گیس کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ اور ہم


adnan Kakar

اخبار میں چھپا کہ گیس کی قیمت میں جنوری سے اڑتیس فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔ جی بس سلگ ہی تو اٹھا۔ بہرحال خبر موقر ترین اخبار “روزنامہ زحمت” کی تھی، اس لیے بہتر سمجھا کہ گیس والوں سے پتہ کر لیا جائے کہ یہ حقیقت ہے یا نرا فسانہ ہے۔ سو ہم اپنے دوست بوتل گھمن صاحب کے پاس جا پہنچے جو ان دنوں وزارت تیل و گیس میں بڑے افسر تعینات ہیں۔

ہم: آداب بوتل گھمن صاحب۔

بوتل گھمن: گڈ مارننگ۔ تشریف رکھیے۔ کیا پئیں گے؟

ہم: اس وقت تو خون پینے کا دل چاہ رہا ہے۔ بہرحال چائے پلوا دیں۔

بوتل گھمن: خیریت؟ کیا ہوا ہے؟

ہم: اطلاع ملی ہے کہ اس جنوری سے گیس کی قیمت میں اڑتیس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

بوتل گھمن: درست خبر ہے۔ ہماری قوم ترقی کر رہی ہے۔ ہماری مثالی بیوروکریسی نے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

ہم: گیس کی قیمت زیادہ ہونے سے معیار زندگی کا کیا تعلق ہے گھمن صاحب؟

بوتل گھمن: لوگ جب اتنا زیادہ بل دیں گے جتنے گورے دیتے ہیں تو امیر مغربی ملکوں کے شہریوں جیسی خوشحالی محسوس کریں گے۔ اس سے قوم کا احساس کمتری دور ہو گا اور اس کی خودی بلند ہو گی۔

ہم:گھمن صاحب، جب سی این جی پچیس روپے کلو تھی تو اسے یہ کہہ کر پینتالیس روپے کلو کر دیا گیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول نوے ڈالر کا ہو گیا ہے۔ اور ساری دنیا کی طرح اب پاکستان میں بھی گیس کی قیمت اب پیٹرول کی قیمت سے منسلک کی جا رہی ہے۔ اس لیے اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔

بوتل گھمن: آپ نے درست فرمایا میرے بھائی۔ ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو دنیا کے طور طریقے اپنانے ہوں گے۔

ہم: لیکن اب بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت پینتیس ڈالر کے آس پاس ہے۔ تو گیس کی قیمت تین گنا کم ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن آپ نے تو الٹا قیمت میں اڑتیس فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

بوتل گھمن: یہ عارضی کمی ہے۔ پیٹرول جلد ہی سو ڈالر کی قیمت کراس کر جائے گا۔

ہم: ہیں؟ کب تک؟ ہم واپس جاتے ہی پیٹرول کی دو تین بوتلیں خرید کر گھر میں ذخیرہ کر لیتے ہیں۔

بوتل گھمن: یہی کوئی چار پانچ سال تک۔

ہم: اوہ، شکر ہے۔ لیکن پھر گیس کی قیمت میں فوری طور پر اضافہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟

بوتل گھمن: دیکھیں یہ تکنیکی مسائل ہیں۔ ہم ایران اور ترکمانستان سے گیس درآمد کرنے لگے ہیں۔ ظاہر ہے کہ امپورٹڈ چیز مہنگی ہی ہوتی ہے۔

ہم: لیکن وہ تو پچھلے دس سال سے امپورٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اگلے دس سال میں بھی امپورٹ ہو جائے تو بڑی بات ہو گی۔

بوتل گھمن: مستقبل قریب میں آپ خوشخبری سن لیں گے۔

ہم: جب گیس ملے گی، اس وقت قیمت بڑھا دیں۔ ابھی سے کیوں اتنی مہنگی کر رہے ہیں؟

بوتل گھمن: دیکھیں یہ تکنیکی مسائل ہیں۔ آپ عام آدمی ہیں۔ آپ یہ امور نہیں سمجھتے ہیں۔

ہم: سرکار سمجھانے کی کوشش تو کر دیکھیے۔

بوتل گھمن: دیکھیں طب کا تکنیکی مسئلہ ہے کہ کسی انسان کو اچانک کوئی شاک لگے تو وہ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ بلکہ کئی کمزور دل افراد تو داعی اجل کو لبیک کہہ بیٹھتے ہیں۔ صدمہ آہستہ آہستہ دیا جانا چاہیے۔

ہم: یعنی یہ اڑتیس فیصد اضافہ آہستہ آہستہ ہے؟

بوتل گھمن: آپ تو ہماری بات پر یقین ہی نہیں کرتے ہیں۔ کاذب سمجھتے ہیں ہمیں۔ جون میں بجٹ آنے دیں۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ آہستہ آہستہ ہی ہے۔

ہم: یعنی قیمت میں اصل اضافہ چند سو فیصد کا ہو گا؟

بوتل گھمن: انشاء اللہ ہم قوم کی خودی بلند کر کے ہی رہیں گے۔

ہم: لیکن یہ کیا ہو رہا ہے؟ پہلے آپ لکڑی کے چولہے سے پوری قوم کو مٹی کے تیل پر لائے کہ جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ پھر مٹی کے تیل کی قیمت ایسی ہوئی کہ قوم کا تیل نکل گیا تو سب کو گیس پر منتقل کر دیا۔ جب قوم گیس پر منتقل ہوئی تو اب آپ اسے عام افراد کی قوت خرید سے باہر کر کے قوم کو دوبارہ لکڑی پر لے جا رہے ہیں۔

بوتل گھمن: اجی لکڑی اب کہاں رہ گئی ہے پاکستان میں۔ آپ غور و فکر نہیں کرتے ہیں اور کافی غبی ہیں۔ یہ قوم کی خاطر ہی کیا جا رہا ہے۔

ہم: وہ کیسے؟

بوتل گھمن: دیکھیں ساری دنیا کے ڈاکٹر کہہ کہہ کر ہلکان ہوئے جا رہے ہیں کہ کچے پھل اور سبزیاں صحت کے لیے سب سے بہترین خوراک ہے۔ یہاں کوئی کان ہی نہیں دھرتا تھا اور سارے ہسپتالوں میں پوری قوم بیمار ہو کر لیٹتی جا رہی تھی۔ جسے دیکھو وہ شوگر، بلڈ پریشر اور گیس کا مریض نکلتا تھا۔ اب لوگوں کے پاس نہ ایندھن خریدنے کے پیسے ہوں گے، اور نہ ہی وہ صحت بخش پھلوں اور سبزیوں کو پکا جلا کر ان کی غذائیت ختم کر پائیں گے۔ ایک ہی حکیمانہ فیصلے سے ہمارا امپورٹ کا بل بھی بچے گا، اور صحت کے سیکٹر پر سے بے پناہ دباؤ بھی ختم ہو جائے گا۔

ہم: بھٹو صاحب نے جب کہا تھا کہ قوم گھاس کھا لے گی، تو قوم اسے تمثیل سمجھی تھی۔ لیکن لگتا ہے کہ بھٹو واقعی زندہ ہے اور موجودہ حکومت اس کا مشن پورا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ قوم کو گھاس کھلا کر چریا کر دے گی۔

 


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar