دو مختصر کہانیاں: دل اور جنت


دل

میں نے اسے بتایا۔
مشال خان کا خون دیکھ کر میں دہل گیا ہوں۔
دل بہت دکھی ہے۔
ساری ساری رات نیند نہیں آتی۔
شام کے معصوم شہریوں کی لاشیں دیکھ کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔

کشمیر کے نہتے لوگوں پر جب چھرے چلتے ہیں اور وہ بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں تو دل میں ٹیس سی اٹھتی ہے۔
۔ طبیعت بیچین رہتی۔ ایک مایوسی سی طاری رہتی ہے۔ دل ہر وقت بجھا بجھا سا رہتا ہے۔
تم ایک کام کرو ایک آپریشن کروا لو۔ وہ بولا
کیسا آپریشن؟ میں نے پوچھا۔
سینے میں دل کی جگہ پتھر رکھوا لو۔

جنت

میں تمہیں بتاؤں یہ دنیا
ہو بہو جنت تھی،
یہاں پھولو ں کے رنگ تھے،
پھولوں پہ اڑتی اترتی تتلیاں تھیں،
ہوائیں پھولوں کی خوشبو چرا لیتی تھیں چپکے سے،
ہواؤں سےخوشبو سانسوں میں اتر جاتی تھی، خوشیاں تھی، گیت تھے،
جگنواڑتے پھرتے تھے فضاؤں میں، آنگن میں پیار، محبت، خلوص، رواداری کےشگوفے پھوٹتےتھے
اور ان خوشبوؤں سے
اس دنیا کا دامن مہکتا تھا،
پھر یہ اچانک جہنم میں بدل گئی،
کسی کمبخت نے
بارود کی بو ایجاد کر لی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں