کیا ادب غیر سیاسی بھی ہوتا ہے؟


اگر آپ نہایت کاہل قاری ہیں لیکن حسنِ اتفاق سے آپ کے پاس ذرا سا بھی دماغ ہے کہ جس میں کسی خیال کی تصویر دیکھنے کی صلاحیت ہو تو پھر آپ کو تاریخ، جغرافیہ، منطق، فلسفہ، فزکس، کیمسٹری، میتھس وغیرہ جیسے ذہن کو تھکا دینے والے مضامین پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ تمام کاہلوں کو نوید ہو کہ ان سب موضوعات کا ست اور جوہر اب مارکیٹ میں موجود ہے۔ جس کا نام لٹریچر ہے۔

یہ لٹریچر نثری ٹیبلٹس اور شاعری کے کتابی کیسپول کی شکل میں ہر اچھے کتب فروش سے انتہائی مہنگے اور سستے برانڈز کی صورت دستیاب ہے۔ مگر یہ کیسے پتہ چلے کہ کونسی نثری ٹیبلٹ اور شعری کیسپول جعلی ہے اور کون سا اصلی۔ نئے نئے ادب گزیدگان کے لیے یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔ بس آپ پڑھتے چلے جائیں، پڑھتے چلے جائیں ایک روز آپ بھی تجربہ کار مریض کی طرح لیبل دیکھ کر بتا سکیں گے کہ یہ ایک نمبر ہے اور وہ دو نمبر۔ اس کے علاوہ اچھے اور برے ادب کو پرکھنے کے جو بھی فارمولے ہیں وہ عطائی نقادوں کے مجرب کماؤ نسخوں کے سوا کچھ نہیں۔

تو کیا دواِ ادب کے مسلسل استعمال سے کوئی مستقل افاقہ ہو سکتا ہے؟ کیا اس دوا کے استعمال سے لاعلمی و جہالت کی ہمہ وقت برستی گرد سے کسی خاص مدت میں جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ اس کا دو ٹوک جواب ہے نہیں۔ یہ دوا آپ کو تاحیات استعمال کرنا پڑے گی۔ استعمال چھوڑا نہیں اور لاعلمی کی گرد نے دوبارہ آپ کے ذہن پر قبضہ جمانا شروع کیا نہیں۔ یوں سمجھئے کہ جیسے آپ روزانہ اپنے گھر کی صفائی اور ڈسٹنگ کرتے ہیں کیونکہ نہیں کریں گے تو گھر دوبارہ گندہ ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح ادب کا بھی معاملہ ہے۔ نہیں استعمال کریں گے تو مکڑی پھر سے دل و دماغ پر جالے تاننا شروع کردے گی۔

یہ تو تھے ان کے لیے مشورے جو اپنی کہولت، آلکسی اور سست روی کو برقرار رکھنا بھی چاہتے ہیں اور باشعور بھی ہونا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو ورزش بھی نہیں کرنا چاہتے مگر وزن گھٹانا چاہتے ہیں۔

اب میں آتا ہوں نبستاً ادق موضوع کی جانب۔ یعنی ادب، سیاست اور امن کا کیا سمبندھ ہے؟ یعنی کیا لٹریچر میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سیاسی دھارے کا رخ امن کی جانب موڑ سکے۔ مگر اس سوال کا جواب اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ کیا تخلیق کار اتنا طاقت ور ہے جو ایسا لٹریچر تخلیق کر سکے کہ جس سے سیاسی دھارا امن کی جانب موڑا جا سکے۔

میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی پرانی بحث میں نہیں الجھنا چاہتا مگر جو لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ادب کی تخلیق ایک غیر سیاسی عمل کے طور پر ممکن ہے۔ ان کی یہ سوچ بھی ایک سیاسی سوچ ہے۔ اپنے اردگرد سے لاتعلق رھ کر جڑے رہنے کا چمتکار صرف وہ تین مشہور جاپانی دیومالائی بندر ہی دکھا سکتے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں، ہونٹوں اور کانوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ نہ برا سوچو، نہ برا دیکھو، نہ برا جانو۔ مگر یہ بندر اتنے شریف اس لیے ہیں کہ وہ مجسمے کی شکل میں ہیں۔ کیا کسی جیتے جاگتے بندر کو کسی نے کبھی اپنے اردگرد سے لاتعلق رہ کر زندگی گذارتے ہوئے دیکھا ہے؟

اچھائی نہ تو خلا میں پیدا ہوتی ہے نہ ہی برائی؟ یہ کائنات ہی جب تصادم کے سبب وجود میں آئی ہے تو یہاں پنپنے والی زندگی بلا تصادم کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔ زندگی تو ڈیزائن ہی خیر و شر کے تصادم کے ڈرائنگ بورڈ پر ہوئی ہے۔ کبھی غور کیا کہ ہماری دادی یا نانی جو لوک یا دیومالائی کہانی، پہیلی، یا گیت سناتی ہیں۔ ان میں عادل بادشاہ، ظالم بادشاہ، آدم خور دیو، پری، کوہ قاف پہنچ کر پری کو آدم خور دیو کی قید سے چھڑانے والا شہزادہ۔ جری شہزادہ، بزدل بادشاہ، چالاک ملکہ، بے وقوف درباری، عاقل وزیر، یہ سب کردار اور ان کے گرد گھومنے والی کہانیاں اور ان کہانیوں اور گیتوں کے استعارے شاہی فسطائیت کے دور میں تخلیق ہونے والا مزاحمتی ادب اور اپنے دور کی تاریخ نہیں تو اور کیا ہے۔
مثلاً ہندوستان پر جو جو لوگ حملہ آور ہوئے ان کی ذہنیت اور ان کے حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی، سماجی و معاشی اتھل پتھل سمجھنے کے لیے بیسیوں کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ مگر یہ محاورہ سننے کے بعد آپ کو کچھ اور پڑھنے کی شاید ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ ’’کھادا پیتا واہے دا، باقی احمد شاہے دا’’۔ احمد شاہ ابدالی سے آج تک اس ایک ضرب المثل کی مار سے کون سا فاتح ہے جو باہر ہے۔

مجھے کوئی یہ بتائے کہ بلھے شاہ، وارث شاہ، غلام فرید، میر، انیس، غالب سے لے کر حبیب جالب تک کوئی ایک شاعر جو سیاسی نہ ہو۔ لیکن ہمیں اتنا ہی محبوب ہو جتنے یہ شاعر ہمیں محبوب ہیں۔ گلگامش کے قصے سے لے کر داستانِ امیر حمزہ اور مرزا اطہر بیگ کے غلام باغ تک کوئی ایسی داستان، کہانی، افسانہ یا ناول جو اپنے دور کی سیاست، سماجی تبدیلی اور اقتصادی حالات کے چھینٹوں سے بچ نکلا ہو اور پھر بھی شاہکار کہلانے لائق ہو۔

بات سیدھی سیدھی ہے کہ جس طرح گائے بکری کو جنم نہیں دے سکتی اسی طرح اگر انسان پولٹیکل اینمل ہے تو لٹریچر بھی پولٹیکل ہی ہوگا۔ صحافی، وقوعہ نویس، مورخ اور تخلیق کار میں اگر کوئی فرق ہے تو بس اتنا کہ تخلیق کار دیگر تمام وقوعہ نویسوں کی دستیاب معلومات کو بطور خام مال استعمال کر کے اسے مونالیزا کی خفیف مسکراہٹ، اوتھیلو کے تاریک ذہن اور اقبال کے شکوہ جوابِ شکوہ جیسی فنش پروڈکٹ میں بدل دیتا ہے۔

کبھی سوچا کہ ہمیں نسیم حجازی کیوں حفظ نہیں ہوتا اور یوسفی کی زرگذشت کیسے حفظ ہو جاتی ہے۔ ہمیں صرف غیر درباری شعرا کا بیشتر کلام اور درباری شعرا کے غیر درباری اشعار ہی کیوں یاد رھ جاتے ہیں۔ کیا ذوق کوئی چھوٹا شاعر ہے؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے یعنی جو ہم محسوس کر سکتے ہیں مگر کہہ نہیں پاتے ہمیں وہی جذبہ اگر سلیقے اور بھر پور نمایندگی کے ساتھ کسی تخلیق کار کی پینٹنگ یا افسانے یا شعر میں دکھائی دے تو ہم اسے محبوبہ کی طرح ازبر کر لیتے ہیں۔ اور اس ازبری کے بعد ہمارے اندر کچھ نہ کچھ شعوری یا لاشعوری ذہنی تبدیلی رونما ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ اور یہ تبدیلی ہی رفتہ رفتہ یہ احساس جگاتی ہے کہ ہمارا اندرون تاریک ضرور ہے مگر اس تاریکی کو چھانٹنے کے لیے حرف کی روشنی بھی اندر اتاری جا سکتی ہے۔ ادب کا یہ فرض نہیں کہ وہ عام آدمی کو جواب بتائے بلکہ ادب ایسے سوال اٹھاتا ہے جن سے جوابات کے ممنوعہ خزانوں کا تالا انسان خود کھول سکے۔

صحافی یہ تو بتا سکتا ہے کہ پاکستان میں بے گھری و دربدری کا بحران کتنا سنگین ہے مگر تخلیق کار وہ ہے جو اس ایک خام خبر کو لے کر اسے ماسٹر پیس بنا دے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کیا بیان کر سکتے ہیں۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ ہم کس سلیقے سے بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی تخلیق کار ری پریزنٹیو نہیں ہوتا ری پریزنٹر ہوتا ہے۔

بقول معروف جمیکن لکھاری اولیو سینئر۔ آرٹ کی دو قسمیں ہیں۔ یا سرقہ یا پھر اوریجنل۔ اوریجنل آرٹ کبھی جگالی سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے عام انسانوں کو اپنے سیاسی اظہار کے لیے کھلے پن کی فضا درکار ہو۔ مگر آرٹسٹ کو اپنے اظہار کے لیے صرف خیال کی آزادی درکار ہے۔ اپنے ہی دماغ کے سنسر سے آزاد خیال۔

ہر انداز کی آمریت اگر کسی شے سے ڈرتی ہے تو کہانی نویس اور کہانی سنانے والی سے ڈرتی ہے۔ چونکہ اسے تو وہ روک نہیں سکتی لہذا اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گلا گھونٹ دے کہ جس سے آواز نکلتی ہے، وہ آنکھیں پھوڑ دے جو دیکھ سکتی ہیں، وہ ناک مسل دے جو بو اور خوشبو میں تمیز کرسکتی ہے، وہ دماغ مفلوج کردے جو سوال، خواب اور رنگ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے لیے آمریت ڈمی تخلیق اور تخلیق کار تخلیق کرتی ہے۔ پھر بھی ایک دن اپنے فلمی سیٹ کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

امن قائم کرنا جتنا مشکل ہے اتنا ہی آسان بھی ہے۔ بس ایک جادوئی لفظ آپ کو دونوں انتہاؤں پر لے جا سکتا ہے۔ اور وہ لفظ ہے برداشت۔ جانور خود پر برداشت طاری نہیں کر سکتا مگر انسان برداشت کا فن سیکھ سکتا ہے۔ جس لمحے ایک دوسرے کو جسمانی و ذہنی طور پر برداشت کرنے کا چلن انگڑائی لینا شروع کرتا ہے اسی لمحے سے تہذیب کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اور برداشت سے پہلے عدم لگا لو تو تمہارا امن تم سمیت عدم کی جانب روانہ ہو جائے گا۔

بظاہر یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ لیکن یہ سادہ سی بات سمجھنے کے لیے بھی ذہنی بلوغت چاہیے۔ اور ذہنی بلوغت ایک دن میں اور تکلیف اٹھائے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ تخلیق کار وہ دائی ہے جو ذہنی بلوغت نامی بچے کی پیدائش کے عمل کو اپنے عمل سے قدرے سہل بنا سکتا ہے۔ (یہ مضمون بے نظیر لٹریری فیسٹیول لاہور میں پڑہت کے لیے لکھا گیا)

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔