ڈھیلے کردار والی لڑکیاں اور تیز نگاہوں والے ناصح


کیا زمانہ آ گیا ہے۔ شرم حیا تو رخصت ہو گئی ہے ہمارے معاشرے سے۔ ابھی کل ہی ایک پوش ایریے کی مارکیٹ میں جانا ہوا۔ وجہ کوئی دوسری نہیں تھی بلکہ ادھر جوس وغیرہ اچھا ملتا ہے اس لئے اپنے گھر سے دس کلومیٹر دور جا کر بھی اسی مارکیٹ میں جوس کے لئے جاتے ہیں۔ ادھر بندہ مسمی کے جوس کے دو قدحے چڑھا کر ہی سرور میں آ جاتا ہے۔

ادھر بیٹھ کر ہم دھیرے دھیرے چسکیاں لے کر جوس پی رہے تھے۔ مگر ہم جوس کے گھونٹ کہاں پی رہے تھے۔ وہ تو غم کے آنسو تھے جو گلے سے اتر رہے تھے اور بار بار ہمیں ہونٹوں پر زبان پھیرنا پڑ رہی تھی۔ بخدا جس لڑکی کو دیکھتے تھے، افسوس ہی کرتے رہ جاتے تھے۔ سکن ٹائٹ جینز پہننے والیوں کو دیکھ کر بار بار استغفار پڑھنا پڑھ رہا تھا۔ بخدا چار گھنٹے میں کوئی دو ہزار مرتبہ تو پڑھ ہی لیا تھا۔ مگر ان جینز والیوں سے سے بڑھ کر راہ راست سے بھٹکانے والیاں تو وہ تھیں جو جدید فیشن کی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھیں۔ جینز کے موٹے کپڑے سے کم از کم جسم تو دکھائی نہیں دیتا ہے۔ باہر سے ہی جسمانی نشیب و فراز میں فحاشی کا پہلو ہمیں صاف نظر آتا ہے۔

مگر یہ جدید فیشن کے شلوار قمیض پہننے والیاں تو اچھے بھلے صالح افراد کو بھی راہ راست سے بھٹکانے والیاں ہوتی ہیں۔ دوپٹے کے نام پر ایک پٹی سی جسم پر کہیں بھی جھول رہی ہوتی ہے۔ گلا اتنا کھلا کہ ایک نوجوان کے لئے چشم تصور سے دیکھنے کو کچھ باقی نہ رہے۔ نوجوانوں کی کوتاہ نظری ہے ورنہ ہمیں تو اس میں قرب قیامت کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ پھر لباس ایسا باریک کہ چشم تصور بھٹک بھٹک جائے۔ محرم تک دکھائی دے رہے تھے ان حرافاؤں کے۔ جن کے لباس موٹے کپڑوں والے تھے یا جن کے دوپٹے سروں اور سینوں پر تھے، وہ بھی صرف پارسائی کا ڈھونگ رچائے ہوئے تھیں۔ ہم تو ان کی رگ رگ سے واقف ہیں۔ ہمیں دھوکہ دینا آسان تو نہیں ہے۔ ان کے چہروں کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک ہی کہے دے رہی تھی کہ ان کی نیت ہم پر خراب ہے۔

ایسے کپڑے پہننے کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ دیکھنے والوں کو جنسی ہیجان میں مبتلا کیا جائے۔ ہم نے کل مسلسل چار گھنٹے تک یہ تجربہ خود کیا کہ جتنی دیر تک ان بدکردار لڑکیوں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا جائے انسان اتنا ہی بہکتا ہے۔ ہم جیسوں کو بہکانے کے بعد ان کا اگلا ہدف ہوتا ہے کہ ہمارے جیسے گھبرو نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اپنے ساتھ لے جائیں۔ نہ صرف ان کا لباس جسم سے چپکا ہوتا ہے یا شفاف ہوتا ہے، بلکہ ان کی چال میں بھی ایسی لچک ہوتی ہے کہ ایک سیکنڈ میں ہی فحاشی کے سمندر موجزن دکھائی دے جاتے ہیں۔ ہمارا یہ دعوی بے بنیاد نہیں ہے بلکہ جب ہم نے اپنے موبائل فون سے بنائی ہوئی ان کی ویڈیو کو رات بھر سلو موشن میں دیکھا کیا تو ایک ایک سیکنڈ ہمارے ہوش اڑا گیا۔ ہمیں ان کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ان کے پرس میں ہر وقت ایسا سامان موجود ہوتا ہے جس سے وہ کسی بھی مرد سے بے دھڑک ناجائز جنسی تعلق قائم کر سکیں اور ان کی گاڑی کی چمک کہے دیتی ہے کہ گاڑی کے ڈیش بورڈ میں تو پورا بڑے والا اکانومی پیک ہی پڑا ہوتا ہے۔

بلکہ یہ عورتیں کیا، ادھر خواتین کے کپڑوں کی دکانوں میں سجے زنانہ مجسموں کو دیکھ کر ہی ہمارے ہوش اڑ گئے۔ ان کے جسم تو بالکل حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں باریک کپڑے پہنائے گئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ادھر ادھر چھپا کر کوئی ایسا مجسمہ بھی رکھا ہوتا ہے جس کے ساتھ یہ تکلف بھی روا نہیں رکھا گیا ہوتا کہ اس پر ایک دھجی ہی ڈالی گئی ہو۔ ہم کئی گھنٹے تک ان دکانوں کے شو کیسوں میں لگے یہ مجسمے دیکھتے رہے اور قوم کی حالت پر تاسف کرتے رہے۔ پیمرا میں غیرت کی رتی برابر رمق بھی باقی ہے تو فحاشی کے خلاف ایکشن لے اور جس طرح میڈیا کے شو پر پابندی لگاتا ہے ویسے ہی دکانوں میں موجود ان شو کیسوں پر بھی پابندی لگا دے۔

پتہ نہیں یہ حسینائیں شرم و حیا سے اتنی دور کیوں ہو گئی ہیں۔ ادھر مرسی کی حکومت کے زمانے میں ہمارا مصر میں چکر لگا تھا۔ ادھر یہ دیکھ کر دل نہایت خوش ہوا کہ برقع پوش حسینائیں عام دکھائی دیتی تھیں۔ ہم نے اپنے مصری دوستوں سے تعریف کی کہ مصری دوشیزائیں کتنی شرم والیاں ہیں کہ صرف ان کے پیروں کو دیکھ کر ہی ہم ان کے بے پناہ حسن کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے ہماری غلط فہمی رفع کی۔ انہوں نے بتایا کہ نقاب کے کھنچے ہونے یا ڈھیلے ہونے سے لڑکی کے کیریکٹر کے ڈھیلے ہونے یا ٹائٹ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ یہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوا کہ بیشتر مصری لڑکیوں کا کیریکٹر ڈھیلا ہی تھا۔

ہمارے قلب میں بے سکونی کا ایسا سمندر موجزن ہو گیا کہ کچھ مت پوچھیے۔ پاکستانی لڑکیاں ایسی۔ مصری لڑکیاں ویسی۔ کیا حیا اس جہان سے رخصت ہو گئی ہے؟ یہ لڑکیاں صالح بزرگوں سے نکاح کر کے نفسانی خواہشات کو جائز طریقے سے پورا کیوں نہیں کرتی ہیں؟ کیوں ایسے در در پھرتی ہیں اور ہمارا ایمان بگاڑتی ہیں۔ کیا ان کو علم نہیں کہ ان کی یہ حرکتیں دیکھ کر کیسے کیسے خواب ان نوجوانوں اور بزرگوں کی آنکھوں میں سج جاتے ہیں؟

ہماری یہ بے کلی اس وقت دور ہوئی جب ہم نے ترکی کے ریفرینڈم کا جشن فتح دیکھا۔ آپ حضرات کو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ ان ناچتی گاتی ترک لڑکیوں نے بھی سکن ٹائٹ جینز پہنی ہوئی تھیں۔ ان کے بلاؤز ایسے کھلے تھے کہ چشم تصور کے لئے کچھ زیادہ باقی نہ بچا تھا۔ سینے پر ٹی شرٹ اتنی چھوٹی جتنی ہندی فلموں کی ہیروئنوں کا بلاؤز ہوتا ہے یعنی ہرچند کہیں ہے کہیں نہیں ہے۔ ہم تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے۔ دیکھتے رہے کہ اتاترک نے ان کو کیسا بگاڑ دیا ہے۔ بے حیائی کا ایسا تموج دیکھ کر ہماری تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور ہم پلکیں جھپکانا تک بھول گئے۔ ہم نے سوچا کہ اگر ان حسیناؤں کا حلیہ ایسا ہے تو پھر یہ کار کی جگہ ٹرک ہی چلاتی ہوں گی جس میں مانع حمل ادویات کے کارٹن کے کارٹن رکھے ہوتے ہوں گے۔ مگر پھر محض اتفاق سے نگاہ ان کے بدن سے کچھ اوپر اٹھی تو دیکھا کہ وہ حسینائیں ترک مرد مومن ایردوان کے جھنڈے لہرا رہی تھیں۔

یہ دیکھتے ہی کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ ان لڑکیوں کا حسن تو ایسا فحاشی کی حد تک بے حجاب ایسا ہے مگر ہیں وہ نہایت ہی حیا والیاں۔ ان کا دل ایسا نیک ہے کہ وہ ایردوان کو ووٹ دیتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ اپنا بے حیا لباس ترک کر کے شٹل کاک برقعے پہننے لگیں گی۔ فتح کی خوشی میں وہ ایک دوسرے کو چوم رہی تھیں اور گلے مل رہی تھیں۔ ہم نے بھِی ایردوان کا جھنڈا بلند کیا اور ان کے قریب ہوئے کہ ان کو فتح کی مبارکباد دے سکیں مگر نہ جانے کیوں وہ گھبرا کر وہاں سے دور ہٹ گئیں۔ شاید ہمارے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے ان کو شرم آ رہی تھی جس سے ہم مسلسل ان کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ آج رات ہم سلو موشن میں ان کا جوش و جذبہ دیکھیں گے تو ان کی تعریف میں مزید لکھیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 567 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar