اپنی آواز اٹھائیں مولانا طارق جمیل صاحب کو معاف رکھیں


مولانا طارق جمیل صاحب کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ سوچ کی مخالفت کی ہے۔ مولانا ہمیشہ فتوے بازی سے دور رہے ہیں۔ وہ دعوت کے لئے جنید جمشید کے گھر بھی جاتے ہیں، وزیراعظم کے دفتر بھی جاتے ہیں، نرگس اور وینا ملک کو بھی دعوت دیتے ہیں، عزیر بلوچ کے پاس لیاری اور نائن زیرو بھی جاتے ہیں۔ پاڑہ چنار کی امام بارگاہ بھی جاتے ہیں اور احمد لدھیانوی کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی، میری یا کسی اور کی سوچ ان سے مختلف ہو سکتی ہے مگر ان کی نیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مولانا تبلیغی تحریک سے وابستہ ہیں۔ ان کی تحریک دنیا بھر میں دعوت کا کام کر رہی ہے۔ تحریک کے کام کوئی رکاوٹ نہ آئے اس کے لئے بہرحال ان کو ایسے موضوعات سے دور رہنا پڑتا ہے کہ جس کے اثرات سیاسی ہو سکتے ہیں۔ تبلیغی جماعت سیاست و ریاست کے موضوعات پر بحث و مکالمہ سے ہمیشہ خود کو دور رکھتی ہے۔ اس فکر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ بہرحال ان کا حق ہے کہ وہ تحریک کو اپنے خطوط پر چلائیں۔ میری ذاتی رائے میں تبلیغی جماعت یا مولانا طارق جمیل کی اس انداز دعوت کو بدنیتی پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔

مدعا یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ رویے پائے جاتے ہیں۔ آپ ملالہ پر کچھ لکھیں تو چار حضرات سامنے آ جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ڈاکٹر عافیہ پر کیوں کچھ نہیں لکھتے۔ آپ ضیاء کی آمریت میں پلنے والی سوچ پر تنقید کریں تو دس حضرات راستہ میں کھڑے ہو کر سوال کرتے ہیں کہ آپ نے زرداری کے سویس بنکوں کی رقم پر کیوں کچھ نہیں لکھا۔ آپ ملک میں مذہبی شدت پسندی پر کچھ لکھیں تو حضرات فرماتے ہیں کہ شام کیوں بھول گئے، فلسطین کے مظلوم کیوں یاد نہیں رہے۔

دیکھیے ہر انسان کے اپنے محسوسات ہوتے ہیں۔ کچھ واقعات سے وہ زیادہ تاثر قبول کرتا ہے کچھ سے کم تاثر قبول کرتا ہے۔ کچھ واقعات کے بارے میں ایسے چیزیں پڑھتا ہے جن کی شدت ذہن زیادہ قبول کرتا ہے، کچھ واقعات کے بارے میں ایسی چیزیں پڑھتا ہے جو خبروں میں بیان کردہ واقعات سے بالکل الگ ہوتے ہیں، اس لئے وہ بعض معاملات پر رائے قائم کرتا ہے اور بعض پر نہیں کر پاتا۔ پھر ہر انسان کے کچھ محدودات ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے بہت سے اچھے لکھنے والے موجود ہیں جن کی نظر سماجی اور سیاسی معاملات میں بہت گہری ہوتی ہے۔ وہ سماجی، فکری، اور علمی معاملات کو ان کی باریکی میں ایسے دیکھ پاتے ہیں کہ اس سے بہتر تشخیص ممکن نہیں ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ سیاسی معاملات پر قلم اٹھائیں گے تو بہت درست تجزیہ کریں گے مگر مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں۔ وہ سیاسی معاملات پر رائے نہیں دے سکتے۔ وہ فوج یا اس کے ادارے پر قلم نہیں اٹھا سکتے۔ ایسے میں ان کے لکھے سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے مگر اپنا گربیان پھاڑ کر ان سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ہمت ہے تو فوج یا حکومت پر لکھ کر دکھاؤ۔ یہ ایک منفی رویہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایک برستی شام میں کوؤں کی کہانی

گزارش یہ ہے کہ آپ مولانا طارق جمیل پر تنقید ضرور کریں۔ ان کی فکر سے اگر آپ کو اختلاف ہے تو اس پر تنقید کیجیے۔ ان کے کسی بیان سے اگر آپ کے خیال میں کوئی منفی تاثر پھیلتا ہے تو اس پر تنقید کیجیے مگر ہر واقعے کے بعد یہ آوازیں دینا کہ ’کہاں گیا طارق جمیل‘ یہ ایک منفی سوچ ہے۔ یہ وہی سوچ ہے کہ جب آپ سماجی جبر پر قلم اٹھاتے ہیں، ملک کے اداروں کے کردار پر تنقید کرتے ہیں تو چند احباب آپ کے راستے میں کھڑے ہو کر پھبتی کستے ہیں کہ ”اوئے دیسی لبڑل“ تم شام پر خاموش کیوں ہو؟ ”اوئے سیکولر گماشتے تم نے مودی پر کیوں نہیں لکھا“۔ اگر مولانا کوئی سیاسی تحریک چلاتے تو پھر ان پر یہ تنقید جائز تھی کیونکہ سیاسی تحریک چلانے والے شخص کو عوامی معاملات پر اپنا تاثر دینا لازم ہے کہ عوامی توقع ان سے منسلک ہوتی ہے۔

ہم نے خود کو چند یوٹوپیائی خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے جہاں ظلم بھی اپنا اپنا ہے اور اس کی تفہیم یا تنقید کے پیمانے بھی اپنے اپنے ہیں۔ ظلم ظلم ہوتا ہے۔ ہر انسان جو انسانی اقدار پر یقین رکھتا ہے اس کے لئے ظلم اور جبر کی شناخت لسانی، مذہبی، قومی نہیں ہو سکتی۔ ظلم پیرس میں ظلم ہے بھلے مسلمان کرے، ظلم افغانستان میں بھی ظلم ہے بھلے امریکا کرے یا طالبان کریں۔ ظلم شام میں بھی ظلم ہے بھلے شیعہ کرے یا سنی کرے۔ ظلم کشمیر میں ظلم ہے بھلے ہندو کرے، ظلم کوئٹہ، کراچی، لاہور اور فاٹا میں بھی ظلم ہے بھلے سرکاری ادارے کریں یا کوئی لسانی یا مذہبی تنظیم کرے۔ ظلم کی تفہیم کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل پر آپ تو خاموش رہیں مگر احتجاج کرنے والوں پرموم بتی مافیا پھبتی کسیں۔ ظلم کی شناخت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ وزیرستان میں ڈرون حملے میں مرنے والے معصوموں پر تو خاموش رہیں مگر احتجاج کرنے والوں کو شدت پسندوں کے ہمدرد کہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ’زندگی بے ہودگیوں کا مجموعہ بن گئی ہے‘

انسان بہت سارے عصبیتوں میں گرا ہوتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم خود کو عصبیتوں سے دور رکھ کر بلاتمیز رنگ، نسل، عقیدہ، قومیت اور مذہب کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ انسانیت کی بنیادی قدر ہے۔ ہر واقعے پر طارق جمیل کو آواز دینا لازم نہیں ہے آپ اپنے قلم اور آواز کی جولانیاں دکھائیں۔ ہر واقعے پر لازم نہیں ہے کہ آپ دیسی لبرل کا نقارہ بجا کر الحذر الحذر کرتے رہیں۔ آپ آواز اٹھائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah