ترکی میں ایردوان جیت گیا اور حق آ گیا


صدر ایردوان 51 فیصد ووٹ لے کر ریفرینڈم جیت گئے۔ اپوزیشن والے الزام لگا رہے ہیں کہ ان کی غیب سے مدد ہوئی ہے اور ایسے بیلٹ پیپر ملے ہیں جن پر الیکشن کمیشن کی مہر نہیں ہے مگر الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ فتح حق ہی کی ہو گی خواہ مہر ہو یا نہ ہو۔ تعلیم سے گمراہ ہونے والے تینوں بڑے شہروں استنبول، انقرہ اور ازمیر نے اس فرشتہ صفت حکمران کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ دوسری جانب نیک سیرت شہری گلی گلی جشن منا رہے ہیں۔

عوام کی رائے کا احترام فرض ہے۔ اب اگر ایک بندہ جیت گیا ہے تو مین میخ نہیں نکالنی چاہیے کہ اپوزیشن کو کمپین نہیں چلانے دی گئی یا بیلٹ پیپر میں مسئلہ تھا۔ صدر بشار الاسد، صدر السیسی وغیرہ سب الیکشن جیت کر ہی اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کے اقتدار پر بھی سوال نہیں اٹھانا چاہیے اور ان کے خلاف بات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ بلکہ وہی کیا سارے عظیم حکمران ہمیشہ عوامی ووٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اپنے جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کا ریفرینڈم ہی دیکھ لیں۔ جب ایک عظیم حکمران تخت پر بیٹھا ہو تو رعایا بے اختیار اسے ہی ووٹ دیتی ہے۔

مجاہد اعظم جنرل ضیا کی بات آئی ہے تو صدر ایردوان سے ان کی مشابہت کمال کی ہے۔ پڑوس کی غاصب اور جمہوری حکومت کو ہٹانے کی خاطر دونوں حکمرانوں نے ادھر کے عوام کی دامے درمے سخنے مدد کی۔ مجاہدین ہوں یا القاعدہ یا داعش، جس نے بھی اس نیک کام میں حصہ ڈالنا چاہا، ان عظیم حکمرانوں نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا۔ جنرل ضیا نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ ڈاکٹر نجیب کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ صدر ایردوان نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ کسی صورت جعلی ووٹ لے کر حکومت بنانے والے بشار الاسد کو کسی قیمت پر بھی قبول نہیں کریں گے۔

افغانستان اور شام کے ان ڈکٹیٹروں کی حمایت میں روس لڑنے آیا۔ دونوں مجاہد حکمرانوں نے روس سے ٹکر لی اور اسے شکست فاش دی۔ روس ہمارے گرم پانیوں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا تو شام کو فتح کرنے کے بعد اس کی نظر باسفورس کے نیلے پانیوں پر تھی۔ مگر جیسے ہی اس کا جنگی جہاز ترکی کی طرف آیا تو صدر ایردوان نے اسے گرا دیا۔ روسی صدر پوتن نے معافی کا مطالبہ کیا تو صدر ایردوان نے کمال سیر چشمی سے فرمایا کہ روس جب چاہے معافی مانگ لے۔ مگر خدا نے ان کو ایسا منکسر المزاج بنایا ہے کہ چھے مہینے بعد خود ہی جا کر روس سے معافی مانگ لی کہ پڑوسیوں میں جھگڑا بری بات ہے۔ روس نے جواب میں زیادہ خیر سگالی نہیں دکھائی اور ترکی پر تجارتی پابندیاں برقرار رکھیں۔ مگر پھر اس دانشمند حکمران نے ایسا جادو کھیلا کہ روس نے گھٹنے ٹیک دیے اور یوں روس اور ایران کو صدر ایردوان کا یہ حکم ماننا پڑا کہ بشار الاسد ہی شام کے صدر رہیں گے۔ اس طرح صدر ایردوان کو شام میں سٹریٹیجک ڈیتھ ملنی شروع ہوئی۔ اب خدا کے فضل سے ترکی کے اپنے تمام ہمسایوں سے ویسے ہی برادرانہ تعلقات ہیں جیسے چین کو چھوڑ کر پاکستان کے تعلقات اپنے ہمسایوں سے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  صنفی تفریق اور پاکستان

ترکوں میں طاغوت سے لڑنے کا ایسا جوش پیدا ہوا کہ بچہ بچہ مجاہد بن گیا۔ اب ترکی میں مکمل امن ہے بس کوئی مہینے ڈیڑھ مہینے میں خودکش دھماکہ ہو جاتا ہے، باقی سب خیر ہے۔

لیکن اچھی حکمرانی کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ فساد پھیلانے والے ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ فی زمانہ فساد پھیلانے کا ذریعہ میڈیا ہے۔ اسی وجہ سے ایک محب وطن حکمران سب سے پہلے صحافیوں اور میڈیا کو سیدھا کر کے محب وطن بناتا ہے۔ جنرل ضیا ہی کی طرح صدر ایردوان بھی نہایت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے یہ کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ شریر شہریوں کو بھی نیک بنانے کے لئے شاہی قلعوں کا مہمان بنایا جا رہا ہے جہاں وردی پوش مشفق اساتذہ ان شہریوں کو نظریاتی تعلیم دے رہے ہیں۔

ایک قابل حکمران کے راستے کی دوسری سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ ہوتی ہے۔ شکر ہے کہ نئے ترک آئین میں صدر ایردوان کو اس بات کا اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جج تعینات کریں جو ایسے فرشتہ صفت ہوں کہ حق کی خاطر قانون کو بھی خاطر میں نہ لائیں۔

ایک اچھے حکمران کی تیسری سب سے بڑی دشمن پارلیمنٹ ہوتی ہے جو ملک کی بھلائی کے لئے کیے گئے ہر کام میں روڑے اٹکاتی ہے۔ امریکیوں اور فرانسیسیوں نے اپنے اپنے صدر کو پارلیمانی چیک اینڈ بیلنس کی وجہ سے اپاہج بنا رکھا ہے اور وہ عوام کی فلاح کے لئے کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ مدبر صدر ایردوان کی دوراندیشی کی وجہ سے ترکی کے نئے آئین میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

گورے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اگر زیادہ طویل مدت تک اقتدار سے چمٹا رہے تو وہ خود کو ملک کے لئے ناگزیر سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے بعد اس کو اقتدار کا ایسا نشہ ہوتا ہے کہ وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اس مقصد کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ قوم کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کی خاطر وہ نت نئے دشمن تراشتا رہتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ صرف وہی قوم کو ان سے بچا سکتا ہے۔ خواہ وہ دشمن کوئی ہمسایہ ملک ہو، یا ملک کے اندر کوئی گروہ، یا پھر کوئی دوسرا خیالی دشمن، ایک ڈکٹیٹر کو وہ چاہیے ہوتا ہے۔ جبکہ اسے اگر آٹھ دس سال میں ہی فارغ کر دیا جائے اور اداروں کو افراد پر فوقیت دی جائے تو ملک زیادہ ترقی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے طویل مدت سے حکمران رہنے والا روسی صدر پوتن ترکی کا دشمن ہوا جا رہا ہے اور شام میں لڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ترکی: بغاوت فوجیوں نے کی، گرفتار ہزاروں جج ہوئے

اسی وجہ سے گوروں نے یہ اصول بنا دیا ہے کہ کوئی شخص آٹھ دس سال سے زیادہ حکمرانی نہ کرے۔ ہماری رائے میں گورے جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی ملک نے ترقی کرنی ہو تو یہ ضروری ہے کہ ایک اچھا حکمران اس پر طویل مدت تک حکومت کرے۔ ملائشیا کے مہاتیر محمد کو ہی دیکھیں۔ ان کے عہد میں ملائشیا ایک سپر پاور بن گیا۔ گوروں نے محض مہاتیر کو بدنام کرنے کے لئے پروپیگنڈا کیا ہوا ہے کہ انڈونیشیا نے ملائشیا سے زیادہ ترقی کی ہے۔

اب آپ یہ دلیل مت دیں کہ نواز شریف کیونکہ ووٹ کی طاقت سے حکومت میں آئے ہیں تو ان کو مزید بیس تیس سال تک حکومت کرنی چاہیے۔ عوامی ووٹ کی عزت بندہ اسی وقت کرے جس وقت اس بندے کی اپنی کوئی عزت ہو جسے ووٹ ملا ہو۔ ویسے بھی نواز شریف نے دھاندلی کی ہے۔ دھاندلی نہ کی ہوتی تو ان کی بجائے ہمارا لیڈر وزیراعظم نہ ہوتا؟ صرف ووٹ لینے کی بات کریں تو السیسی اور بشار الاسد بھی ووٹ لے کر ہی حکمرانی کا دعوی کرتے ہیں اور اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی نشست پر بیٹھتے ہیں۔ اب ہم ان کی عزت کیسے کر سکتے ہیں اور ان کو جائز حکمران کیوں مانیں؟

بہرحال ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ ترکی میں حق جیت گیا اور ضیا الحق آ گیا اور اب وہ دنیا پر غالب ہو گا۔ اب چند ہی برسوں میں تمام یورپ پر ترک جھنڈا لہرا رہا ہو گا جس کا آغاز شام میں ترکی کے سٹریٹیجک ڈیتھ تلاش کرنے سے اور جرمنی اور ہالینڈ سے سفارتی محاذ آرائی سے ہو چکا ہے۔ ترکی کے اپوزیشن والے تو پہلے سے ہی ترکی کا یہ عروج دیکھ کر نعرے بلند کر رہے ہیں کہ ترکی کی پاکستانائزیشن ہو رہی ہے۔

جلد ہی دنیا وہ وقت دیکھے گی جب دنیا کے ہر ایئرپورٹ پر ترکوں کی بھی ویسی ہی عزت ہوا کرے گی جیسی ہم پاکستانیوں کی ہوا کرتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar