اتاترک کی علما سے بغاوت سے ایردوان کی صدارت تک


خلافت عثمانیہ کے بارے میں ہماری رائے عامہ عموماً دو غلط مفروضوں کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔ پہلا مفروضہ یہ ہے کہ ترکی میں سن 1299 میں ترک سلطنت کا اختیار سنبھالنے والے خاندان آل عثمان نے پہلے ہی دن اسلامی خلافت کی بنیاد رکھی تھی جو کہ تاریخ میں خلافت عثمانیہ کے نام سے شہرت رکھتی ہے اور دوسرا مفروضہ یہ کہ کمال اتاترک ایک دین بیزار شخص تھے اور 1924 میں مصطفی کمال اتاترک نے اچانک ہی آکر فوجی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے خلافت کا خاتمہ کردیا اور یوں اسلامی خلافت ایک لادین ریاست میں تبدیل ہوگئی۔

حقیقت مگر یہ ہے کہ 1717 میں ہی ہنگری اور بلغراد میں روس کے ہاتھوں شکست نے سلطنت عثمانیہ کو اپنے نظام خصوصاً دفاعی سسٹم کی بوسیدگی اور اس کی اصلاح وتجدید کے طرف متوجہ کیا تھا۔ اصلاح وتجدد کی کوشش میں کشمکش کا سب سے پہلا میدان سیکولر عناصر اور مذہبی ریاست نہیں بلکہ شیخ الاسلام کے ادارے اور سلطنت کے درمیان مسلسل آویزش تھی، مذہبی طبقہ جن کی قیادت شیخ الاسلام کررہے تھے اصلاح کی ہر کوشش کو ناکام بنانے پر تلے بیٹھے تھے۔ جب سلطان سلیم ثالث نے ”نظام جدید” کے عنوان سے صرف فوج کی تنظیم اور دفاعی تیکنکیس اور آلات کی حد تک اصلاحات کا آغاز کیا تو شیخ الاسلام نے اس کی بھی مخالفت شروع کردی حالآنکہ وسیع ذرائع آمدن رکھنے والی ادارہ اوقاف کی تمام آمدن اور اس کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار شیخ الاسلام کے پاس تھا، عدالتی نظام قاضی کورٹس پر مشتمل تھی جو فقہ حنفی کے مطابق تنازعات حل کرتی تھی اور تعلیمی نظام بھی مکمل طور پر مذہبی تھا، مگر صرف فوجی اور دفاعی اصلاحات کی پاداش میں شیخ الاسلام نے سلطانی فوج ینی چری کو بغاوت کا فتوی دے دیا اور 29 مئی 1807 کو سلطان سلیم ثالث فوجی طاقت سے پہلے معزول اور پھر قتل کردیے گئے۔

ان کے بعد سلطان محمود ثانی سلطنت کے حکمران بن گئے انہیں شیخ الاسلام کی طاقت کی اس بنیاد کا ادراک تھا جس کی بل بوتے پر انہوں نے سلطنت کو یرغمال بنا کر رکھا تھا چنانچہ سلطان محمود ثانی نے ” تنظیمات ” کے نام سے اصلاحات کی ایک نئی طرح ڈال دی مگر اصلاحات کو ایک بار پھر روکنے کی شیخ الاسلام کی خواہش کی وجہ سے اب کے بار نظام جدید فوج اور ینی چری کے درمیان براہ راست تصادم ہوگیا اور نظام جدید کے فوج نے ینی چری کے بیرکوں تک کو بھی بھاری توپخانے سے ملیامیٹ کردیا، ینی چری کے خاتمے کے دن کو ترک تاریخ میں ”یوم خیریہ” کے نام سے یاد کیا جاتاہے اس کے بعد سلطان محمود نے اوقاف کو سرکاری تحویل میں لے کر مذہبی طبقے کی مالی استحکام کا سدباب کرنے، وزارت تعلیم کے قیام سے نظام تعلیم پر شیخ الاسلام کی اجارہ داری ختم کرنے اور وزارت انصاف کی قیام سے عدالتی نظام پر شیخ الاسلام کی مطلق کنٹرول کو ختم کرنے جیسی اصلاحات نافذ کر دیں۔

مگر اس کے باوجود شیخ الاسلام کے نظام قضا اور نظام مدرسہ کو نہیں چھیڑا گیا اور سلطان کی حکمت عملی یہ تھی کہ اس طریقے سے سلطنت میں مذہب کی فروغ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا البتہ اہل مذہب کی جابرانہ اختیارت بھی کمزور ہوجائیں گے۔ سلطان عبدالحمید ثانی کے انتقال کے بعد سلطان عبدالمجید نے بھی اصلاحات کی تسلسل کو نہیں توڑا اور 1839 میں نوبل نامی فرمان جاری کیا گیا جس میں مسلم و غیر مسلم شہریوں کو مکمل مساوات کی ضمانت کا اعلان کیا گیا۔ اس سے 1520 سے 1566 تک پہلے سلطان سلیمان ( سلیمان عالیشان ) نے بھی فقہی احکام کے پہلو بہ پہلو سلطنت کے جانب سے کچھ قوانین کی اجراء و تنفیذ کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں ”سلیمان قانونی” کہا جاتا ہے۔

بہرحال مئی 1861 میں عبدالعزیز سلطان بن گئے، عبدالعزیز اپنے افتاد طبع کے بنیاد پر اپنی ذات کی سحر میں مبتلا تھے اور ایسے لوگ قدرتی طور پر تمام صلاحیتوں سے عاری بھی ہوتے ہیں چنانچہ سلطان عبدالعزیز نے سلطنت کی اصطلاح کو خلافت سے تبدیل کرنے اور خود کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے خلیفتہ المسلمین قرار دینے کا اعلان کردیا۔ پہلے سے دبے ہویے علماء کے طبقے اور شیخ الاسلام کو بھی کسی ایسے مسیحا کی انتظار تھی چنانچہ وہ سب خلیفۃ المسلمین کی حمایت پر کمر بستہ ہوگئے مگر سلطان عبدالعزیز کی اصراف و تبذیر اور دوسری طرف مکمل نا اہلی کے باعث ان کے دور حکومت میں انہیں خود ہی سلطنت کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔ حالات اتنے ابتر ہوگئے کہ خود علماء بھی اپنے ممدوح سلطان سے متنفر ہوگئے، ان کے معزول ہونے کا فتوی جاری کر دیا گیا۔ سلطان نظر بند کردیے گئے اور نظربندی کے چاردن بعد انہوں نے خودکشی کرلی۔ عبدالعزیز کے بعد مراد خامس خلیفہ بن گئے اور ان کے بعد خلیفہ عبدالحمید ۔ شدید اندرونی و بیرونی دباؤ پر سلطان کو دسمبر 1876 میں ایک آئین کا اعلان کرنا پڑا جس کے تحت پارلیمنٹ قائم ہوئی مگر پارلیمنٹ کے صرف دو سیشنز ہوئے اور صرف ساڑھے تین مہینے بعد پارلیمنٹ کو برطرف اور آئین کو منسوخ کر دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگ گئی، سیاستدان جلا وطن کردیے گئے، ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی اور اسلامی اتحاد کا نعرہ بلند کیا گیا۔

اب اصلاحات کے لیے شیخ الاسلام اور سلطان کی کشمکش نوجوانان ترک اور دوسری تحریکوں کی سلطان کے ساتھ آویزش میں تبدیل ہوگئی۔ 1908 میں نواجوانان ترک نے کامیاب بغاوت کرکے خلیفہ کو 1876 کے آئین کی بحالی کے اعلان پر مجبور کردیا یہ مسلم دنیا کی وہ پہلی مسلح بغاوت تھی جس کا مقصد نہ اقتدار کا حصول تھا نہ حکومت کو برطرف کرنا تھا بلکہ صرف اور صرف آئین کی بحالی تھی۔ پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی جس نے پوری دنیا اور خصوصاً سلطنت عثمانیہ کو سخت متاثر کیا۔ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے تین براعظموں پر پھیلی ہوئی سلطنت عثمانیہ کا دائرہ سکڑتا جا رہا تھا۔ بیرونی حملوں اور داخلی بغاوتوں کی وجہ سے چیکوسلواکیہ، رومانیہ، بلغاریہ، عراق، شام، مصر، لیبیا، حجاز وغیرہ سلطنت کے ہاتھوں سے یکے بعد دیگرے سرک رہے تھے۔ قصہ بہ ایں جارسید کہ کہ خود سلطنت عثمانیہ بھی عیسائی یورپ کے زیر نگین ہوگئی۔

ان حالات میں ترکی کی آزادی کے لیے برسر پیکار تمام تنظیموں کے وفاق نے دسمبر 1919 میں نئے انتخابات کرا کر گرینڈ نیشنل اسمبلی اور اس کی توسط سے ”ملی میثاق” کی منظوری دے دی اور مصطفی کمال کو قائد منتخب کرلیا مگر 11 اپریل 1920 کو خلیفہ نے ایک بار پھر آگے بڑھ کر گرینڈ نیشنل اسمبلی کو برطرف کر دیا لیکن اس مرتبہ مصطفی کمال نے خلیفہ کے فرمان کو نظرانداز کرتے ہوئے 23 اپریل کو مسجد بیرم ولی میں اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس اجلاس کے لیے مصطفی کمال کے جاری کردہ دعوت نامے کے متن، اجلاس کے لیے مسجد بیرم ولی اور جمعہ کے دن کا انتخاب اور پھر اس اجلاس سے اتاترک کے خطاب سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ اتاترک کو نہ فقہ سے مسئلہ تھا نہ شیخ الاسلام سے کوئی مشکل تھی اور نہ ہی خلافت سے کوئی پرخاش تھی مگر اس کے باوجود ملک کو فرانسیسیوں اور یونانیوں کی بیرونی قبضے سے چھڑانے کے لیے برسر پیکار مصطفی کمال سلطان معظم کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ازمیر میں ترک فوج کو یونانی فوج کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ترکی کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو باغیان اسلام قراردے کر ان کے قتل کو مذہبی فریضہ قرار دیا گیا۔ ان کے مقابلے کے لیے مذہبی فوج کی تیاری کا حکم دے دیا گیا اور مصطفی کمال کے لیے اس حالت میں سزائے موت سنا دی گئی جب وہ بیرونی افواج کو ترک سرزمین سے دھکیل رہے تھے۔

یہ ہیں وہ تمام حالات وواقعات جو بعد کی ترکی کے نظام وآئین کے تشکیل کے لیے حقیقی پس منظر بنے۔ پہلے شیخ الاسلام نے سلطنت کے سامنے اور پھر سلطنت اور شیخ الاسلام دونوں نے مل کر آئین اور جمہوریت کے سامنے جو رویہ اختیار کیے رکھا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اہل مذہب کی وجہ سے اب مذہب اور ریاست کے درمیان معاملات ناقابل اصلاح اور ناقابل مصالحت بن چکے ہیں اور اصلاحات کی ہر پیشرفت کے خلاف شدید ردعمل دکھانے والے عناصر کے مقابلے کے لیے اب اتنا ہی شدید اور انتہائی ردعمل دکھانے کی ضرورت ہے۔ پچھلی دوصدیوں کے تاریخ کی یہی سبق تھی اور مصطفی کمال کے سخت اقدامات کا پس منظر بھی یہی تاریخ تھی۔ مصطفی کمال ضیا گوکلپ کے فکر سے متاثر تھے جو اگرچہ تجدید و اجتہاد کے علمبردار تھے مگر ان کی سوچ کا دائرہ بہرحال مذہب کا چوکھٹا ہی تھا مگر حالات نے اتاترک کو گوکلپ کے راستے سے بھی انحراف پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتاترک کے انتقال کے بعد جمعیت علماء ہند جو برصغیر کی سیاست کی انتہائی روشن فکر جماعت تھی، نے اتاترک کے انتقال پر انہیں مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ”یہ اجلاس مجاہداعظم غازی مصطفی کمال پاشا جو ترکی کے استخلاص اور استقلال کے روح رواں تھے، کی وفات حسرت آیات پر دلی صدمے کا اظہار کرتا ہے۔ ان کی وفات سے ملت اسلامیہ کا ایک مفکر اعظم اور مجاہد اکبر مسلمانوں سے جدا ہو گیا۔ خدا تعالی غازی موصوف کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ملت ترکیہ کو احیائے قوائے ملت میں ان کی نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے“۔

مصطفی کمال بعد ترک فوج ملک کے سیکولر تشخص کی محافظ بنی۔ وہ قومی مفاد کی تعبیر و حفاظت میں کسی کے سامنے جوابدہ نہ تھی چنانچہ اس عظیم تر ”قومی مفاد” کے لیے نہ صرف منتخب وزیراعظم عدنان میندریس کو پھانسی پر لٹکایا گیا بلکہ فوج کے سربراہ کے ریفرنڈم کے ذریعے صدر بننے اور سیاسی جماعتوں پر ”قومی مفاد” کے اصول کے تحت پابندی لگانے، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے جیسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ 1994 میں استنبول کے مئیر کی حیثیت سے شہر کی ترقی میں چشم دید پیشرفت کا مظاہرہ کرنے والے رجب طیب ایردوان 2002 میں اسی بنیاد پر وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ ایردوان نے عوام کی رفاہ وفلاح کے لیے کام جاری رکھا اور ملک کی معیشت بین الاقوامی رینکینگ میں دن بہ دن آگے بڑھتی رہی اور اسی تناسب سے عوام کے درمیان ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوتا رہا مگر پچھلے کچھ عرصے سے ایردوان اختیارات میں اضافے پر اپنا توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں جس کی آخری مثال 16 اپریل کو ملک کے نظام کو پارلیمانی سے صدارتی میں تبدیل کرنے کے لیے ہونے والا ریفرنڈم ہے۔

صدارتی نظام میں بذات خود کوئی مسئلہ نہیں اور دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے مگر مطلق العنانیت مسئلہ ہے، مطلق العنانیت اور بے مہار اختیارات ہی ترکی کے ماضی کے تمام سیاسی بحرانوں کی اساسی وجہ ہے۔ سلطنت میں شیخ لاسلام کا مذہبی ادارہ بے مہار تھا جس کی وجہ سے اس ادارے نے خود اپنے آپ کے لیے اور ترکی کے لیے مسائل پیدا کیے۔ ینی چری کی مذہبی فوج شتر بے مہار تھی جس نے سلطنت اور اپنے آپ کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔ اس کے بعد خلیفہ کا منصب مطلق العنان تھا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہونے لگے۔ اتاترک کے بعد فوج کا ادارہ مختارکل تھا جس نے ریاست میں عوام اور ریاست کی ترجیحات میں تفرقہ ڈال دیا۔ اب آق پارٹی سے زیادہ خود رجب طیب ایردوان کی ذات کے حوالے سے یہی خدشات ابھررہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں صحافت اور اظہار رائے کی حق کا گلہ گھونٹ رکھا ہے، اخبارات پر پابندی اور غیر ملکی صحافیوں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔

16 اپریل کے ریفرنڈم میں بھی صرف پارلیمانی سسٹم کو صدارتی نظام سے تبدیل کرنے کا سادہ سا سوال ہی درپیش نہیں بلکہ اس ریفرنڈم کے ذریعے ترک آئین کے 18 آرٹیکلز تبدیل ہوں گے۔ صدر کے پاس پارلیمینٹ کو تحلیل کا اختیار ہوگا، عدلیہ کی نگرانی بھی صدرہی کریں گے، صدر کے لیے پارٹی تعلق چھوڑنا ضروری نہیں ہوگا جس کے بعد ایک ہی شخص بہ یک وقت ریاست، حکومت اور پارٹی سربراہ ہوگا اور صدر کو ایمرجنسی کے نفاذ کا بھی اختیار ہوگا۔

1861 میں سلطان عبدالعزیز جس نرگیسیت کا شکار ہوکر ترک قوم کے لیے ایک مفید حکمران بننے کے بجائے پورے عالم اسلام کے لیے نمائشی خلیفتہ المسلمین بننے کے جس راستے پر گامزن ہوئے تھے اور پھر سلطان عبدالحمید تھے جنہیں ترک قوم کے اقتصادی، علمی اورسائنسی زوال کے بجائے اس کی نظریاتی سرحدات کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ ہماری خواہش اور دعا ہے کہ رجب طیب ایردوان ان دونوں کیفیتوں سے محفوظ رہیں تاکہ ترک قوم کو ترک قومیت، مسلمان حیثیت اور یورپی تہذیب کی ہمسائیگی کے تینوں پرانے مسائل کو سلجھانے کی توفیق میسر ہو اور جدید، مسلم، سیکولر ترکی کی فلاح و ترقی کا جمہوری سفر ترک عوام کی حمایت اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے ساتھ اسی طرح جاری رہے اور یہ سفر کسی نظریاتی ایڈونچرازم کا شکار نہ ہو۔ اس صورت میں ترک عوام 16 جنوری کی بغاوت کی طرح ہمیشہ اپنے نظام کے خود ہی محافظ و پشتیبان رہیں گے اور ایردوان یا ان کے جانشینوں کو کبھی بھی اپنے نظام کے تحفظ کے لیے دنیا کے دوسرے لوگوں کی اس شاعری کی ضرورت نہیں پڑے گی جو سلطنت عثمانیہ کے بچاؤ کے لیے برصغیر کے کوچوں اور گلیوں میں سرودی گئی تھی۔

بولیں اماں محمدعلی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔