ہے کوئی لینے والا


میرے پاس بہت سی دھوپ ہے
اور بہت سی چھاؤں
بہت سے درخت
اور پھول
اور تازہ ہوا
ڈھیروں بادل
اور بہت سی بارش
بے شمار موسم
بہت سے دریا
اور سمندر
اور جزیرے
طویل ترین راستے
بے نہایت اسفار
لامحدود رقبے
اور بہت سے شہر
کھڑکیاں اور دروازے
ساباط
اور کشادہ گلیاں
غیر مشروط محبت
اننت خاموشی
اور نامختتم تنہائی
اور بہت سی اَن کہی نظمیں!!!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں