مشال خان کو اس کی خوش فہمی نے مار دیا


ترقی پسند شاعر اقبال کے گھر میں جنم لینے والامشال خان جو اپنے گھر میں کھلے عام معاشرے کی ناانصافیوں اور مذہب پر مکالمہ کرتا تھا ، اس امر سے بے خبر تھاکہ ہر باپ اقبال کی طرح ترقی پسند نہیں ہوتا اور نہ معاشرے میں چلتے پھرتے گوشت پوست مشال ہوتے ہیں جو سوالات اُٹھاتا ہو ،جو سچ بولتا ہو جو روشنی دیتا ہو ۔ ترقی پسند اور روشن خیال اقبال کا بیٹا روس گیا اور وہاں سے اپنی سوچوں میں روشنی اور وجود میں نئی جدوجہد پیدا کی۔ مشال خان اس بات سے بے خبر تھا کہ ہر دھرتی روس نہیں اور نہ ہر باپ اقبال اور نہ ہر بیٹا مشال خان ہوتا ہے۔مشال خان کی شخصیت بابا بلھے شاہ کے اس شعر کی عکاسی تھی۔

بلھے شاہ اسیں مردے ویکھے
چلدے پھردے کھاندے پیندے

مشال خان کی سوچوں میں شاید یہی بات سرائیت کر چکی تھی کہ عدم تشدد کے عظیم بانی باچا خان کے بیٹے خان عبدالولی خان کے نام سے منسوب یونیورسٹی میں چلتے پھرتے انسان بھی عدم تشدد کے پیروکار ہوں گے مگروقت نے اُن پر عیاں کیا کہ انسان نما درندوں میں رہتے ہوئے وہ واحد مشال ہے اس لئے اُس نے اپنے فیس بُک اکاونٹ پر یہ تاریخی جملہ لکھا ۔

’جتنا میں انسانوں سے گھل ملتا ہوں اُتنا مجھے اپنے کتے سے پیار ہو جاتا ہے‘۔

مشال خان اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے یونیورسٹی میں دھرنا دیتا تھا۔ اُن کے مستقبل کے لئے پریشان رہتا تھا، وہ شاید سمجھ رہا تھا کہ یونیورسٹی کے یہ دوست آگے جاکر ایک روشن خیال اور پر امن پاکستان کی بنیاد رکھ لیں گے مگر شاید اس خطرے سے بے خبر تھا کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے چہرے ہلاکوخان، چنگیز خان اور ممتاز قادری کی زندہ تصویریں ہے جو ایک جھوٹے الزام پر نہ صرف اُن پر تشدد کرکے قتل کر دیں گے بلکہ اُن کو برہنہ کر کے اُن کی لاش جلانے کی حد تک بھی جائیں گے ، اگر مشال خان کو اس خطرے کا ادراک ہوتا تو شاید وہ انسانی بموں کے درمیان کبھی رہنے کو ترجیح نہ دیتا۔ مشال خان یونیورسٹی میں پروفیسروں سے سوالات اس لئے پوچھتا تھا تا کہ ذہن کے دریچے کھل سکیں مگر مشال خان ادراک نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ درندہ نما اساتذہ بھی نوٹیفیکیشن کی شکل میں اُن پر گستاخ کا فتویٰ صادر کرینگے۔

اسی بارے میں: ۔  مشال خان کی نہیں یہ رواداری کی موت ہے

مشال خان یہ تمہاری خوش فہمی تھی کہ تم انسانی بموں کے درمیان امن اور روشن خیالی کا بھاشن دیا کرتے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔