صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے


13اپریل کو مردان یونیورسٹی کا حادثہ ہوا۔ 12 اپریل کو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں شریک تھا۔ یہ شرکت ایک خوش گوار تجربہ تھا۔خوشی سے سرشار میںیہ سوچ رہا تھاکہ جامعات کی فضا بدل رہی ہے۔ افسوس کہ یہ خوش گمانی پوری طرح سانس بھی لینے نہ پائی تھی کہ دم توڑ گئی۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے فساد اورمایوسی کے اس سمندر میں امن اورامید کا جزیرہ آباد کرنے کی کوشش کی ہے۔میں سوچ رہا ہوں کہ کیا معاشرے میں جزیرے بنائے جا سکتے ہیں؟
اوپن یونیورسٹی کا تشخص عام جامعات اور تعلیمی اداروں سے مختلف ہے۔ یہ اصلاً فاصلاتی تعلیم کا نظام ہے۔ رواج کے مطابق یہاں طالب علم کمرہ جماعت میں نہیں بیٹھتا ۔یہ ان طالب علموں کے لیے ہے جووقت اور وسائل کی کمی کے باعث تعلیمی اداروں میں دن نہیں گزار سکتے۔یہاں طالب علم فاصلے سے ادارے کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔ اپنے اپنے شہر میں استاد سے گاہے گاہے مل لیتا ہے۔چند روزہ ورکشاپس بھی ہوتی ہیں۔ 12 اپریل کو جب میں اوپن یونیورسٹی پہنچا تو ایک بدلا ہوا منظر سامنے تھا۔ رنگ برنگے سٹال آباد تھے۔ کتابوں سے ملتانی کشیدہ کاری تک، علم و فن کے نمونے رکھے تھے۔ طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد جمع تھی، جیسے ایک عام یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ نوجوان خوش گپیوں میں مصروف تھے اور زندگی اپنے رنگ بکھیر رہی تھی۔بہار کو میں نے مہکتا محسوس کیا۔
اوپن یونیورسٹی میںدو دن کے لیے علم و فن کا ایک میلہ آباد کیا گیا۔ مذاکرے تھے۔ مشاعرہ تھا۔ اہل علم کے ساتھ بزم آرائی تھی۔صوفیانہ کلام کے لیے بھی مجلس برپا ہوئی۔ ‘ ادب اور معاشرہ‘،’اردو کی نئی شاعری‘ ،جدید ادب کا نو آبادیاتی تناظر‘ ‘معاصر ادب میں تانیثی رحجانات‘ اور’ ادب و صحافت ‘ جیسے موضوعات زیر بحث تھے۔کتابوں کی رونمائی تھی۔ مختلف علوم و فنون کی ممتاز شخصیات مدعو تھیں۔ نوجوان چہروں پر زندگی کے رنگوں کواس طرح بکھرتے دیکھ کر آدمی بے ساختہ مسکرا اٹھتا ہے، الا یہ کہ قدرت کسی سے یہ صلاحت ہی چھین لے۔
جامعات کے اصل کام دو ہی ہیں: آزادانہ غور و فکر اور تحقیق کی روایت کا ارتقا اور اس کے ساتھ سماجی ترقی کے لیے رجالِ کار کی تیاری۔ پہلا کام کسی بند ماحول میں نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں جامعات اس دن برباد ہو گئیں جب مذہبی و سیاسی جماعتوں نے طالب علموںکو اپنے اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے منصوبہ بنایا کہ یہاں سے انہیں اپنے اپنے انقلاب کے لیے ہراول دستے تیار کرنے ہیں۔اس طرح یونیورسٹی کو مخصوص نظریات کی ترویج کے ادارے بنانے کی کوشش کی گئی۔ جب غور و فکر کو قدغن لگ جاتی ہے تو اس کے بعد انسانی ذہن کا ارتقاء رک جاتا ہے۔ اس کے بعد تحقیق کی روایت دم توڑ دیتی ہے، پھر تحقیق کے نام پرصرف موجود افکار کی جگالی ہوتی ہے۔جامعات سے فکرِِ تازہ کی کوئی لہر نہیں اٹھتی۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اوپن یونیورسٹی میں تحقیق کی روایت کو زندہ کیا۔ آٹھ تحقیقی مجلات کا احیا کیا یا آغاز۔ میں نے اپنی دلچسپی کے بعض جرائد دیکھے، جیسے اردو زبان و ادب کا مجلہ ” تعبیر‘‘ ۔ برادرم عبدالعزیز ساحر نے خوش ذوقی کے ساتھ اس کے مختلف شماروں کو ترتیب دیا ہے۔ حال ہی میں اس کا ‘خطوط نمبر‘ سامنے آیا ہے۔ اس میں مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کے کئی غیر مطبوعہ خطوط میں شامل ہیں جو انہوں نے پروفیسر خورشید احمدصاحب کے نام لکھے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے مفید حواشی کے ساتھ انہیں مرتب کیا ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال کے بارے میں ایک نو دریافت خط کی کہانی بھی خاصے کی چیز ہے۔ مجلات کے ساتھ علمی مجالس بھی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے حساس اور اہم موضوعات پر غور و فکر کی روایت کا آغاز کیا ہے۔اس میں ہر مکتبۂ فکر کے اہل علم کو جمع کیا جاتا ہے اور یوں طلباو طالبات کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے طور پر آراء قائم کریں اور نقطۂ ہائے نظر کی صحت اور سقم کافیصلہ کریں۔
جامعات سے فارغ التحصیل ہی اکثر ریاستی اور سماجی اداروں کی باگ ڑور سنبھالتے ہیں۔ اگر ان شخصیات کی درست سمت میںنشو و نما نہ ہو تو ریاست اور معاشرے کو اس کی قیمت دینا پڑتی ہے۔جامعات افراد کی تہذیب کرتی ہیں جیسے مالی پودوں کی۔شخصیت سازی فنون لطیفہ اورادب سے تعلق قائم کیے بغیر نہیں ہو سکتی۔موسیقی، مصوری، شاعری،انہی سے لطیف جذبات کو جلا ملتی ہے۔جب طالب علموں پر ان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو ان کی جذباتی توانائی کسی دوسری طرف کا رخ کرتی ہے۔پھر مذہب اور سیاست کے نام پرانسانی جان لینا اور دینا کھیل بن جاتا ہے۔لوگ ایسی اموات کو شہادت کا خوش نما لباس پہناتے اوراس ظلم کو لفظوں کے پردے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک معرکے میں کام آنے والوں کو فریقین اپنی اپنی شہادتوں کا اشتہار بناتے اور اس آگ کے لیے مزید جانوں کا ایندھن تلاش کرتے ہیں۔شاید انہی ‘شہدا‘ کی تیاری کے لیے جامعات میں فنون ِلطیفہ کا گلا گھونٹ دیا جاتااور لطیف جذبات کو مار دیا جاتا ہے۔یہ جذبات جب مر جاتے ہیں تو انسانی جان اور آبرو کی حرمت دلوں سے اٹھ جاتی ہے۔
آج انتہا پسند تنظیموں کو سب سے زیادہ افرادِ کار جدید تعلیم کے اداروں سے مل رہے ہیں۔مردان یونیورسٹی سے پہلے، سبین خان کے قاتل کہاں سے آئے تھے؟حیدر آباد کی نورین لغاری کہاں پڑھتی تھی؟ایک نہیں،ان گنت واقعات ہیں جو یہ بتا رہے ہیں کہ جدید تعلیم کا نظام دینی تعلیم کی طرح پامال ہو چکا ہے۔شخصیت سازی دونوں طرح کے اداروں کا موضوع نہیں۔یہ اس تعلیمی نظریے کا حاصل ہے جو مادی ترقی کوہدف قرار دیتا ہے اور یوں سماجی علوم کو غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کرتا ہے۔اب ہمیںتعلیم کو بحیثیت مجموعی مو ضوع بنا نا ہوگا۔مدرسہ اور یونیورسٹی یکساں سطح پرریاست اور سماج کی تو جہ چاہتے ہیں۔سب سے پہلے ہمیں تعلیمی نظام کی دوئی ختم کرتے ہوئے،تمام بچوں کویکساں ابتدائی تعلیم دینا ہو گی۔یہ تعلیم لازم ہے کہ ریاستی نظام کے تابع ہو۔یہ نظام عوام کے منتخب نمائندوں کی نگرانی میں تیار ہو۔اس تعلیم کے بعد لوگ اپنی افتادِ طبع اوردلچسپی کی بنیاد پر اختصاصی تعلیم حاصل کریں جن میں دینی تعلیم بھی شامل ہو۔اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ تربیت کو تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جا ئے۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک جامعہ کے حقیقی کردار کا احیا ہو۔تحقیق، جستجواورشخصیت سازی تعلیم کا ہدف بنیں۔جامعہ پنجاب سے لے کر مردان یونیورسٹی تک، اس وقت جو کچھ سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے،اس سے مایوسی اور تشویش پیدا ہوتی ہے۔ڈاکٹر صدیقی تیز مخالفانہ ہوا میں امید کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔میں سوچ رہا ہوں کہ کیا سماج میں جزیرے آباد کیے جا سکتے ہیں؟کیا چراغ سے چراغ جلایا جا سکتا ہے؟کہیںدور سے منیر نیازی کی آواز آرہی ہے: ؎
یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں
صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔