا ماورائے قانون قتل قبول نہیں تھا۔ انہوں نے اس ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دے دیا۔ یہ باچا خان کی مٹی نہیں ہے۔یہاں باچا خان موجود نہیں ہیں مگر ان کا عدم تشدد موجود ہے۔ انسانوں سے محبت موجود ہے۔ انسانیت کا درس موجود ہے۔

ایک خون آشام منظر ہم نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں دیکھ لیا۔ ایک انسان کی لاش جامعہ کی ان سیڑھیوں پر نوچ لی گئی جہاں سے علم کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ یہ وہ سیڑھیاں ہیں جہاں سے علم، تہذیب اور تمدن کا نور پھوٹنا تھا۔ ان سیڑھیوں سے سماج کی راہ متعین ہونی تھی۔ یہاں مگر ایک سربریدہ برہنہ لاش پڑی ہے جس کے اوپر حیوان ناچ رہے ہیں۔یہ قتل کس نے کیا؟ یہ جامعہ میں قوم کا مستقبل بننے والے طالب علموں نے کیا۔ جس عمر میں باچا خان ایک صدی پیشترخدائی خدمت گار تحریک کی بنیاد رکھتے ہیں اسی عمر میں طلبا ایک انسان کو صرف قتل ہی نہیں کرتے اسے حیوانوں کی طرح نوچتے بھی ہیں۔ یہ قتل اس سرزمین پر ہوا جہاں باچا خان نے 78 برس تک عدم تشدد کا پرچار کیا تھا۔ 97 سال کی طبعی عمر تک زندہ رہنے والے باچا خان نے اپنی زندگی کا ہر تیسرا دن جبر، ظلم اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا تاکہ ان کی قوم قتل و غارت گری چھوڑ کر علم کے آنگن میں پناہ لے۔

نئی دہلی کے سشیل کھنا، ڈاکٹر کش کمار سنگھ، فادر ایلوسٹل اور فیصل خان کو کوئی دقت پیش نہیں آئی کہ ظلم اور مذہبی تقدس میں کیا فرق ہے؟ ادھر مردان کی یونیورسٹی باچا خان کے بیٹے کے نام پر بنی ہے۔ اس یونیورسٹی میں بہت سے اساتذہ ایسے ہوں گے جو خدائی خدمتگار تحریک کا حصہ رہے ہوں گے۔ اس یونیورسٹی میں بہت سے طلبا ایسے ہوں گے جن کے باپ دادا نے لوگوں کو عدم تشدد کا درس دیا ہو گا۔ یہ مگر ظلم اور تقدس کا فرق نہیں سمجھتے۔ یہ انسانیت اور حیوانیت میں تمیز نہیں کر سکے۔ شکیل بدایونی نے لکھا تھا، مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے۔ چمن تو جل اٹھا۔ اس راکھ سے بس اب دھواں دھواں سا اٹھ رہا ہے۔ ہاں، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، مذمت، بیان، کارروائی ۔ دکھ ہے مگر کہنے دیجیے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان قتل نہیں ہوا۔ یہاں باچا خان کی روح ذبح کی گئی ہے۔ باچا خان بیس جنوری 1988 کو فوت نہیں ہوئے تھے۔ 13 اپریل 2017 کو باچا خان کو اسی قوم کے بچوں نے قتل کیا جن کو وہ 78 سال تک عدم تشدد کا درس دیتے رہے۔

۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 166 posts and counting.See all posts by zafarullah