صحافت برائے فروخت ؟


سنا ہے صحافی بہت پیسے کماتے ہیں ؟
اسی ہزار روپے قرض دار ہوں میں !
میری مانو تو تم آسانی سے قرض اتار سکتے ہو !
حلال کمائی میں مشکل ہے لیکن اللہ مدد کریگا ضرور!
اپنی قیمتیں چیزیں بیچ کر منافع حاصل کرو نہ !
میرے پاس تو کوئی قیمتی اشیاءنہیں ہے ؟
یہ قلم ، یہ کیمرہ،یہ مائیک ، یہ ڈائری اور یہ الفاظ بہت قیمتی ہے جناب !
وہ کیسے ؟
بس برائے فروخت لکھ دو اور مزے کرو !
پشاور میں ایک قبائلی نوجوان کے ساتھ ہونے والی یہ گفتگو اگر چہ ہمیں پسند نہ آئی لیکن حقائق کے برعکس بھی نہیں ہے۔ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہماری صحافتی برادری میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوگئے ہیں جو کہ صحافت تو بہت کم کرتے ہیں لیکن حکمرانوں کی ترجمانی بہت زیادہ کرتے ہیں۔ہمارے ہاں ایسے درجنوں صحافی پائے جاتے ہیں جو مختلف سرکاری اداروں اور اہلکاروں کے لئے سوشل میڈیا پر نہ صرف باقاعدگی سے مہم چلا کر نمک حلالی کرتے ہیں بلکہ انہوں نے خفیہ طور پر ان کے لئے الگ الگ پیجز بھی بنا رکھے ہیں۔
اب ان حالات میں عوام کو بس یہی تاثر جائے گا کہ گویا سب صحافی ایک جیسے ہیں اور تمام صحافیوں کے قلم ، کیمرہ اور الفاظ برائے فروخت ہی ہوتے ہے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ایسا کرنے سے بہت سے صحافی انتہائی کم عرصہ میں دیہاتوں سے ہجرت کرکے بڑے بڑے شہروں میں عالی شان بنگلوں اور گاڑیوں کے مالک بن گئے ہیں جو یقینی طور پر حلال کمائی میں ممکن نہیں تھا اس لئے انہوں نے قصیدے لکھنا شروع کرکے ترقی کر لی ہے۔
قبائلی عوام کی یہ بھی ایک بدقسمتی ہے کہ فاٹا کے اکثر صحافی یا تو مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کے قصیدے لکھتے تھکتے نہیں ہیں اور یا سرمایہ دار قبائلی پارلیمینٹیرین کے تلوے چاٹتے ہیں جس کی وجہ سے اگر ایک طرف علاقائی مسائل رپورٹ نہیں ہوتے ہیں تو دوسری طرف عوام کا اعتماد بھی لکھاریوں سے اٹھ چکا ہے کیونکہ قبائلی عوام بیدار ہوچکے ہیں اور وہ کسی بھی کہانی سے یہ اندازہ آسانی سے لگا سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون سے عوام ہیں۔
دوسری طرف ملکی اداروں کی طرف سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے بھی اکثر قبائلی صحافیوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ سرکاری افسران ، اداروں اور ممبران پارلیمنٹ کے حق میں رپورٹنگ کرکے اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما سکے کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا ہے اور وہ یوں صحافی کم جبکہ ترجمان زیادہ بن جاتے ہیں۔
تاہم دوسری طرف ہمارے ہاں انتہائی ایماندار ، بے باک اور نہ بکنے والے صحافی بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے کبھی حق اورسچائی پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور بے پناہ مصیبتوں اور مشکلات کے باوجود بھی قلم کی حرمت قائم اور دائم رکھی ہے جس کو ہم سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی لوگوں سے یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں اس لئے چند لوگوں کی برائی اور غلط کاموں کی وجہ سے پوری صحافی برادری کو بدنام نہ کیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راحت شنواری کی دیگر تحریریں
راحت شنواری کی دیگر تحریریں