بانکے کبوتر ، کولھو کا بیل اور نیل کنٹھ


\"zafarسولہویں صدی کا ابتدائی دور ہے۔ یورپ نشاة ثانیہ کے کشمکش سے نبرد آزما ہے۔ پاپائیت اپنی بقا کی آخری سانسوں پر ہے۔ لیونارڈو داونچی مونا لیزا کی مسکراہٹ تخلیق کر چکا ہے۔ ’دی لاسٹ سوپر‘ میں یسوع مسیح کی آخری ضیافت کی منظر کشی ہو چکی ہے۔ جس میں یسوع مسیح اپنے حواریوں سے پوچھتا ہے کہ تم میں سے کون ہو گا جو مجھے دھوکا دے گا۔ اڑنے والی مشین کا خاکہ بن چکا ہے۔ ہاتھ کی اناٹومی اور پیٹ میں بچے کی ڈرائینگ بن چکی ہے۔ داونچی کی موت سے چار سال پہلے میکاولی ’دی پرنس‘ لکھتے ہیں اور اس کے چار سال بعد ’ڈسکورسسز ‘ لکھتے ہیں۔ یہ کتابیں ریاست ، اس کے نظام اور بادشاہت کے طریقہ کار پر میکاولی کا فلسفہ ہے۔ لیکن یہ داستان بعد میں۔ پہلے ایک اور دائرے کاسفر۔

یہ زندگی گو دائروں کا سفر ہے۔ الیکٹران کے چکر سے لے کر زمین کی گردش تک سفر دائروں کا محتاج ہے۔ مگر انسان کا بھلا دائروں سے کیا لینا۔ انسان کولھو کا بیل تو نہیں ہے اور نہ ہی بانکا کبوتر۔ دائرے کے سفر کی پہلی یاد دادی کے آنگن کی ہے۔ بچے اور بچیاں’ کوکلا چھپکی‘ کھیلتے تھے۔ دائروں میں گھومنے والا کھیل۔ مجھے گھومنا پسند نہیں تھا۔ دادی کہتی’ کھیل لو میرے بانکے یہ بانکوں کا کھیل ہے۔ دیکھو میرے بانکے کیسے گول گول اڑتے ہیں‘۔ بانکے دادی کے کبوتر تھے۔ گول دائروں میں اڑنے والے کبوتر۔ مگر مجھے تو نیل کنٹھ پسند تھا۔ نیلے پروں اور گردن والا نیل کنٹھ۔ مجھے فاختہ پسند تھی۔ معصوم سی، بے ضرر سی۔ بہار کی آمد پر صبح دم جب پرانے شہتوت کی شاخ پر فاختہ کی پھرپھر کی آواز آتی تو میں گھنٹوں نیچے بیٹھ کر اسے تکتا رہتا۔ دادی کبوتروں کو دانہ ڈالنے نکلتی تو پھر بانکوں کی تعریف شروع کر دیتی۔ ’ بانکے اس فاختہ کو چھوڑ دو۔ آﺅ میرے بانکوں کو دانہ ڈالو۔ یہ \"00\"بہت فرمانبردار پرندے ہیں۔ شہنشاہ اکبر کو بھی پسند تھے‘۔ وقت گزرتا رہا۔ دادی بوڑھی ہو گئیں۔ میں بڑا ہو گیا۔ بڑا تو خیر اب بھی نہیں ہوا بس وقت نے گزار دیا۔ بانکوں سے دادی کی محبت کم نہ ہوئی البتہ میں نیل کنٹھ اور فاختہ سے ہوتے شاہین تک پہنچ گیا تھا۔ ایک دن دادی نے جانے کس خیال میں پوچھ لیا۔ ’بانکے تو پڑھ لکھ گیا ہے۔ کیا واقعی شہنشاہ اکبر کبوتر اڑاتا تھا‘۔ مجھے علم نہیں تھا مگر دادی کا دل رکھنے کو کہہ دیا کہ جی دادی شہنشاہ اکبر کبوتر اڑاتا تھا۔ دائرے کا ایک سفر تمام ہوا۔ دادی نہ رہی اور دادی کے بانکے بھی نہ رہے۔

دیر بعد پتہ چلا کہ دادی نے جس سے سنا تھا صحیح سنا تھا۔ سولہویں ہی صدی کا چل چلاﺅ ہے۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کو ہری کبوتری پسند تھی جو اڑنے پر لگاتار اسی قلابازیاں کھاتی تھی۔ ہند کی دھرتی میں پرندوں کا شوق تب اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ فیروز پوری، رامپوری،بانکے اور بطع پیرے کبوتر بازوں کے ہر دلعزیز ہوا کرتے تھے۔ یہ چھوٹے دائروں میں اڑان بھرنے والے پرندے تھے۔ شنید ہے کہ شیبانی خان ازبک کے بیٹے عبداللہ خان ازبک نے شہنشاہ محترم کے لئے ازبکستان سے پروازی کبوتر بھیجے تھے اور اڑانے کے لئے ایک مہاوت ساتھ بھیجا۔ فضا میں زیادہ دیر پرواز کرنے پرندوں کا رواج یہیں سے شروع ہوا۔ وقت بدلتا رہا اور شہنشاہوں کے شوق بھی بدلتے رہے۔ اب کبوتربازی ٹچا شوق سمجھا جاتا ہے۔ کبوتر کی جگہ شاہین نے لے لی۔ بات’ ٹھمری‘سے ’پاپ‘ پر آگئی ہے۔ اب ’نینا مورے ترس رہے‘ کی بجائے ’ساڈا حق ایتھے رکھ‘ کا دور ہے۔

\"15._art112528_2800\"

بات میکاولی کی ’دی پرنس‘ اور ’ڈسکورسز‘ سے شروع ہوئی تھی۔ طول کلام کا یارا نہیں ہے۔ دونوں کتابوں کے چند اقتبا سات دیکھتے ہیں۔ میکاولی مقالات میں لکھتے ہیں۔ ’مذہبی دساتیر کی پابندی جمہوریاﺅں کی سربلندی کی وجہ ہے۔ ان دساتیر سے صرف نظر ریاستوں کو تباہ و برباد کر ڈالتا ہے کیونکہ جہاں خوف خدا نہیں، وہاں ملک تباہ ہو جائے گا۔ بشرطیکہ بادشاہ کا خوف اسے برقرار نہ رکھے کیونکہ وہ کچھ دیر مذہبی خوف کی کمی پوری کر دے گا‘۔ وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ، ’ خود کو برقرار رکھنے کے خواہش مند بادشاہوں اور جمہوریاﺅں کو سب سے پہلے تو مذہبی رسوم کو مقدس بنانا اور انہیں مناسب احترام دینا ہو گا‘۔ وہ لکھتے ہیں، ’ وہ آدمی رسوائی اور ہمہ گیر لعن طعن کاشکار ہوئے جنہوں نے مذاہب کو تباہ کیا، جنہوں نے ریاستوں اور بادشاہتوں کو الٹا پلٹا اور جو نیکی یا علم و فضل کے بیری ہیں‘۔

میکاولی ریاست کے باب میں رقمطراز ہیں کہ ’ جب ہمارے اپنے ملک کی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہو تو ہمیں انصاف یا ناانصافی، رحم یا ظلم، تعریف یا بے حرمتی کا خیال دل میں نہیں لانا چاہیے بلکہ سب کچھ ایک طرف رکھ کر صرف اپنے ملک کا وجود اور آزادی بچانے کی راہ اختیار کرنی چاہیے‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ اپنے ملک کی سلامتی کی خاطر کیے گئے دھوکے، مظالم اور جرائم ”باوقار دھوکے“ اور ” رفیع الشان جرائم“ ہیں۔

\"images\"سوال یہ ہے کہ آج کا سرکاری دانشور اس سے کیا مختلف لکھتا ہے؟ یہ جھگڑا صطلاحات کا نہیں ہے بلکہ بقول فیض ’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا‘۔ یہ جھگڑا ایک طبقے کی خود ساختہ جرنیلی کا ہے جس میں اس طبقے کی اصل بات اپنی پوری شرح و ضاحت کے ساتھ خود ان جرنیلوں کو بھی قبول نہیں۔ اگر تو اصطلاحات کی بات ہوتی تو میکاولی کوکسی صورت رائٹسٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ول ڈیورانٹ کے مطابق میکاولی عیسائیت کے خلاف تھا۔ اسے عیسائیت کے ضابطہ اخلاق، مشفقانہ رویے کی اعلی ترین نیکی ماننے۔ انکساری اور عدم تشدد پر سب سے زیادہ اعتراض تھا۔ ادھر دوسری طرف ہندوستان پر سینکڑوں سال کی مسلم حکمرانی کے ممدوحین کومغل سلطنت کے سب سے طاقتور بادشاہ اکبر کو مسلمان ہوتے ہوئے بھی رائٹسٹ یا بقول شخصے ’اسلامسٹ‘ ثابت کرنے میں جان کے لالے پڑ جائیں گے مگر ثابت ہو کر نہیں دے گا۔ میکاولی کی ’دی پرنس‘ جب شائع ہوئی تو فرانس کے ہنری سوئم کی موت کے وقت یہ ان کے پاس پڑی تھی۔ آج کا سرکاری دانشور ہیئت مقتدرہ پر سوال اٹھانے پر سیخ پا ہو کر دیس کے باسیوں میں وطن دشمنی اور دین دشمنی ڈھونڈھنے لگتا ہے اور ان کی نگارشات کسی ہنری یا کسی نائٹ کے سرہانے دھری رہتی ہیں جن میں سے وہ ریاست کو چلانے کی فال نکالتے ہیں۔

دائروں کا سفر ہے مگر انسان کولھو کا بیل تو نہیں ہے اور نہ ہی بانکا کبوتر۔ دادی نہ رہی ورنہ دادی سے کہتا۔ دادی میں نے فاختہ سے شاہین تک سفر طے کیا مگر مجھے شاہین پسند نہیں آیا۔ میں انسان ہوں۔ نہ مجھے اپنے ہم جنسوں کی چیر پھاڑ پسند ہے اور نہ کولھو کے بیل کی طرح دائروں میں چکر کاٹنا پسند ہے۔ مجھے وہی نیلے پروں والا نیل کنٹھ اور پھر پھر والی فاختہ بہت پسند ہے۔ بات اصطلاحات کی نہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ دائروں کا سفر ہے، کچھ دائرے دادی اماں کے بانکے کبوتر بناتے ہیں ، کچھ دائرے کولھوکے بیل جیسا عام انسان بناتا ہے اور کچھ دائرے اشرافیہ کا نیل کنٹھ بناتا ہے۔ دائرے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، رات اور صبح گلے ملتے رہتے ہیں ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah

7 thoughts on “بانکے کبوتر ، کولھو کا بیل اور نیل کنٹھ

  • 23-02-2016 at 12:27 pm
    Permalink

    ظفر بھائی کمال کر دیا ۔۔ صبح خوشگوار ہوئی آپ کی تحریر پڑھ کر

  • 23-02-2016 at 12:50 pm
    Permalink

    بانکے کبوتر کی طرح شوخ و چنچل ، قلابازیاں کھاتا ،قلقاریاں مارتا کالم ۔

  • 23-02-2016 at 2:39 pm
    Permalink

    بہت شکریہ وقار بھائی

  • 23-02-2016 at 2:42 pm
    Permalink

    خواجہ صاحب آپکی محبت ہے وگرنہ جانے کون ظالم کہہ گیا ہے کہ
    جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
    پھر طبیعت ادھر نہیں جاتی

  • 23-02-2016 at 4:46 pm
    Permalink

    واہ استاد!کیا شاہکار تحریر لکهی آج پهر

  • 23-02-2016 at 5:16 pm
    Permalink

    What great massage and creative article really you got A Beautiful Mind

  • 26-02-2016 at 6:14 pm
    Permalink

    ’دی لاسٹ سوپر‘ یا ’دی لاسٹ سپر‘ ? غور فرمایں

Comments are closed.