مشال خان سانحہ کےعینی شاہد ضیااللہ ہمدرد (لیکچرار) کا بیان


مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے لیکچرار ضیااللہ ہمدرد کا مشال خان کے قتل کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں چار دن سے سو نہیں پایا، مشال کے دوست عبداللہ نے جو بیان دیا ہے، وہ درست ہے۔

’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگوکرتے ہوئے ضیااللہ ہمدرد کا کہنا ہے کہ بتایا گیا کہ مشال اورعبداللہ کے خلاف لڑکے شکایت کر رہے ہیں، میرے ہاسٹل کی فیکلٹی کے سامنے 15 سے 20 طالب علم کھڑے تھے، جو کسی اور ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، مشال کے خلاف افواہ پوری یونیورسٹی میں پھیل چکی تھی، یونیورسٹی میں دو ہفتوں سے احتجاج چل رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مشتعل ہجوم کو کہا کہ آئیں بات کریں، طلبا کسی کو سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ڈی ایس پی اورمجھے دھکے دیے گئے۔ 7 سے 8 طالب علم بات کرنے آئے۔ طالب علموں نے کہا کہ عبداللہ اور مشال مذہب کے خلاف سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں۔ میں نے طلبا سے کہا کہ کیا ثبوت ہے؟ جس پر طلبا نے جواب دیا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ مشال کے دو میسج آئے، اس نے کہا کہ یہ سیاسی طور پر سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

ضیاء اللہ ہمدرد نے کہا کہ مشال کوفون کرکے کہا کہ وہ ہاسٹل سےنکل جائے،اس نےکہا کہ وہ نکل چکا ہے، طلبا نے میرا موبائل چھین لیا، میری الماریاں توڑیں، ڈاکٹر سعید اسلام نے بتایا کہ مشال کوشہید کیا گیا، مجھے کہا گیا کہ آپ بھی کلمہ پڑھ لیں، ڈی ایس پی صاحب کے ڈرائیور کے ساتھ میں نکل گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشال میرا طالب علم تھا، وہ چراغ تھا اس کو بجھادیا گیا، مشال کوکوئی موقع نہیں دیا گیا اوراس کوسزا دی گئی، یونیورسٹی کے پروفیسرز پر بھی افسوس ہوتا ہے، وہ بے حس ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔