ڈارون کا نظریہ ارتقا کیوں درست ہے؟ (2)


ڈارون کے نظریے کو بیسویں صدی کے ایک ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈوکنز RICHARD DAWKINS نے اپنی تحقیق سے آگے بڑھایا ہے۔ اس نے اپنی کتاب THE ANCESTOR’S TALE میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ہم انسانوں کے کروموسومز‘ جینز اور ڈی این اے CHROMOSOMES, GENES AND DNA کا جانوروں ‘پرندوں اور مچھلیوں کے کروموسومز‘ جینز اور ڈی این اے سے مقابلہ کریں تو ثابت کر سکتے ہیں کہ ان سب کے آبا و اجداد مشترک تھے۔

سٹیون ہاکنگ STEPHEN HAWKINGاور دیگر ماہرِ فلکیات کی تحقیق نے ہمیں بتایا ہے کہ ہماری گیلیکسی GALAXYکی عمر تقریباٌ 13.7 بلین سال ہے۔ کرہِ ارض کی عمر4.5 بلین سال اور کرہِ ارض پر زندگی کی عمر تقریباٌ 4 بلین سال ہے۔ ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا سمندر کی گہرائیوں میں ہوئی۔ پھر زندگی سمندر سے زمین پر آئی اور لاکھوں سالوں کے ارتقا سے انسان معرضِ وجود میں آیا۔ وہ لاکھوں سال تک افریقہ میں رہا اور پھر100,000  سال پہلے وہ ہجرت کر کے دنیا میں چاروں طرف پھیل گیا۔

رچرڈ ڈوکنز نے اپنی کتاب میں اپنی تحقیق سے جو تفصیلات بیان کی کیں ان کے مطابق انسانوں کا‘ جو سائنس کی زبان میں HOMO SAPIENS  کہلاتے ہیں‘ اپنے آبا واجداد سے کچھ اس طرح رشتہ بنتا ہے

   HOMO ERECTUS سے رشتہ ۹۰۰۰۰۰ سال پہلے

CHIMPANZEES AND GORILLAS سے رشتہ5-7  ملین سال پہلے

ORANG UTANS AND GIBBONS سے رشتہ 14-18 ملین سال پہلے

OLD WORLD AND NEW WORLD MONKEYS سے رشتہ25–40 ملین سال پہلے

RHODENTS AND RABBITS سے رشتہ60—80 ملین سال پہلے

FISH AND SHARKS سے رشتہ400…500  ملین سال پہلے

FLAT WORMS, FUNGI, AMOEBA سے رشتہ600…800  ملین سال پہلے بنتا ہے۔

جدید سائنس کی اس تحقیق میں چٹانوں میں چھپے فوسلزFOSSILS نے بہت مدد کی۔ ان فوسلز میں وہ راز پائے گئے جو سانسدانوں کی تحقیق کے لیے اہم تھے۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور NATURAL SELECTION کے مطابق جو ذی حیات سخت حالات کا سامنا کر سکے وہ زندہ رہے جو مقابلہ نہ کر سکے وہ نیست و نابود ہو گئے۔

انسانوں کے خلیوں میں جو ڈی این اےDNA ہوتے ہیں اور نسل در نسل آگے جاتے ہیں ان پر یورپ کے سائنسدان برائن سائکس BRYAN SYKES نے کافی تحقیق کی۔ جب اس کی کتاب SEVEN DAUGHTERS OF EVE  چھپی تو ساری دنیا نے اپنے آبا و اجداد اور اپنا شجرہ  نسب جاننے کے لیے اپنا لعابِ دہن بھیجا۔ اس طرح لاکھوں لوگوں کے ڈی این اے سے یہ تحقیق نئے نتائج پیش کر رہی ہے۔ سائنس ثابت کر چکی ہے کہ انسانی بچے میں جو کروموسوم ہوتے ہین ان میں سے دو کرموسوم جنسی کروموسوم SEX CHROMOSOME کہلاتے ہیں کیونکہ وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔ لڑکی میں دونوں کروموسوم XX ہوتے ہیں جن میں سے ایکX کروموسوم باپ سے اور ایکX کروموسوم ماں سے آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں لڑکوں کے دو کروموسوم XY ہوتے ہیں X  ماں سے آتا ہے اورY باپ سے۔ اس لیے یہ کہنا کہ لڑکی اور لڑکے کا فیصلہ ماں کرتی  سائنسی حوالے سے غلط ہے۔

SYKES  کی تحقیق نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ انسانوں نے اپنا سفر افریقہ سے شروع کیا۔ وہ لاکھوں سال وہاں رہے پھر ایک لاکھ سال 100.000 پہلے انسانوں نے ہجرت کی اور آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیل گئے۔

جو لوگ ڈارون کے نطریے کو پوری طرح نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ انسان بندروں کی اولاد ہیں۔ سائنسدان ایسے لوگوں کو بتاتے ہین کہ ایسا کہنا کہ انسان بندروں کی اولاد ہیں سائنسئی حوالے سے درست نہیں۔ سائنسی حوالے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں اور بندروں کے آبا و اجداد مشترک ہیں۔ ڈوکنز نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف انسانوں اور بندروں کے ہی نہیں انسانوں، بندروں‘ دیگر جانوروں اور مچھلیوں کے آبا و اجداد مشترک ہیں۔ زندگی کا آغاز سمندر سے ہوا اور سب جاندار دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

میرے وہ دوست جو سائنس اور نطریہ ارتقا کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں میں انہیں مندرجہ ذیل تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔

 THE DESCENT OF MAN BY CHARLES DARWIN

SEVEN DAUGHTERS OF EVE BY BRYAN SYKES

THE ANCESTOR’S TALE BY RICHARD DAWKINS

میں اپنے دوستوں کو یہ بھی بتاتا ہوں کہ جب میں خیبر میڈیکل کالج پشاور میں ایمبریولوجی EMBRYOLOGYپڑھا کرتا تھا ان دنوں مجھے یہ جان کو خوشگوار حیرت ہوئی کہ انسانی بچہ رحمِ مادر کے نو مہینوں اور سات دن میں ارتقا کے وہ سب مراحل طے کرتا ہے جو انسان نے لاکھوں سال میں طے کیے ہیں۔ انسانی بچے کی رحمِ مادر میں زندگی کا آغاز ایک خلیے سے ہوتا ہے پھر وہ مچھلی کی شکل اختیار کرتا ہے اور آخر میں انسان کی صورت میں پایہِ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ میں ان دوستوں سے جو ڈارون کے نظریے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مشورہ دیتا ہوں کہ اگر وہ انسانی بچے کا رحمِ مادر میں ہر ماہ الٹرا سائونڈ ULTRA SOUNDدیکھیں تو شاید اپنی رائے بدل لیں۔

بہت سے مسلمان جو ڈارون کے نظریے کو نہیں مانتے اس حقیقت سے بےخبر ہیں کہ ڈارون سے پہلے جن فلاسفروں نے ارتقا کے نظریے کو پیش کیا تھا ان میں مسلم فلاسفر ابن خلدون بھی شامل تھے۔ ابن خلدون نے اپنی مشہور تصنیف ’مقدمے‘ میں لکھا تھا

کرہَ ارض پر ارتقا لاکھوں سال سے ہو رہا ہے

پہلے یہاں صرف معدنیات تھیں

پھر نباتات بنے

پھر سمندر میں زندگی پیدا ہوئی

پھر مچھلیاں بنیں

پھر جانور بنے

پھر انسان بنے

ارتقا کی ہر منزل کی انتہا اگلی منزل کی ابتدا بنی۔

ارتقا کا نظریہ پہلے سے موجود تھا۔ ڈارون نے اس کا سائنسی ثبوت پیش کیا۔ اس طرح ارتقا کا نظریہ جو فلسفے کی کتابوں میں پیش کیا جاتا تھا سائنس کی کتابوں میں داخل ہو سکا۔ ڈارون کے بعد کئی اور سائنسدانوں نے اس نظریے کے مزید سائنسی ثبوت فراہم کیے۔

میں بھی طب اور سائنس کے بہت سے طالب علموں کی طرح  ڈارون کے نظریے کو درست مانتا ہوں۔ ڈارون کے نطریے نے وہ بنیادیں مہیا کیں جس پر کارل مارکس‘ سگمنڈ فرائڈ اور رچرڈ ڈوکنز جیسے ماہرینِ حیاتات‘ نفسیات اور سماجیات نے سائنس کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔ چارلز ڈارون کے نظریے نے انسانی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ڈارون کا نظریہ ارتقا کیوں درست ہے؟ (2)

Comments are closed.