بوجھو تو جانیں


اگر کسی محفل میں کوئی بحث چھڑ جائے، اپنے سے زیادہ کسی پڑھے لکھے آدمی سے واسطہ پڑ جائے یا کہیں دلائل سے گفتگو ہو رہی ہو جس میں آپ کے موقف کی شکست کا خطرہ ہو تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں، ایسے موقعوں کے لئے اساتذہ نے ایک مجرب نسخہ بتا رکھا ہے، کرنا آپ کو یہ ہوگا کہ مد مقابل کے دلائل کا جواب دینے کی بجائے اس پر پھبتیاں کسنی شروع کردیں، جملے بازی کا سہارہ لیں، مخالف پر ذاتی حملے کریں، مقبول عام نعرے بلند کرکے لوگوں کی حمایت حاصل کریں اور کچھ بھی نہ بن پڑے تو بحث کی آواز بتدریج اس قدر اونچی کر لیں کہ مخالف (اگر اسے اپنی عزت کا پاس ہے )خود کو نیچا جھکانے پر مجبور ہو جائے۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی بشرطیکہ کہ آپ نے صاف ستھری جرابیں پہن رکھی ہوں۔ یہ نسخہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ قریباً ہر فورم پر رزلٹ دیتا ہے، حتیٰ کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلس میں بھی اس کا نتیجہ خاصا اطمینان بخش پایا گیا ہے۔ اس نسخے کا مزید فائدہ یہ ہے کہ اگر کہیں بحث نہ ہو رہی تو بھی اسے استعمال کرکے آپ اچھے خاصے دانشور بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں نسخے میں تھوڑی سی ترمیم یوں کرنا ہوگی کہ اپنی پٹاری سے ملک کے ہر مسئلے کا حل نکال کر جھٹ سے پیش کرنا ہو گا بشرطیکہ وہ حل فوری اور احمقانہ ہو۔ اسی طرح اشرافیہ سے نفرت کا اظہار کرنا ہو گا چاہے آپ کا اپنا تعلق اسی کلاس سے کیوں نہ ہو اور معاشرے کے جمہوری نظام، قانون، ضابطوں اور اداروں کے خلاف علم بغاوت یوں بلند کیے رکھنا ہوگا گویا آپ William Wallaceکے شجرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد عوام آپ کو کندھوں پر اٹھا کر جھومیں گے اور اُس وقت تک جھومتے رہیں گے جب تک آپ دانشور سے لیڈر نہیں بن جاتے۔ ایسے لیڈر کو جمہوریت میں Demagogueکہتے ہیں۔
اردو، عربی یا فارسی میں اس لفظ demagogueکا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا، قریب ترین لفظ جو میں ایجاد کر سکا اگر استعمال کروں تو اس کا اردو متبادل ’’ڈھنڈوریت پسند‘‘ بنے گا (شکیل عادل زادہ سے معذرت کے ساتھ)۔ فی الحال ہم ترجمے کی کھکھیڑ میں نہیں پڑتے اور اپنے ارد گرد ایک demagogueتلاش کرکے اُس کا طریقہ واردات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (ایسا لکھتے ہوئے میں خود کو تعلیم بالغاں کی جماعت کا استاد تصور کر رہا ہوں)۔ پہلی نشانی ایسے لیڈر کی یہ ہوتی ہے کہ وہ عام آدمی کی کم فہمی اور بنیادی مسائل اور اُن کے حل سے اُس کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر عوام کو گمراہ کرتا ہے اور مقبول نعرے لگا کر انہیں سبز باغ دکھاتا ہے، وہ لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ اُن کے مسائل کا حل ’’فوری اور براہ راست ایکشن‘‘ میں ہے اور بسا اوقات وہ اس حل کے لیے پُرتشدد راستہ اپنانے کی بلاواسطہ دعوت بھی دیتا ہے۔ ہر معاشرے میں کچھ تعصبات ہوتے ہیں، ایسا لیڈر اپنے مقصد کے حصول کے لئے اِن تعصبات کو ہوا دیتا ہے، وہ لوگوں کو نظام الٹانے کی ترغیب دیتا ہے اور قانون، قاعدے اور ضابطے کو طاقتور کی ڈھال قرار دیتا ہے تاکہ عام آدمی کے دماغ میں نظام کے خلاف نفرت ابھار کر اپنی مقبولیت کی راہ ہموار کر سکے کیونکہ عام آدمی کو اُس میں اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے جو اُس ’’فرسودہ نظام‘‘ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بڑھک لگاتا ہے۔ ایسا لیڈر عقل اور دلیل سے ماورا ہو کر محض جذباتی نعرے بازی سے معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں اکثر وہ اپنے مخالفین کی رائے دبانے کے لئے اُن پر ذاتی حملے کرنے، گھٹیا الزام لگانے اور جھوٹ بولنے سے بھی نہیں چوکتا اور یہی وطیرہ بعد میں اُس کے پیروکار بھی اپنا لیتے ہیں۔ کسی قومی سانحے کے موقع پر ایسا لیڈر بحران کا فلمی قسم کا حل یوں پیش کرتا ہے گویا وہ اقبال کا فوق البشر ہو اور پھر شعلہ بیانی کے بل بوتے پر معاشرے کی اعتدال پسند آوازوں اور پر مغز دانشوروں کو بزدلی کا طعنہ دے کر دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص اُس کے موقف کی حمایت نہیں کرتا، ملک کے مسائل کے لئے اس کے پیش کردہ حل کو نہیں سراہتا اور اسے نجات دہندہ نہیں مانتا، ایسا شخص demagogue کے نزدیک بکاؤ اور ضمیر فروش ہوتا ہے جس کا مفاد اِس نام نہاد جمہوری نظام سے جڑے رہنے میں ہے۔ ایسا لیڈر اپنے پیروکاروں سے مکمل وفاداری کی امید رکھتا ہے، اس کے چاہنے والے بھی لیڈر ہی کی خصوصیات اپنا لیتے ہیں، مخالف نقطہ نظر برداشت نہیں کرتے اور اپنے مخالفین کے لیے وہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جو لیڈر نے اپنائے ہوتے ہیں، اپنے مقصد کے حصول کے لئے ایسا لیڈر معاشرے کی اقدار، روایت اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
Demagogue کا طریقہ واردات نظام کی خرابیوں کو ایکسپلائٹ کرکے عام آدمی کو بنیادی مسائل کے حل کا خواب کسی ایسے نظام میں دکھانا ہوتا ہے جس میں حکمرانی بس اسی لیڈر کی ہو…. گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔ ایک سادہ سا ہتھکنڈہ وہ یہ اپناتا ہے کہ عوام کے اُس طبقے کو جو نظام سے بیزار ہوتا ہے یہ یقین دلا دیتا ہے کہ ایک خاص گروہ، جماعت یا اشرافیہ کا مخصوص طبقہ اُن کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار ہے اور یوں وہ اپنی تمام توپوں کا رخ اس ایک طبقے کی طرف موڑ کر عوام کو اس سے متنفر کردیتا ہے جیسے جرمنی میں ہٹلر نے لوگوں کو یقین دلا دیا تھا کہ ان کے تمام مسائل کے ذمہ دار دراصل یہودی ہیں۔ باقی تاریخ ہے۔ Demagogueکا ایک بڑا ہتھیار جھوٹ ہے، عوام کو رجھانے کی خاطر ایسا لیڈر بے تکان جھوٹ بولتا ہے اور اس قدر بولتا ہے کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں، اسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرتا ہے اور الزام تراشی کے بعد خود کوکسی قسم کا ثبوت دینے کا پابند نہیں سمجھتا۔ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تمام ہتھکنڈے یوں تو کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ کامیاب بھی ہو جائے کیونکہ اس قسم کی لیڈری چمکانے کے لئے بہرحال کرشماتی شخصیت درکار ہوتی ہے جو لوگوں کو متاثر کر سکے اور اگر ساتھ میں جذباتی اور جھوٹی تقریر کرنے کا فن بھی آتا ہو تو سونے پہ سہاگا۔ اس قسم کا لیڈر اپنے تقریروں میں عموماً دو قسم کی باتیں کرتا ہے، ایک، وہ ایسے کام کرنے کا وعدہ کرتا ہے جو ناممکن ہو، دوسرے، وہ گھمبیر مسائل کا حل نہایت سادہ انداز میں یوں پیش کرتا ہے کہ لوگ اُس کی ذہانت سے متاثر ہو جاتے ہیں…. یہ حل البتہ حماقت پر مبنی ہوتا ہے۔
کالم کی دُم:ناگہانی انداز میں کالم ختم کرنے پر معذرت۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کہ اس کالم کے مندرجات، بیان کی گئی تمثیلیں اور کردار فرضی ہیں، کسی بھی قسم کی مطابقت یا مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔ اس کے باوجود اگر کسی شخصیت کا خیال ذہن میں آئے تو کالم نگار کے حق میں دعائے خیر کردیں۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 123 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada