شیخ حرم نے دکان کھولی …. ’مذہب برائے فروخت‘


farnoodخداوندانِ مذہب کا کرم ہی کہئے کہ ہوشربا مہنگائی کے دور میں بھی مذہب کے نرخ انہوں نے ارزاں کر رکھے ہیں۔ تجارتی منڈیوں کا ایک نظر جائزہ لے لیجئے، پھر ماہرین معاشیات سے ایک تجزیہ کروالیجئے، آخری تجزیئے میں یہی حقیقت سامنے آئے گی کہ کم ترین سرمائے پہ سوفیصد منافع کا کاروبار مذہب کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس دھندے میں صنم آپ کی بانہوں میں اور خدا پہلو میں رہتا ہے۔ حالات جو بھی ہوں خانقاہوں کے دروبام پہ جلتے چراغوں پہ کبھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گئے وقتوں کی بات ہے پاسبانِ حرم پہ کبھی آزمائشیں بھی آیا کرتی تھیں، اب تو آزمائش بھی حضرات کا پروٹوکول اور تام جھام دیکھ کر دیوار کو منہ کرکے کھڑی ہوجاتی ہے۔ کراچی گلشن اقبال میں ایک صاحب کشف وکرامات نے تسبیح کے دانوں سے سر اٹھا کر کہا ”میاں ہمیں تو آٹے دال کا بھاو¿ بھی نہیں معلوم، بس غیب سے بندوبست ہوجاتا ہے“۔ حضرت کے پہلو میں بیٹھے مریدانِ مشک وعنبر پہ ایک نگاہ کرتے ہوئے ہم اتنا ہی عرض کر سکے ”جی جی بالکل، آپ کو پتہ ہوگا بھی کیوں“۔

ایک بھلے مانس نے کراچی میں پرفیوم کی ایک دکان ڈالی۔ اصرار کیا کہ کبھی آئیں نا (خوشبو لگاکر) آپ کو اپنا کاروبار دکھاو¿ں۔ اس شوق میں کہ وہ خوشبو کی طرح ہماری پذیرائی کریں گے، ہم چل دیئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ عالی شان دکان پر آویزاں پینافلیکس پہ ایک رعایتی پیکج درج ہے۔ جملہ ہے “دین دار لوگوں کے لیئے خصوصی رعایت ہے“۔ لمحہ بھر کو چکراساگیا کہ ہنسا جائے کہ رویا جائے۔ پل بھر میں فیصلہ کرلیا کہ نہ رونا ہے نہ ہنسنا ہے۔ یہ کوئی ایسا جملہ بھی نہیں جو آپ نے کبھی کہیں پڑھا نہ ہو۔ یہ نہ پڑھا ہو تو پھر یہ اعلان تو آپ نے دکانوں پہ پڑھا ہی ہوگا کہ ”قادیانی بے غیرتوں کا داخلہ ممنوع ہے“۔ خوشبووں کے اس نگر میں بیٹھے تو عطار کے لونڈے نے پرفیومز کا ماضی حال مستقبل سنانا شروع کردیا، اور دماغ کی سوئی تھی کہ اسی الہامی پیکج میں اٹک کر رہ گئی۔ مسلسل ایک بات سوچتا رہا کہ عطار کے پاس کسی کی دین داری ماپنے کا پیمانہ کیا ہے۔ اول تو سامنے لگے آئینے میں اپنے وجود کا ہرزاویئے سے جائزہ لیا کہ میں خود کون سی کیٹیگری میں آتا ہوں۔ چونکہ یہ جائزہ میں نے بر صغیر میں تشکیل پانے والے شرعی پیمانوں کو سامنے رکھ کر لیا تھا، اس لیئے مجھے تواپنا سراپا کلی طور پہ شریعت سے متصادم و مزاحم نظر آیا۔ ان صاحب سے پہلی ملاقات تھی، تو شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ میرے جانے کے بعد خوشبو کے اس نگر کو کھلے تیزاب سے دھوکر لوبان کی دھونی ضرور دی جائے گی۔

اس دوران خریداروں کو بغور آتے جاتے دیکھا۔ دیکھوں کہ کوئی اسکیننگ مشین ہر گزرتے خریدار کی کوئی تقوی رپورٹ تو نہیں دے رہی۔ کوئی الہامی ڈیڈیکٹر بدن کو سونگھ کر ایمان کا درجہ حرارت تو نہیں بتا رہا؟ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بجا طور پہ یہ اندازہ ہوا کہ خوشبووں کے یہ بیوپار اپنی مومنانہ فراست سے جان لیتے ہوں گے کہ آنے والے کسٹمر کا ایمان ابھی کتنی ڈگری پہ کھڑا ہے۔ جمع تفریق کر کے خود سے ڈسکاو¿نٹ دے دیتے ہوں گے۔ گناہوں کا اوسط زیادہ نکلا تو دو چار روپے کا چالان بھی ازخود کاٹ لیتے ہوں گے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہی امکان رہ جاتا ہے کہ کسٹمر کے حلئیے ہی سے دین داری کی سطح پرکھ لی جاتی ہوگی۔ اب اگر ایمان ناپنے کے لئے انسان کے ظاہر سے فیصلہ کرنا ہے تو پھر بود وباش، وضع قطع، رکھ رکھاو¿ اور چال ڈھال ہی معیار بن سکتا ہے۔ زیادہ امکان بھی اسی کا ہے۔ اگر ایسا ہے، اور ظاہر ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو پھر کچھ سوالات ہیں جنہوں نے طبعیت ضیق کررکھی ہے۔ مثلا دکان پہ آنے والا کسٹمر کلمہ گو ہو اور خوف خدا بھی رکھتاہو، مگر اس کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے ہوئے تو کیا وہ رعایتی پیکج کا حقدار ہوگا؟ اسی طرح پائنچے تو ٹخنے سے اوپر ہیں، مگر جینز پہنی ہوئی ہے، تو معاملہ کیا ہوگا؟ قمیص شلوار میں ہو، پائنچے بھی ٹخنے سے اوپر ہوں، مگر کلین شیو ہو، اب کیا ہوگا؟ قمیص شلوار میں ہو، مگر داڑھی منی سائز ہو، تب کیا بنے گا؟ داڑھی لارج سائز ہو، مگر کف آستین ہوں شرٹ کالر ہو، ساتھ میں ائیر فون لگا کر شیلاکی جوانی یا منی کی بدنامی سن رہا ہو، ایسے میں کیا برتاو¿ ہوگا؟ ظاہر سی بات ہے کہ رعایتی پیکج سے صحیح معنوں میں تو فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو کرتے، عمامے اور داڑھی کے حامل ہوں گے۔ ایسے میں سوالات کی نوعیت مزید سنجیدہ ہوجاتی ہے۔

ایک کسٹمر سفید کرتے میں ملبوس ہے، داڑھی کا حدود اربعہ مناسب ہے، مونچھیں سلیقے سے کتری ہوئی ہیں، زلفیں قرینے سے بل کھائی ہوئی ہیں، پانچے ٹخنے سے اٹھے ہوئے ہیں، دامن چکور اور کالر شیروانی ہے، سامنے والی جیب میں مسواک کے لئے الگ سے اہتمام ہے، جیب میں پاکٹ سائز قرآن ہے، ہاتھوں میں تسبیح ہے، بالوں میں زیتون کا تیل ہے، آنکھوں میں ہاشمی کا سرمہ ہے، ماتھے پہ شامی کباب جتنا سجدے کا نشان ہے، غرضیکہ تمام مومنانہ کوائف پورے ہیں لیکن بس دستار دکاندار کے مسلکی ذوق کے بالکل برعکس ہے، تو پھر کیا فرمائیں گے حضرات مالکان بیچ اس گمھبیرتا کے کہ یہ شخص دین دار ہے یا پھر دین کی باونڈری لائن سے باہریونہی ایک کروڑ کے کیچ کے آسرے میں کھڑا ہے۔ ایک سوال مزید کرسکتا ہوں؟ دکان کا مالک دیوبندی ہے، کسٹمر بریلوی ہے، مگر اس بریلوی نے عمامہ سفید پہنا ہوا ہے، اب کیسے پتہ چلے گا کہ کسٹمر کا کوئی دین ایمان بھی ہے کہ نہیں۔ اسی سوال کو برعکس کرکے دیکھ لیجئے۔ یا سوال یوں کر لیجیئے کہ کسٹمر کی داڑھی پوری ہے، کرتے میں ملبوس ہے، قرا قلی سر پہ ہے، ڈسکاو¿نٹ کا حقدار ہوگا؟ ظاہر ہے ہوگا۔ لیکن اگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ احمدی تھا، تو پھر؟ اچھا چلیں چھوڑیں، یہ بتائیں کہ کسٹمر خاتون ہے، مشرقی پہناوے میں ہے، بال ڈھکے ہوئے ہیں، بس معاملہ یہ ہے کہ چہرہ دکھائی دے رہا ہے، آئی برو بنی ہوئی ہے، ہئیر کٹ کروائی ہوئی ہے، پھر غضب یہ کہ خوشبو لینے آئی ہوئی ہے، کیا اس خاتون کو رعایت ملے گی؟ احالانکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیا خاتون کو خوشبو بیچنا جائز بھی ہے کہ نہیں، مگر چلو خیر۔ ایک آخری سوال کی اجازت درکار ہے۔ ایک خاتون جو نیم برہنہ ہو یا پون برہنہ ہو (وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے )وہ تو ظاہر ہے رعایت کی حقدار کیا ٹھہرے گی بلکہ اس پہ تو جزیہ لاگو ہوگا۔ ایسا ہی ہے نا؟ لیکن کبھی اس خاتون سے متعلق پتہ چلے کہ پنج وقتہ نمازی ہے، ہفتہ وار لنگر دیتی ہیں، ماہانہ صدقے دیتی ہیں، سالانہ حج کرتی ہیں، یتیموں کی کفالت کرتی ہیں، اب رعایت کا حقدار سمجھا جائے گا؟ اگر ہاں، تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ رعایتی پیکج سے فائدہ اٹھانے کیلئے کسٹمرز کو مقامی مسجد کے امام وخطیب یا وفاق المدارس اور تنظیم المدارس کے تصدیق نامے لانے پڑیں گے؟

یہ افسوسناک صورت حال ہے۔ آپ میری بات کو مسترد کر سکتے ہیں، مگر بات یہ ہے کہ ہم دراصل کو خدا کو یرغمال بنانے کی اپنی سی کوشش میں مبتلا ہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیئے ہم ملاوٹ زدہ اشیا کو مذہب میں ملا کر بیچ رہے ہیں۔ گھی میں بھی صوفی اور مولوی کا تڑکا لگا کر بیچتے ہیں۔ مضاربت تو آج تک مضاربت ہی تھی مگر اب اسلامی مضاربت کے اشتہار بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ یہی اسلامی مضاربت تھی جو سود کو حیران کر گئی۔ اندازہ کیجئے آپ کے اس ملک میں ’اسلامی شہد‘ کے نام سے شہد کا ایک برانڈ موجود ہے۔ کیا دنیا کے کسی جنگل میں غیر اسلامی شہد بھی کہیں موجود تھا جو پاکستان کے کسی شہد کو کلمہ پڑھوانا پڑا؟ کیا یہ مکھیاں صوم و صلوة کی پابند ہیں؟ کسی خانقاہ سے وابستہ ہیں؟ ہر دم باوضو رہتی ہیں؟ طالبان کے شانہ بشانہ نیٹو افواج کے خلاف برسرپیکار رہتی ہیں؟ عشروں، چلوں اور سہ روزوں میں جاتی ہیں؟ تہجد کے بعد کوئی خاص وظیفہ پڑھتی ہوئی حرمِ پاک کی طرف نکلتی ہیں؟ نذر ونیاز کا اہتمام کرتی ہیں؟ فیصل مسجد کی کیاریوں سے رس کشید لاتی ہیں؟ کیا کرتی ہیں آخر؟ یہ باقی کی مکھیوں تک کیا محمد بن قاسم کا لشکر نہیں پہنچ پایا تھا جو وہ اسلام سے محروم رہ گئیں؟ کیا وہ مکھیاں فاسق و فاجر ہیں؟ ملک میں یہود ونصاری کیلئے کوئی جاسوسی نیٹ ورک چلا رہی ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے ہی ایک معقول جاننے والے نے کپڑے کا کاروبار شروع کیا، تو اعلان لگادیا کہ ”اسلامی کپڑے دستیاب ہیں“۔ سبحان تیری قدرت۔ عرض کیا کہ صاحب یہ غیر اسلامی کپڑے دنیا کے کس خطے میں بک رہے ہیں؟ یہ آپ کے کپڑوں کے تانے بانے غلاف کعبہ کے دھاگوں سے ترتیب دیئے گئے تھے یا پھر زم زم کے کنویں میں انہیں تر کیا گیا تھا؟ خود اسلام کو کپڑے میں لپیٹ کر بیچ ڈالیں گے پھر کہیں گے دنیا ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔

آپ میری رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر ہمارے معمولی معمولی سماجی رویئے ہیں جن کا غیر معمولی ظہور ہمارے سیاسی معاملات میں ہوتا ہے۔ عقیدے کبھی زیر بحث نہیں لائے جا سکتے۔ کیونکہ مکالمے کی بنیاد دلیل ہوتی ہے اور عقیدہ دلیل سے بالاتر ہوتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ خوشبو شہد اور کپڑے سے ہوتے ہوئے آتے ہیں اور سیاست پہ بھی اپنے عقیدے کا غلاف چڑھا دیتے ہیں۔ ہوتا کیا ہے؟ وہ چیزیں جو انسانوں کے بیچ قدرِ مشترک بن سکتی ہیں، وہ بھی تار تار ہو جاتی ہیں۔ پھر ظلم بھی شیعہ اور انصاف بھی سنی ہوجاتا ہے۔ پھر ظالم اور مظلوم کی تقسیم بھی عقیدے کی بنیاد پہ ہوتی ہے۔ قاتل کے سینے پہ عشق رسول کے تمغے سج جاتے ہیں اور مقتول کو کندھا دینے والا نہیں ملتا۔ اس پورے رویئے کا حاصل؟ تو بھی کافر میں بھی کافر۔ جو نہ مانے وہ بھی کافر۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “شیخ حرم نے دکان کھولی …. ’مذہب برائے فروخت‘

  • 23-02-2016 at 2:29 pm
    Permalink

    ویسے تو بیشتر “احرام” بھی چین میں تیار ہوتے ہیں لیکن روس میں تاتاروں نے کچھ زیادہ ہی کمال کیا ہوا ہے یعنی “حلیال تاکسی” ( اسلامی ٹیکسی) اور “حلیال کونفیتی” یعنی ” حلال یا اسلامی میٹھی گولیاں، ٹافیاں”۔ ان کے مطالب سنیے حلال ٹیکسی میں ڈرائیور نے ٹوپی اوڑھی ہوگی اور قرآنی کیسٹ سن رہا ہوگا۔ جہاں حلال گولیاں بنتی ہیں وہاں مزدور باوضو ہوتے ہیں اور شراب نہیں پیتے (کام کے دوران) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو فرنود صاحب یہ سب مارکیٹنگ گیمکس ہیں ۔ ۔ ۔ چلتا ہے ۔ ۔ ۔ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ اور تو اور یہاں “حلیال سیاحت” بھی ہے۔

    • 23-02-2016 at 6:33 pm
      Permalink

      آپ معاشرے کی اکائئ کو لے کر مجموعے پر کیوں حکم لگانے بیٹھ جاتے ہیں؟ مجھے اکثر ایسا لگتا ہے (ممکن ہے کہ میری سوچ غلط ہو) کہ آپ ایک مخصوص فرقے یا اس طرح کی تراش و خراش والوں کی بعض جزوی کمزوریاں ڈھونڈتے ہیں اور اس پر پھر خامہ فرسائی کرتے ہوئے پورے فرقے یا گروہ یا مجموعے لو لتاڑنا شروع کردیتے ہیں۔ اب یہ دیکھیں کہ کہیں یہ بھی تو لکھا ہوتا ہے ” طالب علموں کے لیے خصوصی رعایت” تو کیا اس موقع پر آپ کی سوئی کہیں نہیں اڑتی؟ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ٹرینڈ ہے۔ جس کو موقع ملتا ہے وہ لیبل لگا کر چیزیں بیچتا ہے اور اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔

      • 24-02-2016 at 10:00 am
        Permalink

        yes this is the whole point,, he can write far batter than this but criticizing any individual is far easier than making any creative writing..

  • 24-02-2016 at 9:58 am
    Permalink

    its just to fill the pages, noting new and nothing special to read..

  • 24-02-2016 at 2:52 pm
    Permalink

    اور یہ بھی دیکھیں کہ یہ حضرت اپنے سیکولرانہ نظریہ کوبنیاد بناکرصرف اسلامی معاشرت سے میل کھاتی اقدار پر ہی خامہ فرساِئی کرکے اپنے مغربی واشراقی آقاوں کو خوش کرنے کی کوشش میں کھجل ھو رھے ہیں ۔۔ کتنی ایسی برائیاں موجود ھیں جنکو نہ ھمارامعاشرہ قبول کرتا ھے اور نہ ھماری اقدار، لیکن ان جیسے موصوف الٹا انہی خبائث کی وکالت کرکے مذہبی طبقے کو ہی مطعون کرنے میں جوت دیے گئے ہیں۔

  • 24-02-2016 at 2:54 pm
    Permalink

    sirf ye nahe yahan thoo jab tak dukandar qeemath ke uper 3 qasmein na khaye bath poore nahe hotte

Comments are closed.