مشال خان قتل کیس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع


مشال خان قتل کیس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مردان پولیس کو12 بج کر 52 منٹ پر فون کیا۔ واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی بلکہ جامعہ آنے کا کہا گیا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے روزانتظامیہ مشال کے خلاف توہین مذہب کی انکوائری کررہی تھی، مردان پولیس کے ڈی ایس پی حیدر خان یونیورسٹی پہنچے تو مشال کے دوست عبداللہ پرتشدد جاری تھا، ڈی ایس پی حیدر خان نے مشال کے دوست عبداللہ کو تشدد سے بچایا۔

رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی حیدرخان کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے، واقعے کی سی سی ٹی وی وڈیو بھی حاصل کرلی گئی ہے۔

عبداللہ کے بیان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ مشال سے ناخوش تھی، اسے مشال خان کے خلاف بیان دینے کا کہا گیا مگر اس نے انکارکیا، عبداللہ کوبعد میں باتھ روم میں بند کر دیا گیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کوہاٹ سے انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار